مسجد کے ادب واحترام کے متعلق شرعی احکام :-

مسئلہ: ناپاک تیل مسجد میں جلانا جائز نہیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۵۹۸)

مسئلہ: مسجد کاچراغ گھر نہیں لے جاسکتے اور تہائی رات تک چراغ جلاسکتے ہیں اگرچہ جماعت ہوچکی ہو ۔ اس سے زیادہ کی اجازت نہیں ۔ مسجد کے چراغ سے کتب بینی اور درس و تدریس تہائی رات تک تو مطلقاً کر سکتا ہے اس کے بعد اجازت نہیں ۔ (عالمگیری، بہار شریعت ، حصہ ۳ ص ۱۸۵، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۱ ص ۷۳۴)

مسئلہ: مسجد کا کوڑا جھاڑ کر ایسی جگہ نہ ڈالیں جہاں بے ادبی ہو ۔ ( درمختار ، بہار شریعت ، حصہ۳، ص ۱۸۴)

مسئلہ: مباح باتیں بھی مسجد میں کرنے کی اجازت نہیں اور نہ آواز بلند کرنا جائز ہے ۔ (درمختار ، صغیری ، بہار شریعت ، حصہ ۱۰ ، ص ۱۸۵)

مسئلہ: مسجد میں شور و شرکرنا حرام ہے اور دنیوی بات کے لئے مسجد میں بیٹھنا حرام ہے اور نماز کے لئے جاکر دنیوی تذکرہ مسجد میں منع ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۶۰۳)

مسئلہ: دنیا کی باتوں کے لئے مسجد میں جاکر بیٹھنا حرام ہے ۔ مسجد میں دنیا کا کلام نیکیوں کو ایسے کھاجاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو ۔ یہ تو مباح باتوں کا حکم ہے پھر اگر باتیں خود بری ہوں تو وہ سخت حرام در حرام اور موجب عذاب شدید ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ،ص۶۰۳)

نوٹ :- افسوس کہ اس زمانہ میں مسجدو ں کو لوگوں نے چوپال بنارکھا ہے ۔ یہاں تک کہ بعضوں کو مسجد وں میں گالیاں بکتے اور لڑتے جھگڑتے دیکھا جاتا ہے ۔

٭ دنیا کی بات جب کہ فی نفسہ مباح اور سچی ہو ، مسجد میں بلا ضرورت کرنی حرام ہے ۔ حدیث میں ہے کہ ’’جو لوگ مسجد میں دنیا کی باتیں کرتے ہیں ان کے منہ سے وہ گندی بوئے بد نکلتی ہے جس سے فرشتے (ایذا پانے کی وجہ سے ) اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی شکایت کرتے ہیں ‘‘ ایک روایت میںہے کہ ’’ ایک مسجد اپنے رب کے حضور شکایت کرنے چلی کہ لوگ مجھ میں دنیا کی باتیں کرتے ہیں ۔ راہ میں فرشتے اسے آتے ملے اور بولے کہ ہم ان کو ہلاک کرنے کو بھیجے گئے ہیں ۔‘‘ (اشباہ ، مدارک شریف ، غمز العیون ، حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۶ ، ص ۴۰۳ )

مسئلہ: مسجدکو راستہ بنانا یعنی اس میں سے ہوکر گزرنا ناجائز ہے ۔ اگر اس کی عادت کرے تو فاسق ہے ۔ ( درمختار ، ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۸۲)

نوٹ: بعض مساجد اس طرح کی ہوتی ہیں کہ جس کے دو دروازے اس طرح ہوتے ہیں کہ ایک دروازہ ایک طرف کی گلی یا سڑک پر ہوتا ہے اور دوسرا دروازہ دوسری طرف کی گلی یا سڑک پر ہوتا ہے ۔ کچھ لوگ ایک گلی سے دوسری گلی میں جانے کے لئے مسجد کے ایک دروازہ سے گھس کر دوسرے دروازہ سے نکلتے ہیں تاکہ ان کو لمبا راستہ طے نہ کرنا پڑے ۔ یہ شرعاً ناجائز اور ممنوع ہے ۔

