حدیث نمبر 5

روایت ہے حضرت ابوجیم سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جان لیتا کہ اس پر کیا گناہ ہے تو اسے چالیس تک ٹھہرنا سامنے گزرنے سے بہتر ہوتا ابونصر کہتے ہیں کہ مجھے خبر نہیں کہ چالیس دن فرمائے یا مہینے یا سال۲؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ آپ صحابی ہیں، ابی ابن کعب کے بھانجے، آپ کا نام عبداﷲ ابن حارث ابن صمہ انصاری ہے، امیرمعاویہ کے زمانہ میں وفات پائی۔

۲؎ ظاہر یہ ہے کہ چالیس سال فرمایا ہوگا جیسا کہ بعض روایا ت میں ہے۔ مطلب اس کا ظاہر ہے۔چالیس کا عدد اس لیئے ارشاد فرمایا کہ انسان کا ہر حال چالیس پر ہی تبدیل ہوتا ہے ،ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ، پھر چالیس دن تک خون ،پھر چالیس دن تک جمی بوٹی، پھر پیدائش کے بعد چالیس دن تک ماں کو نفاس،پھر چالیس سال تک عمر کی پختگی اس لیئے بعد وفات چالیس روز تک مسلسل فاتحہ کی جاتی ہے اور چالیسویں کی فاتحہ اہتمام سے ہوتی ہے۔