أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ يٰمُوۡسٰٓى اِنِّى اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِىۡ وَ بِكَلَامِىۡ ‌ۖ فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

فرمایا اے موسیٰ ! میں نے تم کو لوگوں پر اپنے پیغامات اور اپنے کلام سے فضیلت دی، پس میں نے تم کو جو کچھ دیا ہے وہ لے لو اور شکر ادا کرنے والوں میں سے ہوجاؤ

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” فرمایا اے موسیٰ ! میں نے تم کو لوگوں پر اپنے پیغامات اور اپنے کلام سے فضیلت دی، پس میں نے تم کو جو کچھ دیا ہے وہ لے لو اور شکر ادا کرنے والوں میں سے ہوجاؤ “

دیدار نہ کرانے کی تلافی میں کلام سے مشرف فرمانا 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اس کے دیدار کو طلب کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کی تلافی میں اور دوسری عظیم نعمتیں عطا فرمائیں گویا کہ یوں فرمایا کہ اگر تم کو دولت دیدار حاصل نہیں ہوئی تو تم رنجیدہ نہ ہو میں تمہیں ایک اور عظیم نعمت عطا فرما رہا ہوں وہ میری رسالت اور میرا کلام ہے، سو تم اس نعمت پر میرا شکر ادا کرو۔ اس آیت میں فرمایا ہے : میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں پر فضیلت دی ہے۔ 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کیا خصوصیت ہے اللہ تعالیٰ نے اوروں کو بھی رسول بنایا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کو رسالت اور کلام دونوں کے مجموعہ سے نوازا ہے۔ اور یہاں پر یہ نہیں فرمایا کہ رسالت اور کلام کے ساتھ میں نے تم کو مخلوق پر فضیلت دی ہے بلکہ فرمایا ہے لوگوں پر فضیلت دی ہے، کیونکہ مخلوق میں فرشتے بھی ہیں اور فرشتے اللہ کا کلام بلا واسطہ سنتے ہیں جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بلا واسطہ اللہ تعالیٰ کا کلام سنا۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس عظیم نعمت پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور کسی نعمت پر شکر کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس کے لوازم اور تقاضوں پر عمل کیا جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 144