أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَجَاوَزۡنَا بِبَنِىۡۤ اِسۡرَاۤءِيۡلَ الۡبَحۡرَ فَاَ تَوۡا عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰٓى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ‌ ۚ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى اجۡعَلْ لَّـنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ‌  ؕ قَالَ اِنَّكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے بنو اسرائیل کو سمندر کے پار اتار دیا تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرے جو اپنے بتوں کے سامنے آسن جمائے (معتکف) بیٹھے تھے تو انہوں نے کہا اے موسیٰ ہمارے لیے بھی ایک ایسا معبود بنا دیجیے جیسے ان کے معبود ہیں، موسیٰ نے کہا بیشک تم جہالت کی باتیں کرتے ہو

تفسیر:

138 ۔ تا۔ 141:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور ہم نے بنو اسرائیل کو سمندر کے پار اتار دیا تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرے جو اپنے بتوں کے سامنے آسن جمائے (معتکف) بیٹھے تھے تو انہوں نے کہا اے موسیٰ ہمارے لیے بھی ایک ایسا معبود بنا دیجیے جیسے ان کے معبود ہیں، موسیٰ نے کہا بیشک تم جہالت کی باتیں کرتے ہو۔ بیشک جس کام میں یہ لوگ مصروف ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ سراسر غلط ہے۔ اور موسیٰ نے کہا کیا میں اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں (اس زمانہ میں) سب جہان والوں پر فضیلت دی ہے۔ اور (اے بنو اسرائیل ! ) یاد کرو جب ہم نے تم کو فرعون کے متبعین سے نجات دے دی جو تم کو برا عذاب دیتے تھے، وہ تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بہت سخت آزمائش تھی “

مشکل اور اہم الفاظ کے معانی : 

جاوزنا : اس کا معنی ہے عبور کرنا۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا۔ اس آیت میں بائے تعدیہ ہے اس لیے اس کا معنی ہے عبور کرانا۔ 

یعکفون : عکوف کا معنی ہے کسی چیز کی طرف متوجہ ہونا اور بہ طور تعظیم کے اس کو لازم پکڑ لینا۔ الاعتکاف کا شرعی معنی ہے عبادت کی نیت سے مسجد میں قیام کرنا۔ 

اصنام : چاندی، پیتل یا کسی اور دھات سے یا مٹی یا لکڑی سے بنایا ہوا مجسمہ۔ مشرکین تقرب حاصل کرنے کے لیے ان کی عبادت کرتے تھے۔ یہ مجسمہ کبھی کسی انسان کی واقعی صورت کے مطابق بنایا جاتا ہے اور کبھی خیالی صورت کے مطابق بنایا جاتا ہے جیسے حضرت ابراہیم، حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کے خیالی مجسمے بنائے گئے ہیں۔ عبادت کی نیت سے ان کی تعظیم کرنا شرک ہے جیسے حضرت ابراہیم، حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کے خیالی مجسمے بنائے گئے ہیں۔ عبادت کی نیت سے ان کی تعظیم کرنا شرک ہے اور صرف تعظیم کے یلے یہ مجسمے یا تصاویر رکھنا حرام ہے جیسے بعض لوگ علاء اور مشائخ کی تصیریں تبرک اور تعظیم کی نیت سے رکھتے ہیں۔ بعض لوگ زینت (ڈیکوریشن) کے نیت سے انسانوں اور جانوروں کے مسمے رکھتے ہیں یہ عمل بھی حرام ہے۔ 

الہ : معبود۔

مناسبت اور ربط آیات : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل پر اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کردیا اور ان کی زمین کا ان کو وارث بنادیا۔ اس کے بعد ایک بہت بڑی نعمت کا ذکر فرمایا اور وہ یہ ہے کہ ان کو سلامتی کے ساتھ سمندر سے گزار دیا، اور دوسری سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے اس کی کیفیت بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سمندر کے پار پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک قوم بتوں کی عبادت کر رہی ہے تو انہوں نے جہالت سے کہا : اے موسیٰ ! ہمارے لیے بھی ایک ایسا معبود بنا دیجیے جیسے ان کے معبود ہیں۔

