(۴) توحید پرست سب جنتی ہیں

۸۔ عن أنس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: إذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ إلٰی بَعْضِہِمْ فَیأتُونَ آدَمَ عَلَیہِ السَّلاَمُ فَیَقُوْلُوْنَ: إشْفَعْ لَذُرِّیَتِکَ فَیَقُوْلُ: لَسْتُ لَہَا وَ لٰکِنْ عَلَیْْکُمْ بِإبْراہِیْمَ فَإنَّہُ خَلِیْلُ اللہِ تَعَالٰی فَیَأتُوْنَ إبْرَاہِیْمَ عَلَْیہِ السَّلاَمُ فَیَقُوْلُ: لَسْتُ لَہَا وَ لٰکِنْ عَلَیْکُمْ بِمُوْسٰی فَإنَّہٗ کَلِیْمُ اللہِ تَعَالیٰ ، فَیؤتٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَیَقُولُ: لَسْتُ لَہَا وَ لٰکِنْ عَلَیْکُمْ بِعِیْسٰی فَإنَّہٗ رُوْحُ اللہِ وَ کَلِمَتُہٗ ، فَیُؤتٰی عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَیُقُولُ: لَسْتُ لَہَا لٰکِنْ عَلَیْکُمْ بِمُحْمَّدٍصَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأوْتٰی فَأقُوْلُ: أنَا لَہَا، أنطَلِقُ فَأسْتَاذِنُ عَلٰی رَبیِّ فَیُؤذَنُ لِیْ ، فَأقُوْمُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَأحَمَدُہٗ بِمَحَامِدَ لاَ أقْدِرُ عَلَیْہِ الآنَ یُلْہِمُنِیْہِ اللہُ تَعَالٰی، ثُمّ أخِرُّ لَہٗ سَاجِداً، فَیُقَالُ لِیْ: یَا مُحَمَّدُ! إرْفَعْ رَأسَکَ، وَ قُلْ یُسْمَعْ لَکَ ، وَسَلْ تُعْطَہْ وَ إشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأقُوْلُ: یَا رَبِّ !أمَّتِیْ أمَّتِیْ فَیُقَالُ: إنْطَلِقْ فَمَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِنْ بُرَّۃٍ أوْ شَعِیْرَۃٍ مِنْ إیْمَانٍ فَأخْرِجْہُ مِنْہَا، فَأنْطَلِقُ فَأفْعَلُ ثُمَّ أرْجِعُ إلٰی رَبیِّ تَعَالیٰ فَأحَمَدُہٗ بِتِلْکَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أخِرُّ لَہ سَاجِداً فَیُقَالُ لِیْ: یَامُحَمَّدُ ! إرْفَعْ رَأسَکَ ، وَ قُلْ یُسْمَعْ لَکَ، وَ سَلْ تُعْطَہُ، وَإشْفَعْ تُشَفَّع،ْ فَأقُوْلُ: یَا رَبِّ أمّتِیْ أمّتِیْ، فَیُقَالُ لِیْ: إنْطَلِقْ فَمَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إیْمَانٍ فَأخْرِجْہُ مِنْہَا، فَأنطَلِقُ فَأفْعَلُ، ثُمَّ أعُوْدُ إلٰی رَبِیّ فَأحَمَدُہٗ بِتِلْکَ المَحَامِدِ، ثُمَّ أخِرُّ لَہٗ سَاجِدَاً فَیُقَالُ لِیْ: یَا مُحَمْدُ! إرْفَعْ رَأسَک،َ وَ قُلْ یُسْمَعْ لَک،َ وَ سَلْ تُعْطَہْ، وَ إشْفَعْ تُشَفَّع،ْ فَأقُوْلُ: یَا رَبُ! أمَّتِیْ أمَّتِیْ، فَیُقَالُ لِیْ: إنْطَلِقْ فَمَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ أدْنٰی أدْنٰی أدْنٰی مِنْ مِثْقَالِ حَبّۃ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إیْمَانٍ فَأخْرِجْہُ مِنْ النَّارِفَأنْطَلِقُ فَأفْعَل،ُ ثُمَّ أرْجِعُ اِلٰی رَبِّی فِی الرَّابِعَۃِفَأحْمَدُہٗ بِتِلْکَ المَحَامِدِ، ثُمَّ أخِرُّ لَہٗ سَاجِداً فَیُقَالُ لِیْ: یَا مُحَمَّدُ! إرْفَعْ رَأسَکَ ،وَ قُلْ یُسْمَعْ لَکَ، وَ سَلْ تُعْطَہْ، وَ إشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأقُوْلُ :یَا رَبِّ! إئْذَنْ لِیْ فِیْمَنْ قَالَ :لاَ إلٰہَ إلاَّ اللہٗ ، قَالَ : لَیْسَ ذَاکَ لَکَ أوْ قَالَ: لَیْسَ ذَاکَ إلَیْکَ ، وَ لٰکِنْ وَ عِزَّتِیْ وَ کِبْرِیَائِیْ وَ عَظْمَتِیْ وَ جَبْرِیَائِی!ْ لأخْرِ جَنَّ مَنْ قَالَ : لاَ إلٰہَ إلاَّ اللہٗ ۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشا د فرمایا : جب قیامت کا دن ہوگا تو لوگ گھبرا کر ایک دوسرے کے پاس جائیں گے ۔ سب سے پہلے حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلوۃ و التسلیم کی بارگا ہ میں حاضری دیں گے ۔ عرض کریں گے : آپ اپنی اولاد کی بارگاہ خدا وند قدوس میں شفاعت کیجئے ۔ آپ جواب میں ارشا د فرمائیں گے :میں اس کام کیلئے متعین نہیں ۔ تم سب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام کی بارگاہ میں حاضری دو ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں ۔ سب ملکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے لیکن یہاں سے بھی یہی جواب ملے گا کہ میں اس کے لئے نہیں، تم حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کے پاس جائو کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمایا ۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگا ہ میں سب کی حاضری ہوگی۔ وہ بھی فرمائیں گے میں اس کام کیلئے نہیں ۔ تم سب حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ و السلام کے پاس جاکر دیکھو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے روح اور اس کا کلمہ ہیں ۔ تمام لوگ انکی خدمت میں حاضری دیں گے لیکن یہاں سے بھی وہی جواب ملے گا کہ میں اس کام کیلئے نہیں ۔ ہاں تم سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی علیہ التحیۃ و الثناء کی بارگا ہ اقدس میں حاضری دو ۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :کہ پھر وہ سب میرے پاس آئیں گے تو انکو خوشخبری سنائوںگا کہ ہاں میں اس کام کیلے چنا گیا ہوں ۔ میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری دونگا ۔ اور خدا وند قدوس سے اجازت چاہوں گا ،تو مجھے اللہ کے حضور کھڑے ہونے کی اجازت ملے گی ۔ میں اس وقت اللہ تعالیٰ کی اس طرح حمد و ثنا بیان کرونگا کہ جس پر میں اس وقت قادر نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وقت خصوصی الہام ہوگا جو میں بیان کرونگا، پھر میں خدا وند قدوس کے حضور سجدہ کرونگا ۔ پھر مجھے حکم ہوگا ۔ اے محمد ! سر اٹھائو اور کہو سنا جائے گا، مانگو دیا جائے گا ، شفاعت کرو ہم قبول کریں گے ، میں عرض کرونگا : اے میرے رب! میری امت بخش دے ،بخش دے، رب عزوجل کی طرف سے حکم ہوگا ۔ جائو جسکے دل میں دانۂ گندم یا جو کے مانند ایمان ہو اسکو دوزخ سے نکال لو ۔ چنانچہ اس طرح کے تمام لوگو ں کو میں نکال لونگا ۔ اسکے بعد پھر میں اپنے رب کے حضورحاضری دونگا اور اسی طرح خدا وند قدوس کی حمد و ثنا ء بیان کرونگا اور سجدہ میں گر جائونگا ،حکم ہوگا ۔ اے محمد! اپنا سر اٹھائو،اور جو چاہو کہو، تمہاری بات سنی جائے گی ،اور مانگو جو مانگوگے دیا جائیگا، اور شفاعت کرو قبول کی جائے گی ، میں عرض کرونگا : اے میرے رب! میری امت کو بخش دے ، میری امت کو بخش دے، حکم ہوگا ۔جائو جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اسکو جہنم سے نکال لو ۔ میں ایسا ہی کرونگا ۔ اور پھر اپنے رب کے حضور حاضر ہونگا ۔ پھر اسی طرح اللہ رب العزت کی حمد و ثنا بیان کرونگا۔ پھر سجدہ میں گر جائونگا ، مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد ! اپنا سر اٹھائو اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی ،مانگو دیا جائے گا، اور شفاعت کرو قبول کی جائے گی، میں پھر عرض کرونگا: اے میرے رب ! میری امت کو بخش دے، میری امت کو بخش دے ، مجھے حکم ہوگا ۔جائو جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی کم بہت کم نہایت کم ایمان ہو اسکو بھی دوزخ سے نکال لو ۔ میں دوزخ سے اس طرح کے لوگوں کو نکال کر چوتھی مرتبہ اپنے رب کے حضور حاضری دونگا ۔ اور حسب سابق اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرونگا ۔ پھر سجدہ میں گر جائونگا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد ! اپنا سر اٹھائو اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی ، مانگو دیا جائے گا،شفاعت کر و قبول کی جائیگی، اس وقت میں عرض کرونگا: اے پروردگار ! مجھے اس بات کی اجازت عطا فرما کہ ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لوںجس نے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ پڑھا ہو ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیگا: اس کام کیلئے تم متعین نہیں یا تمہارے سپرد نہیں ۔ بلکہ مجھے اپنی عزت و جلال اورعظمت و بڑائی کی قسم! کہ میں لا الہ الا اللہ پڑھنے والے ہر شخص کو دوزخ سے نکال لونگا ۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۸۔ الصحیح لمسلم ، کتاب الایمان ، ۱/۱۱۰ ٭ المسند لابی عوانہ ، ۱/۱۸۴

الجامع الصحیح للبخاری، صفۃ الجنۃ ،۲/۹۷۱ ٭ التفسیر للبغو ی ، ۴/۱۷۷