أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَوۡرَثۡنَا الۡـقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِىۡ بٰرَكۡنَا فِيۡهَا‌ ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِىۡۤ اِسۡرَاۤءِيۡلَۙ بِمَا صَبَرُوۡا‌ ؕ وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جس قوم کو کمزور سمجھا جاتا تھا اس کو ہم نے اس سرزمین کے مشارق اور مغارب کو وارث بنادیا جس میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں، اور بنو اسرائیل پر آپ کے رب کا بھلائی پہنچانے کا وعدہ پورا ہوگیا کیوں کہ انہوں نے صبر کیا تھا، اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کی بنائی ہوئی عمارتوں اور ان کی چڑھائی ہوئی بیلوں کو تباہ و برباد کردیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور جس قوم کو کمزور سمجھا جاتا تھا اس کو ہم نے اس سرزمین کے مشارق اور مغارب کو وارث بنادیا جس میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں، اور بنو اسرائیل پر آپ کے رب کا بھلائی پہنچانے کا وعدہ پورا ہوگیا کیوں کہ انہوں نے صبر کیا تھا، اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کی بنائی ہوئی عمارتوں اور ان کی چڑھائی ہوئی بیلوں کو تباہ و برباد کردیا “

بنو اسرائیل کو شام پر قابض کرنا : 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنواسرائیل سے فرمایا تھا : عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا اور تم کو زمین میں ان کا جانشین بنا دے گا (الاعراف :129) اور یہاں جب اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ اس نے قوم فرعون کو سمندر میں غرق کرکے اس کو سزا دے دی ہے اور مومنین کو یہ بھلائی پہنچائی کہ ان کو برکتوں والی سرزمین کا وارث بنادیا۔ 

فرمایا : جس قوم کو کمزور سجھا جاتا تھا اس کو ہم نے اس سرزمین کے مشارق اور مغارب کا وارث بنادیا جس میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں۔ بنو اسرائیل کو اس لیے کمزور سمجھا جاتا تھا کہ فرعون ان کے بیٹوں کو قتل کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا، اور ان سے جزیہ لیتا تھا اور ان سے سخت مشکل اور دشوار کام بہ طور بیگار کراتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشارق اور مغارب کا وارث بنادیا۔ 

وہ سرزمین جس کے مشرق اور مغرب میں اللہ تعالیٰ نے برکتیں رکھی ہیں اس کا مصداق کون سی زمین ہے ؟ 

امام عبدالرزاق متوفی 211 ھ، امام ابن جریر متوفی 310 ھ اور امام ابن ابی حاتم متوفی 327 ھ نے لکھا ہے اس سے مراد سرزمین شام ہے۔ (تفسیر امام عبدالرزاق ج 1، ص 321، جامع البیان جز 9، ص 58، تفسیر امام ابن ابی حاتم ج 5، ص 1551)

حافظ سیوطی متوفی 911 ھ نے امام عبد بن حمید، امام ابن المنذر اور امام ان عساکر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس سے مراد سرزمین شام ہے۔ (تفسیر امام عبدالرزاق ج 1، ص 321، جامع البیان جز 9، ص 58، تفسیر امام ابن ابی حاتم ج 5، ص 1551)

حافظ سیوطی متوفی 911 ھ نے امام عبد بن حمید، امام ان المنذر اور امام ابن عساکر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس سے مراد سرزمین شام ہے۔ (الدرر المنثور ج 3، ص 526، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

امام فخر الدین رازی متوفی 606 ھ نے لکھا ہے اس سے مراد شام اور مصر ہے۔ کیونکہ مصر ہی فرعون لعنہ اللہ کے قبضہ اور تصرف میں تھا اور جس سرزمین میں اللہ تعالیٰ نے برکتیں رکھی ہیں اس کا مصداق صرف شام ہے۔ (تفسیر کبیر ج 5، ص 348، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں : 

اس سرزمین سے مراد ” ارض مقدسہ ” ہے۔ جس کے متعلق فرعون سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ وہ بنو اسرائیل کو اس زمین میں لے جانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ سرزمین ان کے باپ دادا کا وطن ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے بنو اسرائیل سے وعدہ کیا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ ان کے دشمن کو ہلاک کردے گا تو وہ ان کو اس سرزمین میں لے جائیں گے جہاں ان کے باپ دادا رہتے تھے یا عمالقہ کی ہلاکت کے بعد ان کو اس سرزمین میں منتقل کردیا جائے گا کیونی کہ اس وقت وہ سرزمین عمالقہ کے قبضہ میں تھی۔ (روح المعانی جز 9، ص 37، طبع بیروت)