بنو اسرائیل نے کون سا سمندر پار کیا تھا اور کس جگہ کسی قوم کو بتوں کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا تھا ؟ 

جس قوم کے پاس سے بنو اسرائیل کا گزر ہوا تھا اس کے متعلق امام ابن جریر طبری متوفی 310 ھ لکھتے ہیں : 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی نے فرمایا : یہ قوم لخم تھی۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ کنعانیوں کی قوم تھی جس کے خلاف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتال کا حکم دیا گیا تھا۔ (جامع البیان جز 9، ص 61، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں : 

جس سمندر کو بنواسرائیل نے عبور کیا تھا اس کا نام ” بحر قلزم ” ہے۔ علامہ طبرسی نے مجمع لابیان میں لکھا ہے کہ یہ دریائے نیل تھا لیکن یہ غلط ہے جیسا کہ البحر المحیط میں ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دس محرم کو یہ سمندر عبور کیا تھا اور فرعون اور اس کا لشکر ہلاک ہوگیا تھا۔ اور بنواسرائیل اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ (روح المعانی ج 9، ص 40، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

شیخ محمد حفظ الرحمن سیوھاروی لکھتے ہیں : 

بنو اسرائیل نے بحر قلزم کو پار کرکے جس سرزمین پر قدم رکھا یہ عرب کی سرزمین تھی جو قلزم کے مشرق میں واقع ہے۔ یہ لق و دق بےآب وگیاہ میدان سے شروع ہوتی ہے جو تورات کی زبان میں بیابان میں شور، سین، وادی سینا (تیہ) کے نام سے مشہور ہے اور طور تک اس کا دامن وسیع ہے۔ یہاں شدید گرمی پڑتی ہے اور دور دور تک سبزہ اور پانی کا پتا نہیں۔ 

اس بات کا قطعی فیصلہ تو ناممکن ہے کہ وہ خاص مقام متین کیا جاسکے جس سے بنی اسرائیل گزرے اور سمندر کو عبور کرگئے تاہم قرآن اور تورات کی مشترک تصریحات و نصوص سے یہ متعین کیا جاسکتا ہے کہ بنو اسرائیل نے بحر قلزم (بحر احمر Read Sea) کے کسی کنارے اور دہانہ سے عبور کیا یا درمیانی کسی حصہ سے۔ بحر احمر در اصل بحر عرب کی ایک شاخ ہے جس کے مشرق میں سرزمین عرب واقع ہے اور مغرب میں مصر۔ شمال میں اس کی دو شاخیں ہوگئی ہیں ایک شاخ (خلیج عقبہ) جزیر نمائے سینا کے مشرق میں اور دوسری (خلیج سوئز) اس کے مغرب میں واقع ہے۔ یہ دوسری شاخ پہلی سے بڑی ہے اور شمال میں بڑی دور تک چلی گئی ہے، بنو اسرائیل اسی کے درمیان سے گزرے ہیں۔ اس شاخ کے شمالی دہانہ کے سامنے ایک اور سمندر واقع ہے جس کا نام بحر روم ہے اور بحر روم اور بحر احمر کے اس شمالی دہانہ کے درمیان تھوڑا سا خشکی کا حصہ ہے۔ یہی وہ راستہ تھا جہاں مصر سے فلسطین اور کنعان جانے والے کو بحر احمر عبور کرنا نہیں پڑتا تھا اور اس زمانہ میں یہ راہ قریب کی سمجھی جاتی تھی اور بنو اسرائیل نے بحکم الٰہی یہ راہ اختیار نہیں کی تھی۔ اب اس خشک زمین کو کھود کر بحر احمر کو بحر روم سے ملا دیا گیا ہے اور اس ٹکڑے کا نام نہر سوئز ہے اور بحر احمر کے شمالی دہانہ پر سوئز کے نام سے ایک زہر آباد ہے جو مصر کی بندرگاہ شمار ہوتا ہے (قصص القرآن ج 1، ص 477، 469 ۔ 471 ۔ مطبوعہ دار الاشاعت، کراچی) 