مسئلہ: مسجد میں ناسمجھ بچوں اور پاگلوں کو لے جانا منع ہے ۔ ابن ماجہ نے حضر ت مکحول سے اور عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں انہیں سے اور انہوںنے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں ’’جنبوا مساجدکم و صبیانکم و مجانینکم و شراء کم و بیعکم و خصوماتکم و رفع اصواتکم ‘‘ ترجمہ ’’ اپنی مسجد وںکو بچاؤ اپنے ناسمجھ بچوں اور مجنونوں کے جانے سے اور خرید وفروخت اور جھگڑوں اور آواز بلند کرنے سے ۔‘‘ ( ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۸۲ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۶ ، ص ۴۰۳)

نوٹ: ناسمجھ بچوں اور پاگلوں کو مسجد میں لے جانے کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ان کو پیشاب پاخانہ وغیرہ کا شعور نہیں ہوتا لہٰذا مسجد کا فرش نجاست سے ملوث ہونے کا احتمال رہتا ہے ۔ علاوہ ازیں ان کے شور وغل اور لغویات کابھی امکان رہتا ہے ۔

مسئلہ: مسجدمیں ہنسنا قبر میں اندھیری لاتا ہے ۔احادیث میں اس کی سخت ممانعت وارد ہے ۔ (احکام شریعت ، حصہ ۱ ، مسئلہ ۳۱ ، ص ۷۴)

مسئلہ: مسجد میں حدث یعنی اخراج ریح غیر معتکف کو مکروہ ہے ۔ اسے چاہئے کہ ایسے وقت مسجد سے باہرہو جائے ، پھر چلا آئے ۔ بعض لوگوں کی ریح میں بوئے شدید ہوتی ہے ۔ ایسوں کو ایسے وقت میں مسجد میں بیٹھنا جائز نہیں کہ بوئے بد سے مسجد کا بچانا واجب ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۶ ، ص ۳۹۳)

مسئلہ: مسجد کی چھت پر بلا ضرورت نماز کی اجازت نہیں کہ مسجد کی چھت پر بے ضرورت چڑھناممنوع اور بے ادبی ہے اور گرمی کا عذر سنا نہیں جائے گا ۔ ہاں اگر نمازیو ںکی کثرت کی وجہ سے مسجد کا نچلا طبقہ بھر جائے اور لوگوں کو نماز پڑھنے کے لئے جگہ نہیں ، تو اس صورت میں مسجد کی چھت پر نماز پڑھنے کی اجازت ہے ۔ (عالمگیری ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۶ ، ص ۴۲۰ ،اور ۴۴۸)

مسئلہ: احاطۂ مسجد کے اندر والے درختوں سے یامسجد کی ملک کے درختوں میں سے کسی درخت کا پھل یا پھول قیمت ادا کئے بغیر کھانا یالینا جائز نہیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ،جلد ۶ ، ص۴۵۰ ،اور جلد ۳ ، ص ۶۰۲)

مسئلہ: مسجد میں مصارف خیر یعنی نیک کاموں کے لئے چندہ کرنا جائز ہے جبکہ کسی قسم کی چپقلش یعنی دنگا یا ہجوم نہ ہو اور چندہ کرنے میں کوئی بات مسجد کے ادب کے خلاف نہ ہو ۔ مساجد میں مصارف خیر کے لئے چندہ کرنے کا احادیث صحیحہ سے جواز ثابت ہے۔ اسی طرح مسجد میں وعظ کی بھی اجازت ہے جبکہ واعظ عالم دین اور سنی صحیح العقیدہ ہو ۔ ( احکام شریعت ، حصہ ۱، مسئلہ نمبر ۲۴،ص ۷۷ ،اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۲۲ ،اور ۴۲۶)