خلاصہ یہ ہے کہ فرعون کی ہلاکت کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل کو مصر میں متمکن کیا اور عمالقہ کی شکست کے بعد ان کو شام میں متمکن کردیا اور ان کے باپ دادا کا وطن شام تھا۔ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) بھی ان کے آباء میں سے تھے جنہوں نے مصر میں رہائش اختیار کرلی تھی، یعنی مصر اور شام دونوں ان کے باپ دادا کے وطن تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان دوں ملکوں کا بتدریج وارث کیا پہلے مصر کا اور پھر شام کا۔ یہ سرزمین ظاہری اور باطنی برکتوں سے مالا مال تھی۔ ظاہری برکت یہ تھی کہ یہ زمین زرخیز تھی۔ باغات کی کثرت اور پانی کی فراوانی تھی اور باطنی برکت یہ تھی کہ شام میں کثیر انبیاء کی قبریں تھیں اور مصر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قبر تھی۔

سید ابو الاعلی مودودی نے لکھا ہے کہ بنو اسرائیل کو سرزمین فلسطین کا وارث بنادیا گیا تھا۔ (تفہیم القرآن ج 2، ص 74، مطبوعہ لاہور)

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی 911 ھ لکھتے ہیں : 

امام ابن ابی حاتم، امام عبد بن حمید، امام ابن جریر، امام ابن المنذر، امام عبدالرزاق، امام ابو الشیخ اور امام ابن عساکر نے لکھا ہے اس سرزمین سے مراد شام ہے۔ 

امام ابو الشیخ نے عبداللہ بن شوذب سے روایت کیا ہے کہ اس سے مراد سرزمین فلسطین ہے۔

سرزمین شام کی فضیلت کے متعلق احادیث :

امام ابن ابی شیبہ، امام احمد، امام ترمذی، امام رویانی، امام ابن حبان، امام طبرانی اور امام حاکم نے تصحیح سند کے ساتھ حضرت زید بن ثابت (رض) سے روایت کیا ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد بیٹھے ہوئے کپڑوں کے ٹکڑوں پر قرآن مجید کو جمع کر رہے تھے، اچانک آپ نے فرمایا : شام کے لیے خیر اور سعادت ہو۔ آپ سے پوچھا گیا کس لیے ؟ آپ نے فرمایا : رحمن کے فرشتے ان پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔ 

امام احمد، امام ابو داود، امام ابن حبان اور امام حاکم نے حضرت عبداللہ بن حوالہ الازدی سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب تم مختلف لشکر دیکھو گے ایک لشکر شام میں، ایک لشکر عراق میں اور ایک لشکر یمن میں۔ حضرت حوالہ نے کہا : یارسول اللہ ! میرے لیے کوئی جگہ منتخب کیجیے، آپ نے فرمایا : تم شام میں لازماً رہو اور جو وہاں نہ رہے وہ اس کی دائیں جانب رہے اور جو وہاں عہد شکنی کرے اس کو نکالے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کی ضمانت دی ہے۔ 

امام ابن عساکر نے واثلہ بن الاسقع سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم شام میں لازماً رہو وہ اللہ کے شہروں میں سب سے زیادہ فضیلت والا ہے، اس میں اللہ کے سب سے زیادہ نیک بندے رہتے ہیں اور جو وہاں نہ رہ سکے وہ اس میں اللہ کے سب سے زیادہ نیک ندے رہتے ہیں اور جو وہاں نہ رہ سکے وہ اس کی دائیں جانب رہے اور جو وہاں عہد شکنی کرے اس کو نکالے۔ کیونکہ اللہ نے مجھے شام اور اہل شام کی ضمانت دی ہے۔ 

امام حاکم نے سند صحیح کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ہر ایمان والا شام میں چلا جائے گا۔ 

امام ابن ابی شیبہ نے حضرت ابو ایوب انصاری (رض) سے روایت کیا ہے کہ رعد، برق اور برکتیں شام کی طرف ہجرت کریں گی۔ 

امام ابن ابی شیبہ نے کعب سے روایت کیا ہے کہ تمام شہروں میں اللہ کا محبوب شہر شام ہے اور شام میں محبوب قدس ہے اور قدس میں محبوب نابلس پہاڑ ہے۔ 

امام احمد اور امام ابن عساکر نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ہمارے شام اور یمن میں برکت دے۔ مسلمانوں نے کہا : اور ہمارے نجد میں، آپ نے فرمایا : وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے اور وہیں سے شیطان کا سینگھ طلوع ہوگا۔ (الدرر المنثور ج 3، ص 528 ۔ 530، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1414 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 137