مختار نبیﷺ جنہوں نے اپنے حکم خاص سے ایک صحابی کے لیے شریعت کا اصول تبدیل کر دیا اور ایک صحابی کی گواہی کو دو اشخاص کی گواہی کے برابر درجہ دیاامام احمد اپنی مسند میں روایت لاتے ہیں :

21883 – حدثنا أبو اليمان، حدثنا شعيب، عن الزهري، حدثني عمارة بن خزيمة الأنصاري، أن عمه، حدثه وهو من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم: أن النبي صلى الله عليه وسلم ابتاع فرسا من أعرابي، فاستتبعه النبي صلى الله عليه وسلم ليقضيه ثمن فرسه، فأسرع النبي صلى الله عليه وسلم المشي، وأبطأ الأعرابي، فطفق رجال يعترضون الأعرابي فيساومون بالفرس، لا يشعرون أن النبي صلى الله عليه وسلم ابتاعه، حتى زاد بعضهم الأعرابي في السوم على ثمن الفرس الذي ابتاعه به النبي صلى الله عليه وسلم، فنادى الأعرابي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن كنت مبتاعا هذا الفرس فابتعه، وإلا بعته. فقام النبي صلى الله عليه وسلم حين سمع نداء الأعرابي، فقال: ” أوليس قد ابتعته منك؟ ” قال الأعرابي: لا والله ما بعتك. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ” بلى قد ابتعته منك ” فطفق الناس يلوذون بالنبي صلى الله عليه وسلم والأعرابي وهما يتراجعان، فطفق الأعرابي يقول: هلم شهيدا يشهد أني بايعتك، فمن جاء من المسلمين قال للأعرابي: ويلك إن النبي صلى الله عليه وسلم لم يكن ليقول إلا حقا. حتى جاء خزيمة لمراجعة النبي صلى الله عليه وسلم ومراجعة الأعرابي، فطفق الأعرابي يقول: هلم شهيدا يشهد أني بايعتك. قال خزيمة: أنا أشهد أنك قد بايعته. فأقبل النبي صلى الله عليه وسلم على خزيمة فقال: ” بم تشهد؟ ” فقال: بتصديقك يا رسول الله. فجعل النبي صلى الله عليه وسلم شهادة خزيمة شهادة رجلين(مسند احمد ، أخرجه أبو داود (3607) ، وابن أبي عاصم في “الآحاد والمثاني” (2085) و (2089) ، والطحاوي في “شرح معاني الآثار” 4/146، وفي “شرح مشكل الآثار” (4802) ، والطبراني 22/ (946) ، والحاكم 2/17-18، والبيهقي 10/145-146 من طريق أبي اليمان، بهذا الإسناد.

وأخرجه ابن سعد 4/378-379، والنسائي 7/301-302، والحاكم 2/17-18، والبيهقي 10/145-146، والخطيب في “الأسماء المبهمة” ص 120-121، وابن بشكوال في “الأسماء المبهمة” ص 359-360)صحابی رسول عمارہ بن خزیمہ کے چچا (خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی (دیہاتی) سے ایک گھوڑا خریدا، اور اس سے پیچھے پیچھے آنے کو کہا تاکہ وہ اپنے گھوڑے کی قیمت لے لے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور اعرابی سست رفتاری سے چلا، لوگ اعرابی سے پوچھنے لگے اور گھوڑا خریدنے کے لیے (بڑھ بڑھ کر قیمتیں لگانے لگے) انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے خرید چکے ہیں، یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اس سے زیادہ قیمت لگا دی جتنے پر آپ نے اس سے خریدا تھا، اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا، اگر آپ اس گھوڑے کو خریدیں تو ٹھیک ورنہ میں اسے بیچ دوں، آپ نے جب اس کی پکار سنی تو ٹھہر گئے اور فرمایا: ”کیا میں نے اسے تم سے خریدا نہیں ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں نے اسے آپ سے بیچا نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے تم سے خرید چکا ہوں“ ۱؎، اب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اعرابی کے اردگرد اکٹھا ہونے لگے، دونوں تکرار کر رہے تھے، اعرابی کہنے لگا: ”گواہ لائیے جو گواہی دے کہ میں اسے آپ سے بیچ چکا ہوں“، خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اسے بیچ چکے ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم گواہی کیسے دے رہے ہو“؟ انہوں نے کہا: آپ کے سچا ہونے پر یقین ہونے کی وجہ سے ۲؎، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا۔سند صحیح

سندکے رجال کی تحقیق:پہلا راوی ابو یمان ثقہ ثبت امام ہیں

امام ذھبی فرماتے ہیں امام الحافظ الحجت ابو الیمان الحکم77 – أبو اليمان الحكم بن نافع البهراني الحمصي * (ع)

الحافظ، الإمام، الحجة، أبو اليمان البهراني، الحمصي، مولى امرأة بهرانية تدعى أم سلمة، كانت عند عمر بن روبة التغلبي.

ولد: في حدود سنة بضع وثلاثين ومائة، وطلب العلم سنة بضع وخمسين.

فروى عن: صفوان بن عمرو، وحريز بن عثمان، وأبي بكر بن أبي مريم، وشعيب بن أبي حمزة، وسعيد بن عبد العزيز، وعفير بن معدان، وأرطاة بن المنذر، وإسماعيل بن عياش، ويزيد بن سعيد بن ذي عصوان، وأبي مهدي سعيد بن سنان، وطائفة، وما علمت له رحلة.

حدث عنه: أحمد، وابن معين، ومحمد بن يحيى، وعمرو بن منصور النسائي، وعبيد الله بن فضالة، وعمران بن بكار، وأبو محمد الدارمي، وأبو عبد الله البخاري، وعثمان الدارمي، وأبو حاتم، ومحمد بن عوف، وأبو زرعة الدمشقي، ومحمد بن إسماعيل الترمذي، وموسى بن عيسى بن المنذر، وعلي بن محمد الحكاني، وأحمد بن الفرات، وخلق س

(سیر اعلام النبلاء برقم:۷۷)دوسرا راوی شعیب بن ابی حمزہ

امام ذھبی فرماتے ہیں متقن ثقہ الامام65 – شعيب بن أبي حمزة دينار أبو بشر الأموي * (ع)

الإمام، الثقة، المتقن، الحافظ، أبو بشر الأموي مولاهم، الحمصي، الكاتب.

واسم أبيه: دينار.

سمع: الزهري – فأكثر – ونافعا، وعكرمة بن خالد، ومحمد بن المنكدر،

(سیر اعلام النبلاء)تیسرے راوی امام زہری جو متفقہ طور پر ثقہ ہیں

160 – أخبار الزهري محمد بن مسلم بن عبيد الله * (ع)

ابن عبد الله بن شهاب بن عبد الله بن الحارث بن زهرة بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب، الإمام، العلم، حافظ زمانه، أبو بكر القرشي، الزهري، المدني، نزيل الشام.

روى عن: ابن عمر، وجابر بن عبد الله شيئا قليلا، ويحتمل أن يكون سمع منهما، وأن يكون رأى أبا هريرة وغيره، فإن مولده فيما قاله دحيم وأحمد بن صالح: في سنة خمسين، وفيما قاله خليفة بن خياط: سنة إحدى وخمسين.صحابی رسول عمارہ بن خزیمہ یہ صحابی رسول ہیں

اور انکے چچا خزیمہ بن ثابتٍٍ صحابی رسول ہیں تحقیق: دعاگواسد الطحاوی الحنفی البریلوی