دمِ مُردن ترے قدموں پر اگر سر ہوتا

کلام : شاگرد داغ استاذ زمن علامہ حسن رضا بریلوی

❤️

دمِ مُردن ترے قدموں پر اگر سر ہوتا

حشر میں تاجِ کرامت مرے سر پر ہوتا

❤️

پھر تو کچھ حالِ مصیبت تجھے باوَر ہوتا

تیرے پہلو میں جو میرا دلِ مضطر ہوتا

❤️

کیا ہوا صدمے اٹھا کر جو ہوا دل پتھر

خوب ہوتا جو یہ پہلے ہی سے پتھر ہوتا

❤️

کیا کہوں طولِ شبِ ہجر ستم گر تجھ سے

کچھ نہ ہوتا تو تری زُلف سے بڑھ کر ہوتا

❤️

اُلفت زلف نے بچپن ہی سے پھانسا مجھ کو

ہوش ہوتے تو میں دیوانہ سمجھ کر ہوتا

❤️

غیر پر پھول وہ یوں پھینکے ہمارے آگے

ہائے یہ پھول نہ ہوتا کوئی پتھر ہوتا

❤️

قسمت بخت میں گردش تو لکھی تھی لیکن

خوب ہوتا جو تری بزم کا ساغر ہوتا

❤️

ہوتے بے خود تو وہ بہت خوب  ہی کُھل کر ملتا

وصل ہو کر جو نہ ہوتا وہ نہ ہو کر ہوتا

❤️

تیشہ کے بھیس میں آتے نہ اگر حضرتِ عشق

کوہ کا کاٹنا فرہاد کو پتھر ہوتا

❤️

میرے دشمن بنے اَغیار کے وہ یار بنے

پھر کہو اُن سے مرا فیصلہ کیوں کر ہوتا

❤️
آپ کیا کہتے ہیں دشمن کے برابر ہے حسنؔ
خوب ہوتا جو میں دشمن کے برابر ہوتا