سید ابوالاعلی مودودی متوفی 1399 ھ لکھتے ہیں : 

بنو اسرائیل نے جس مقام سے بحر احمر کو عبور کیا وہ غالباً موجودہ سوئز اور اسماعیلیہ کے درمیان کوئی مقام تھا۔ یہاں سے گزر کر یہ لوگ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے کی طرف ساحل کے کنارے کنارے روانہ ہوئے۔ اس زمانہ میں جزیرہ نمائے سینا کا مغربی اور شمالی حصہ مصر کی سلطنت میں شامل تھا۔ جنوب کے علاقہ میں موجودہ شہر طور اور ابقزنیمہ کے درمیان تانبے اور فیروزے کی کانیں تھیں جن سے اہل مصر بہت فائدہ اٹھاتے تھے اور ان کانوں کی حفاظت کے لیے مصریوں نے چند مقامات پر چھاؤنیاں قائم کر رکھی تھیں۔ انہی چھاؤنیوں میں سے ایک چھاؤنی مفقہ کے مقام پر تھی جہاں مصریوں کا ایک بہت بڑا بت خانہ تھا جس کے آثار اب بھی جزیر نما کے جنوب مغربی علاقہ میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے قریب ایک اور مقام بھی تھا جہاں قدیم زمانہ سے سامی قوموں کی چاند دیوی کا بت خانہ تھا۔ غالباً انہی مقامات میں سے کسی کے پاس سے گزرتے ہوئے بنی اسرائیل کو، جن پر مصریوں کی غلامی نے مصریت زدگی کا اچھا خاصہ گہرا ٹھپہ لگا رکھا تھا، ایک مصنوعی خدا کی ضرورت محسوس ہوئی ہوگی۔ (تفہیم القرآن ج 2، ص 74 ۔ 75، مطبوعہ لاہور، 1402 ھ)

شرک کے فعل کا جہالت اور حماقت ہونا :

بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : ہمار لیے بھی ایک ایسا معبود بنا دیجیے جیسے ان کے معبود ہیں۔ ” یہ چیز ہدایت عقل کے خلاف ہے کہ جس چیز کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنائیں وہ حضرت موسیٰ کا، بنو اسرائیل کا اور تمام جہان کا خالق اور مدبر ہو کیونکہ جو اپنے بننے میں حضرت موسیٰ کا محتاج ہو وہ ان کا اور تمام جہان کا محتاج الیہ اور خالق کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم کیسی جہالت اور بےعقلی کی باتیں کرتے ہو۔ عبادت انتہائی تعظیم کو کہتے ہیں اور انتاہائی تعظیم کا مستحق وہ ہے جس نے انتہائی انعام کیا ہو اور جو اپنے وجود میں غیر کا محتاج ہو اس میں کسی پر انعام کرنے کی استطاعت کہاں سے ہوگی اور جن لوگوں کو تم بتوں کی عبادت کرتے ہوئے دیکھ رہے ہو ان کے افعال تباہ و برباد ہونے والے ہیں اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ سب غلط اور باطل ہے۔ 

