وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاؕ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَاؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ(۸۵)

اور مَدیَن کی طرف ان کی برادری سے شعیب کو بھیجا (ف۱۵۸) کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی(ف۱۵۹) تو ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کی چیزیں گھٹا کر نہ دو (ف۱۶۰) اور زمین میں ا نتظام کے بعد فساد نہ پھیلاؤ یہ تمہارا بھلا ہے اگر ایمان لاؤ

(ف158)

حضرت شُعیب علیہ السلام نے ۔

(ف159)

جس سے میری نبوّت و رِسالت یقینی طور پر ثابت ہوتی ہے ، اس دلیل سے معجِزہ مراد ہے ۔

(ف160)

ان کے حق دیانت داری کے ساتھ پورے پورے ادا کرو ۔

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًاۚ-وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ۪-وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ(۸۶)

اور ہر راستہ پر یوں نہ بیٹھو کہ راہ گیروں کو ڈراؤ اور اللہ کی راہ سے انہیں روکو (ف۱۶۱) جو اس پر ایمان لائے اور اس میں کجی چاہو(ٹیڑھا راستہ ڈھونڈو) اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے اس نے تمہیں بڑھا دیا (ف۱۶۲) اور دیکھو (ف۱۶۳) فسادیوں کا کیسا انجام ہوا

(ف161)

اور دین کا اِتّباع کرنے میں لوگوں کے لئے سدِّ راہ نہ بنو ۔

(ف162)

تمہاری تعداد زیادہ کردی تو اس کی نعمت کا شکر کرو اور ایمان لاؤ ۔

(ف163)

بہ نگاہِ عبرت پچھلی اُمّتوں کے احوال اور گزرے ہوئے زمانوں میں سرکشی کرنے والوں کے انجام و مآ ل دیکھو اور سوچو ۔

وَ اِنْ كَانَ طَآىٕفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآىٕفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَاۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ(۸۷)

اور اگر تم میں ایک گروہ اس پر ایمان لایا جو میں لے کر بھیجا گیا اور ایک گروہ نے نہ مانا (ف۱۶۴) تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ اللہ ہم میں فیصلہ کرے (ف۱۶۵) اور اللہ کا فیصلہ سب سے بہتر (ف۱۶۶)

(ف164)

یعنی اگر تم میری رسالت میں اختلاف کرکے دو فرقے ہوگئے ایک فرقے نے مانا اور ایک منکِر ہوا ۔

(ف165)

کہ تصدیق کرنے والے ایمانداروں کو عزّت دے اور انکی مدد فرمائے اور جھٹلانے والے منکرین کو ہلاک کرے اور انہیں عذاب دے ۔

(ف166)

کیونکہ وہ حاکمِ حقیقی ہے ۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَاؕ-قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫(۸۸)

اس کی قوم کے متکبر سردار بولے اے شعیب قسم ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین میں آجاؤ کہا (ف۱۶۷) کیا اگرچہ ہم بیزار ہوں(ف۱۶۸)

(ف167)

حضرت شُعیب علیہ السلام نے ۔

(ف168)

حاصل مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارا دین نہ قبول کریں گے اور اگر تم نے ہم پر جبر کیا جب بھی نہ مانیں گے کیونکہ ۔

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَاؕ-وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَاؕ-وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًاؕ-عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَاؕ-رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ(۸۹)

ضرور ہم اللہ پر جھوٹ باندھیں گے اگر تمہارے دین میں آجائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے بچایا ہے (ف۱۶۹) اور ہم مسلمانوں میں کسی کا کام نہیں کہ تمہارے دین میں آئے مگر یہ کہ اللہ چاہے (ف۱۷۰)جو ہمارا رب ہے ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط(گھیرے ہوئے) ہے ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا (ف۱۷۱) اے رب ہمارے ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر (ف۱۷۲) اور تیرا فیصلہ سب سے بہتر

(ف169)

اور تمہارے دینِ باطل کے قُبح و فساد کا علم دیا ہے ۔

(ف170)

اور اس کو ہلاک کرنا منظور ہو اور ایسا ہی مقدّر ہو ۔

(ف171)

اپنے تمام اُمور میں ، وہی ہمیں ایمان پر ثابت رکھے گا وہی زیادتِ اِیقان کی توفیق دے گا ۔

(ف172)

زُ جاج نے کہا کہ اس کے یہ معنٰی ہو سکتے ہیں کہ اے ربّ ہمارے امر کو ظاہر فرما دے ۔ مراد اس سے یہ ہے کہ ان پر ایسا عذاب نازِل فرما جس سے ان کا باطل پر ہونا اور حضرت شُعیب علیہ السلام اور ان کے مُتّبِعین کا حق پر ہونا ظاہر ہو ۔

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَىٕنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ(۹۰)

اور اس کی قوم کے کافر سردار بولے کہ اگر تم شعیب کے تابع ہوئے تو ضرور تم نقصان میں رہو گے

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ(۹۱)

تو انہیں زلزلے نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے(ف۱۷۳)

(ف173)

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اس قوم پر جہنّم کا دروازہ کھولا اور ان پر دوزخ کی شدید گرمی بھیجی جس سے سانس بند ہوگئے ، اب نہ انہیں سایہ کام دیتا تھا نہ پانی اس حالت میں وہ تِہ خانہ میں داخل ہوئے تاکہ وہاں انہیں کچھ امن ملے لیکن وہاں باہر سے زیادہ گرمی تھی وہاں سے نکل کر جنگل کی طرف بھاگے ، اللہ تعالٰی نے ایک اَبر بھیجا جس میں نہایت سرد اور خوش گوار ہوا تھی ، اس کے سایہ میں آئے اور ایک نے دوسرے کو پُکار پُکار کر جمع کر لیا ، مرد ، عورتیں ، بچّے سب مجتمع ہوگئے تو وہ بحکمِ الٰہی آ گ بن کر بھڑک اُٹھا اور وہ اس میں اس طرح جل گئے جیسے بھاڑ میں کوئی چیز بُھن جاتی ہے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت شُعیب علیہ السلام کو اصحابِ ایکہ کی طرف بھی مبعوث فرمایا تھا اور اہلِ مَدۡ یَن کی طرف بھی ۔ اصحابِ ایکہ تو اَ بر سے ہلاک کئے گئے اور اہلِ مَدۡ یَن زلزلہ میں گرفتار ہوئے اور ایک ہولناک آواز سے ہلاک ہوگئے ۔

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَاۚۛ-اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ(۹۲)

شعیب کو جھٹلانے والے گویا ان گھروں میں کبھی رہے ہی نہ تھے شعیب کو جھٹلانے والے وہی تباہی میں پڑے

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْۚ-فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠(۹۳)

تو شعیب نے ان سے منہ پھیرا (ف۱۷۴) اور کہا اے میری قوم میں تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچاچکا اور تمہارے بھلے کو نصیحت کی (ف۱۷۵) تو کیوں کر غم کروں کافروں کا

(ف174)

جب ان پر عذاب آیا ۔

(ف175)

مگر تم کسی طرح ایمان نہ لائے ۔