باب السترۃ

سُترہ کا بیان(آڑ) ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ سترہ سُترٌ سے بنا ہے،بمعنی ڈھانپنا۔سترہ کے لغوی معنی ہیں چھپانے والی چیز یعنی آڑ۔شریعت میں سترہ وہ چیز ہے جو نمازی اپنے سامنے رکھے تاکہ اس سترہ کے پیچھے سے لوگ گزرسکیں ، اس کی لمبائی کم از کم ایک ہاتھ(۲/۱ ۱ فٹ)اور موٹائی ایک انگل چاہیے۔ بغیر سترہ نمازی کے آگے سے گزرنا حرام مگر حرم شریف کی مسجد میں جائز ہے۔مرقات نے فرمایا کہ اگر صف اول میں لوگوں نے خالی جگہ چھوڑ ی ہو تو بعد میں آنے والا صفوں کے سامنے سے گزرتا ہوا وہاں پہنچے اور جگہ پر کرے کیونکہ اس میں قصور جماعت والوں کا ہے نہ کہ اس کا۔

حدیث نمبر 1 (729)

روایت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت عید گاہ تشریف لے جاتے ۱؎ آپ کے سامنے نیزہ لے جایا جاتا اور آپ کے آگے عید گاہ میں گاڑ دیا جاتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف نماز پڑھےج۲؎(بخاری)

شرح

۱؎ نماز عیدین کے لیے عیدالاضحی کے لیے بہت جلدی تاکہ بعد میں قربانیاں کی جاسکیں اور عید الفطر میں کچھ دیر سے تاکہ مسلمان کچھ کھا کر اور فطرہ ادا کرکے آسانی سے پہنچ سکیں۔اس سے معلوم ہوا کہ عید کی نماز جنگل میں پڑھنا سنت ہے اگرچہ شہر میں بھی جائز ہے۔

۲؎ تاکہ گزرنے والوں کو سامنے سے گزرنے میں رکاوٹ نہ ہو اس زمانہ میں عید گاہ کی عمارت نہ تھی، میدان میں نماز پڑھی جاتی تھی۔