بنو اسرائیل کی ناشکری اور احسان فراموشی : 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنو اسرائیل کی بتوں کی فرمائش کے جواب میں پہلے فرمایا : اپنے ہاتھوں سے اپنا خدا بنوانا جہالت کی بات ہے۔ پھر فرمایا : جن کو دیکھ کر تم فرمائش کر رہے ہو وہ سب تباہ و برباد ہونے والے ہیں۔ پھر تیسری بار فرمایا جو کچھ یہ بت پرست قوم کر رہی ہے وہ سراسر غلط ہے اور چوتھی بار ان کی حماقت پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا : کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں ؟ حالانکہ اس نے تم کو (اس زمانہ میں) سب پر فضیلت دی ہے ! یعنی اللہ نے تم پر یہ احسان کیا کہ اس نے تم کو سب جہانوں پر فضیلت دی اور تم اس کا جواب اس احسان فراموشی کے ساتھ دے رہے ہو کہ اللہ کو چھوڑ کر پتھر کی بنائی ہوئی مورتیوں کی پرستش کرنا چاہتے ہو ! بنو اسرائیل کی فضیلت یہ تھی کہ ان کے دین کو ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک اور اہم اور بڑی نعمت اور احسان کا ذکر کیا جبکہ انہیں فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلائی جو کوئی سو سالوں سے ان پر طرح طرح کے ظلم کر رہے تھے۔ سو فرمایا : اور یاد کرو (اے بنو اسرائیل ! ) جب ہم تم کو فرعون کے متبعین سے نجات دے دی جو تم کو برا عذاب دیتے تھے، وہ تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بہت سخت آزمائش تھی سو کتنے افسوس اور شرم کی بات ہے کہ جیسے ہی تم فرعون سے نجات پا کر سلامتی سے سمندر پار پہنچے اور آزاد فضا میں سانس لیا تو تم اللہ کا ان نعمتوں پر شکر کرنے کے بجائے اس کی عبادت میں شریک بنانے کے لیے فرمائشیں کرنے لگے ! 

واضح رہے کہ بت پرستی کے لیے معبود بنانے کا مطالبہ تمام اسرائیلیوں نے نہیں کیا تھا بلکہ بعض ناشکروں نے کیا تھا۔ 

کسی مسلمان موحد کو مشرک قرار دینے کا بطلان : 

بعض لوگ مطلقاً یار سول اللہ ! کہنے کو شرک کہہ دیتے ہیں۔ حالانکہ شرک اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی عطا کے بغیر از خود اپنی طاقت سے سنتے ہیں، از خود اللہ کے اذن کے بغیر مدد کرتے ہیں، آپ خود موجود اور بصیر ہیں اور آپ کو از خود علم حاسل ہے اور اگر آپ اللہ کی دی ہوئی طاقت سے ان اوصاف سے متصف ہوں تو شرک کیسے ہوگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تو بنو اسرائیل کو اس وقت بھی مشرک نہیں کہا جب وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادیں جس کی ہم عبادت کریں۔ حالانکہ اس سے بڑا شرک اور کیا ہوگا ! بلکہ صرف یہی فرمایا تم کیسی جہالت کی باتیں کرتے ہو اور یہ لوگ یا رسول اللہ ! کہنے والے کلمہ گو مسلمانوں کو مشرک کہتے ہیں حالانکہ جو مسلمان کلمہ پڑھتے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کا بندہ کہتے ہیں وہ آپ کے متعلق یہ کیسے عقیدہ رکھ سکتے ہیں کہ آپ از خود سنتے ہیں یا از خود جانتے ہیں بلکہ وہ یہ عقیدہ رکھ سکتے ہیں کہ آپ از خود سنتے ہیں یا از خود جانتے ہیں بلکہ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ کے تمام اوصاف اور کمالات عطائی ہیں۔ اس پر کسی نے یہ معارضہ کیا کہ پھر تو آپ کو عطائی خدا کہنا بھی صحیح ہوگا لیکن یہ محض مغالطہ آفرینی ہے کیونکہ خدا قدیم اور واجب الوجود ہوتا ہے وہ عطائی نہیں ہوسکتا۔ اس کے برخلاف علم، قدرت اور اختیار عطائی ہوسکتے ہیں اور ہیں، ہمیں علم اور اختیار ہماری حیثیت سے عطا کیا گیا اور انبیاء (علیہم السلام) کو ان کے مقام کے اعتبار سے علم اور اختیار عطا کیا گیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 138