غیر مسلم سے محفل میلاد میں خطاب کرانا

محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم !

سوال: ہمارے شہر کھڈروضلع سانگھڑ میں میلادالنبی ﷺکے جلوس میں انتظامیہ نے ایک غیر مسلم ڈاکٹر اشوک کمار سے تقریر کروائی ہے ، اس کا شرعی حکم بیان کیجیے ،(حافظ محمد ملوک سکندری ،سانگھڑ )۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اَلْجَوَاب بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَہَّاب

ہمارے نزدیک اپنی دینی مجالس میں کسی کو اسٹیج پر بلانا اور خطاب کی دعوت دینا اِکرام کی ایک صورت ہے اور شرعی ضرورت کے بغیر غیر مسلم کا اکرام جائز نہیں ہے،البتہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے دینی حکمت اور سدِّ ذرائع کے طور پر غیرمسلموں کے مذہبی پیشوائوں کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ كَذَٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ‘‘۔

ترجمہ:’’ اور(اے مسلمانو!)جن کی اللہ کے سوا یہ عبادت کرتے ہیں، تم انہیں برا نہ کہو،مَبادا کہ وہ جہالت کے سبب (ردِّعمل میں) سرکشی کرتے ہوئے اللہ کی شان میں بے ادبی کریں ،اِسی طرح ہم نے ہرقوم کے لیے اس کا عمل دلکش بنادیا ہے ،پھر انہیں اپنے رب کی طرف ہی لوٹنا ہے ،پھر وہ انہیں بتائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے ، (الانعام:108)‘‘۔

ہمارے ہاں غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات میں شرکت کرنا اوراُن کے شِعار کو اختیار کرناایک فیشن بنتا جارہا ہے ، ہمارے سیاسی رہنما بھی اسے اختیار کرتے ہیں ،مثلاً:ہندؤں کی دیوالی ، مسیحیوں کے کرسمس اورسکھوں کے گردواروں میں ان کی مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے اور اُن کی وضع اختیار کرنے کو مذہبی رواداری کا پرکشش عنوان دیاجاتا ہے۔

بین المذاہب مکالمے میں شرکت الگ بات ہے، بعض اوقات اس کی افادیت بھی ہوتی ہے ،خاص طور پر غیر مسلم ممالک میں مسلمان اپنے تاثر کو بہتر بنانے یا مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمیوں اورجھوٹے پروپیگنڈے کا ازالہ کرنے یا مشترکہ انسانی اقدار پر بات کرنے کے حوالے سے بھی اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، لہٰذا اس کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ چونکہ ہمارا لبرل میڈیا اور غیر مسلم دنیا مسلسل پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں ، جبر کا شکار ہیں ، اس لیے ہمارے ہاں اپنے آپ کو لبرل ثابت کرنے کا شوق بہت زیادہ ہے، اگرچہ سب کچھ کرنے کے باوجود دنیا ہم پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے۔

ہمارے ہاں مشاعروں میں بھی حضور کی نعت لکھنے والے غیر مسلم شاعروں کو بلانے کا رواج ہے اور ان کی پذیرائی بھی کی جاتی ہے، ہوسکتا ہے وہ اخلاقی اقدار کے اعتبار سے حضور ﷺ کو پسند کرتے ہوں، واللہ اعلم بالصواب، لیکن میرے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ سید المرسلین ﷺ سے اس قدر محبت کرتے ہیں اور آپ کی صفاتِ عالیہ کے اتنے ہی قدر دان ہیں ،تو وہ آپ پر ایمان کیوں نہیں لے آتے، میرے نزدیک تو آپ ﷺ سے محبت اور آپ ﷺ پر ایمان لازم وملزوم ہیں ،لیکن میں نے جلسوں میں معروف خطیبوں کو کنور مہندر سنگھ بیدی کا یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا ہے:

عشق ہو جائے کسی سے، کوئی چارہ تو نہیں

صرف مسلم کا ،محمد پہ اجارہ تو نہیں

اس سے ایک تاثر یہ پیدا ہوتا ہے کہ سید المرسلین ﷺ پر ایمان لائے بغیر بھی آپ سے محبت کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح وحدتِ ادیان کی تحریکات بھی چلتی رہتی ہیں اور ان کے پیچھے عالمی قوتوں کی سرمایہ کاری بھی ہوتی ہے ،اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر دینی تصلّب کو کمزور کیا جائے اور اس تاثر کے ساتھ ایک خود ساختہ مذہبِ انسانیت(Humanism) کو فروغ دیا جائے کہ انسان ذہنی اور فکری ارتقاء کے اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ اب وہ الہامی ہدایت سے بے نیاز ہے اور اپنے خیر وشر کا خود فیصلہ کرسکتا ہے۔

میلاد النبی ﷺ کی مجلس میں میرے نزدیک غیر مسلم کو بلانا مناسب نہیں ہے، لیکن جن لوگوں نے یہ کیا ہے ،نزاع میں الجھنے کے بجائے اَحسن طریقے سے اُنہیں سمجھانا چاہیے اور اَئمہ وخُطباء کو چاہیے کہ مناسب انداز میں اپنے خطبات میں بارگاہِ نبوی ﷺ اور مجالسِ سیرت ومیلاد کے آداب بتائیں ۔آج کل بین المذاہب ہم آہنگی کے عنوان کو مغربی سفارت خانوں سے قربت کا ذریعہ بھی بنایا جاتا ہے ، اس لیے یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ آیا اس طرح کے اقدامات کے محرکات کیا ہیں۔اسلام نے سماجی زندگی میں غیر مسلموں کے ساتھ مدارات اور رواداری کو روا رکھا ہے ،البتہ دینی اُمور میں بے جا رعایت کو مُداہَنَت، مطلب براری اور چاپلوسی سے تعبیر کیاہے ،ظاہر ہے کہ اِس کا مُحرّک طمع یاخوف ہوتاہے ،اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔سماجی اعتبار سے پڑوسی اگر غیر مسلم بھی ہو تو اس کے حق ہمسائیگی کو ہمارے فقہائے کرام نے تسلیم کیاہے ، اسی طرح بوقتِ ضرورت زکوٰۃ کاایک مصرف ’’تالیفِ قلب‘‘ بھی رکھاہے ،یعنی کسی کو حسنِ سلوک سے دین ِ اسلام قبول کرنے کی طرف مائل کیاجاسکتا ہوتو اس کی گنجائش موجود ہے ۔

امام احمد رضا قادری قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَزِیْز لکھتے ہیں: ’’اور غیرمسلم کو مسلمانوں کا واعظ بناکر اس کا بیان سننا شدید ترین کبیرہ گناہ اور اسلام کی بدخواہی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’رِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا‘‘۔

ترجمہ: ’’پھر چاہتے ہیںکہ وہ شیطان کو اپنافیصل بنائیں اور ان کو تو حکم یہ تھا کہ اسے اصلاً نہ مانیں اورابلیس یہ چاہتاہے کہ انھیں دور بہکا دے،(النسا:60)‘‘، (فتاویٰ رضویہ ،جلد15،ص:101،بتصرُّف)‘‘۔

امام احمد رضا قادری قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَزِیْز کا قدرے تفصیلی فتویٰ :فتاویٰ رضویہ، جلد:23،صفحات:733-34پر ہے، اس میں مسلمان فاسق وفاجر کو بھی مسند پر بٹھا کر اس سے میلاد پڑھوانے کو حرام لکھاہے اور ’’تبیین الحقائق ‘‘ اور دیگر کُتُب فتاویٰ کے حوالے سے لکھاہے : ’’فاسق کوامامت کے لیے آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے ،حالانکہ شرعاً اس کی اہانت واجب ہے ‘‘۔اس میں فاسق وفاجر ،مبتدع ، بے عمل وبد عمل نعت خوانوں اور پیروں کو رونق محفل بناکر ان کی تکریم کرنے والوں کے لیے تنبیہ کاوافرسامان موجود ہے ۔