حکایت نمبر269: مامون کی ذَہانت

حضرت عبداللہ بن محمود فرماتے ہیں: میں نے قاضی یحیی بن اَکْثَمْ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ”میں نے مامون الرشید سے زیادہ فہیم و تجربہ کار شخص کوئی نہیں دیکھا ۔ ایک رات میں مامون الرشید کے ساتھ احادیث اور دیگر مسائل کاتکرار کر رہا تھا۔ اس پر نیند کا غلبہ ہوا اور وہ سوگیا۔ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ گھبراکر اُٹھ بیٹھا اور مجھ سے کہا: اے یحیی! دیکھو میرے پاؤں کے پاس کوئی چیز ہے ؟ میں نے دیکھا تومجھے کوئی چیز نظر نہ آئی، میں نے کہا: یہاں کوئی چیز نہیں، شاید! آپ کا وَہم ہے۔ میرے اس جواب سے وہ مطمئن نہ ہوا اور خادموں کو بلا کر کہا:” میرے بستر کو اچھی طر ح دیکھو کہ اس میں کوئی موذی شئے تو نہیں ؟” خادموں نے جب بستر اُٹھایا تو اس کے نیچے ایک سانپ نکلا جسے خادموں نے مار ڈالا ۔

میں نے مامون الرشید سے کہا :” ویسے ہی آپ ہر فن میں ماہر اور جامعِ کمالات ہیں، اب توآپ کی طرف غیب جاننے کی نسبت بھی کی جاسکتی ہے ۔ مامون الرشید نے کہا:” معاذاللہ عَزَّوَجَلَّ !مجھ میں ایسی کوئی بات نہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ جب میں سویا توہاتفِ غیبی سے میں نے یہ آواز سنی:

؎ یَا رَا قِدَ الْلَیْلِ اِنْتَبِہْ اِنَّ الْخَطُوْبَ لَھَا سُرَی

ثِقَۃُ الْفَتٰی بِزَمَانِہٖ ثِقَۃُ مُحَلِّلَۃُ الْعُرَی

ترجمہ: اے سونے والے! بیدارہوجا! بے شک مصیبتیں رات ہی میں آتی ہیں۔نوجوان کا اپنے زمانے پر اعتماد کرنا آفت و مصیبت پر اعتماد کرنا ہے۔

یہ اشعار سن کر میری آنکھ کھل گئی اور میں سمجھ گیا کہ ابھی یاکچھ دیر بعد کوئی بڑا معاملہ پیش ہونے والا ہے، لہٰذا میں نے اپنے ارد گر د کا جائز ہ لیا تو جو کچھ ہوا وہ سب تو نے دیکھ لیا۔”