حکایت نمبر270: ایک عبادت گزار خادمہ

بصرہ کے قاضی عبید اللہ بن حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ ” میرے پاس ایک حسین وجمیل عجمی لونڈی تھی ، اس کے حُسن وجمال نے مجھے حیرت میں ڈال رکھا تھا۔ ایک رات وہ سورہی تھی۔ جب رات گئے میری آنکھ کھلی تو اسے بستر پر نہ پاکر میں نے کہا: ”یہ تو بہت بُرا ہوا ۔”پھر میں اسے ڈھونڈنے کے لئے جانے لگا تو دیکھا کہ وہ اپنے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں مشغول ہے۔ اس کی نورانی پیشانی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدہ ریز تھی۔ وہ اپنی پُر سوز آواز سے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طر ح عرض گزار تھی: ”اے میرے خالق! تجھے مجھ سے جو محبت ہے میں اسی کا واسطہ دے کر التجا کرتی ہوں کہ تو میری مغفرت فرما دے ۔” جب میں نے یہ سنا تو کہا :” اس طر ح نہ کہہ ،بلکہ یوں کہہ ” اے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! تجھے اس محبت کا واسطہ جو مجھے تجھ سے ہے، تو میری مغفرت فرما دے۔”یہ سن کروہ عابدہ وزاہدہ لونڈی جو حقیقت میں ملکہ بننے کے لائق تھی کہنی لگی:” اے غافل شخص! اللہ عَزَّوَجَلَّ کو مجھ سے محبت ہے اسی لئے تو اس کریم پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے مجھے شرک کی اندھیری وادیوں سے نکال کر اسلام کے نور بار شہر میں داخل کیا ، اس کی محبت ہی تو ہے کہ اس نے اپنی یاد میں میری آنکھوں کو جگایا اور تجھے سلائے رکھا۔ اگر اسے مجھ سے محبت نہ ہوتی تو وہ مجھے اپنی بارگاہ میں حاضری کی ہر گز اجازت نہ دیتا ۔”قاضی عبیداللہ بن حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں:” میں اس کے حسن وجمال اور چہرے کی نورانیت سے پہلے ہی بہت متاثر تھا۔ اب جب اس کی یہ عارفانہ گفتگو سنی تو میری حیرانگی میں مزید اضافہ ہوا اور میں سمجھ گیا کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ولیہ ہے ۔
میں نے کہا :”اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نیک بندی! جاتواللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے آزاد ہے۔ جب لونڈی نے یہ سنا تو کہا: ”میرے آقا ! یہ آپ نے اچھا نہیں کیاکہ مجھے آزاد کردیا۔ اب تک مجھے دوہرا اَجر مل رہا تھا ( یعنی ایک آ پ کی اطاعت کا اور دوسرا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطا عت کا) لیکن اب آزاد ی کے بعد مجھے صرف ایک اجر ملے گا ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
(اے ہمارے پیارے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اپنے نیک اورمحبِّین بندوں کے صدقے ہمیں بھی اپنی محبت کی دولتِ عُظمٰی سے مالا مال فرماکردن رات عبادت کرنے کی سعادت عطا فرما۔”)
؎ تو اپنی ولایت کی خیرات دے دے میرے غوث کا واسطہ یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ!