أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَتَبۡنَا لَهٗ فِى الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَىۡءٍ مَّوۡعِظَةً وَّتَفۡصِيۡلًا لِّـكُلِّ شَىۡءٍ‌ ۚ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا‌ ؕ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ان کے لیے (تورات کی) تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی تھی، سو ان کی تختیوں کو قوت کے ساتھ پکڑو، اور اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ اس کی بہترین باتوں پر عمل کریں، عنقریب میں تم کو فاسقوں کا گھر دکھاؤں گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور ہم نے ان کے لیے (تورات کی) تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی تھی، سو ان کی تختیوں کو قوت کے ساتھ پکڑو، اور اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ اس کی بہترین باتوں پر عمل کریں، عنقریب میں تم کو فاسقوں کا گھر دکھاؤں گا “

تورات کی تختیوں کا مادہ، تعداد اور نزول کی تاریخ 

امام عبدالرحمن بن محمد بن ابی حاتم متوفی 327 ھ روایت کرتے ہیں :

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ تورات سونے کے قلموں سے لکھی گئی تھی۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات زمرد کی سات تختیوں میں عطا فرمائی تھی، اس میں ہر چیز کا بیان تھا، اور اس میں نصیحتیں لکھی ہوئی تھیں، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تورات لے کر آئے تو انہوں نے دیکھا کہ بنو اسرائیل بچھڑے کے سامنے بیٹھے ہوئے عبادت کر رہے ہیں، تو جوش غضب سے ان کے ہاتھوں سے تورات گر کر ٹوٹ گئی، پھر وہ ہارون کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو سر سے پکڑ لیا، پھر اللہ تعالیٰ نے تورات کے چھ حصے اوپر اٹھا لیے اور ایک حصہ رہ گیا۔ 

جعفر بن محمد اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جو تورات نازل کی گئی تھی وہ بیری کے پتوں پر لکھی ہوئی تھی اور اس لوح کا طول بارہ ہاتھ تھا۔ 

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ لوگ بیان کرتے ہیں کہ تورات کی تختیاں یاقوت کی تھیں اور میں کہتا ہوں کہ وہ زمرد کی تھیں اور اس پر سونے سے لکھا ہوا تھا، اور رحمن تبارک و تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا اور آسمان والوں نے قلم چلنے کی آواز سنی۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج 5، ص 1563، 1562، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، 1417 ھ)

امام ابن ابی شیبہ، امام عبد بن حمید اور امام ابن المنذر نے حکیم بن جابر سے روایت کیا ہے کہ مجھے یہ خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کے سوا کسی چیز کو پیدا کرنے میں اپنا ہاتھ نہیں لگایا، اپنے ہاتھ سے جنت میں پودا لگایا، ورس (ایک قسم کی گھاس، جس سے سرخ رنگ نکلتا ہے) اور زعفران کو اس کی مٹی بنایا اور اس میں مشک کے پہاڑ بنائے، حضرت آدم کو اپنے اہتھ سے پیدا کیا اور تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا۔ (الدرر المنثور ج 3، ص 549، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1414 ھ)

امام عبدالرحمن بن محمد بن علی بن الجوزی الحنبلی المتوفی 579 ھ لکھتے ہیں : 

تورات کی الواح کے متعلق سات قول ہیں : حضرت ابن عباس نے فرمایا : وہ زمرد کی الواح تھیں، سعید بن جبیر نے کہا : یاقوت کی تھیں، مجاہد نے کہا : سبز زمرد کی تھیں، ابو العالیہ نے کہا : ایک قسم کے کپڑے کی تھیں، حسن بصری نے کہا : لکڑی کی تھیں، وہب بن منبہ نے کہا : پتھر کی تھیں، مقاتل نے کہا : زمرد اور یاقوت کی تھیں۔ ان کی تعداد میں بھی اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : سات الواح تھیں، ابو صالح نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے : دو تختیاں تھیں، اور یہ فرا کا مختار ہے۔ وہب بن منبہ نے کہا : دس تھیں، مقاتل نے کہا : نو تھیں۔ (زاد المسیر ج 3، ص 258، مطبوعہ المکتب الاسلامی، بیروت، 1407 ھ)

امام رازی نے لکھا ہے کہ یوم عرفہ (9 ذوالحجہ) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہوئے تھے اور یوم النحر (دس ذی الحجہ) کو اللہ تعالیٰ نے ان کو تورات عطا فرمائی۔ (تفسیر کبیر ج 5، ص 310، مطبوعہ احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

تورات میں ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل مذکور ہونے کی توجیہ 

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : 

اس آیت میں فرمایا ہے : اور ہم نے ان کے لیے (تورات کی) تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت لکھ دی تھی۔ 

ہر چیز سے مراد عموم نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو اپنے دین میں حلال، حرام اور اچھی اور بری چیزوں کے متعلق جن احکام کی احتیاج تھی وہ سب تورات میں لکھی ہوئی تھیں۔ (تفسیر کبیر ج 5، ص 360، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ء)

علامہ ابن جوزی حنبلی متوفی 597 ھ فرمایا ہے : ہر چیز سے مراد احکام شرفعیہ ہیں مثلاً فرض، واجب، حلال اور حرام وغیرہ۔

دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد ہر چیز کی حکمتیں اور عبرتیں وغیرہ ہیں۔ (زاد المسیر ج 3، ص 258، طبع بیروت)

علامہ قرطبی مالکی متوفی 668 ھ نے لکھا ہے کہ عرف اور محاورہ میں کل شیء سے مراد حقیقتاً عموم نہیں ہوتا جیسے کہتے ہیں فلاں آدمی کے پاس ہر چیز ہے، یا میں شہر میں گیا اور میں نے ہر چیز خرید لی۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 8، ص 253)

میں کہتا ہوں اس سے عموم بھی مراد ہوسکتا ہے جب کہ اس کا یہ معنی کیا جائے کہ ان کو دنیا میں صلاح اور آخرت میں فلاح کے لیے جس قدر احکام کی احتیاج تھی، اللہ تعالیٰ نے وہ تمام احکام تورات کی الواح میں لکھ دیے تھے۔ 

اس کے بعد فرمایا : ” اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی تھی “۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کو جس قدر احکام شرعیہ دیے تھے تورات میں ان تمام احکام کی تفصیل لکھ دی تھی، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اجمالی احکام بیان فرمائے ہیں اور ان کی تفصیل سنت اور قیاس سے معلوم ہوتی ہے، لیکن بنو اسرائیل کے لیے احکام کا ماخذ صرف تورات تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام تفصیلات تورات ہی میں لکھ دی تھیں۔ مثلاً نماز کا قرآن مجید میں اجمالی حکم ہے، پانچ اوقات کی تفصیل اور تعیین درج نہیں نہ نماز کی رکعات کی تعداد کا بیان ہے اور ہر رکعت میں کیا پڑھنا ہے، اس کا بھی ذکر نہیں ہے۔ اسی طرح زکوۃ کی مقدار اور نصاب کا قرآن مجید میں ذکر نہیں ہے۔ حج کے فرائض، ارکان، شرائط اور موانع کا ذکر نہیں ہے، ان تمام امور کی تفصیل سنت میں ہے، اسی طرح بعض احکام قیاس سے ثابت ہوتے ہیں مثلاً خمر کو قرآن مجید نے حرام کیا ہے لیکن دیگر نشہ آور چیزوں کی حرمت قیاس سے ثابت ہے۔ بنو اسرائیل کے لیے قیاس اور اجتہاد نہیں تھا نہ ان کے ہاں سنت اور حدیث کی شرعی حیثیت تھی۔ ان کے احکام کا ماخذ صرف تورات تھی، لہذا جو تفصیلات ہم کو سنت اور اجتہاد سے معلوم ہوتی ہیں، وہ تمام تفصیلات اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تورات میں لکھ دی تھیں۔ سو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تورات میں احکام بھی لکھے اور تمام احکام سے متعلق ہر تفصیل لکھ دی، اس لیے فرمایا : ہم نے تورات کی الواح میں ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی۔ 

تورات کے احکام کا درجہ بہ درجہ ہونا 

اس کے بعد فرمایا : اور اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ اس کی بہترین باتوں پر عمل کریں۔

آیت کے اس حصہ پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ تورات میں کچھ ایسے حکم بھی ہیں جو بہترین نہیں ہیں۔ اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں :

1 ۔ یہ معنی مفہوم مخالف کے اعتبار سے لیا گیا ہے، اور ہمارے نزدیک قرآن اور حدیث میں مفہوم مخالف معتبر نہیں ہے، اور تورات کے تمام احکام بہترین ہیں اور جن ائمہ کے نزدیک مفہوم مخالف معتبر ہے، ان کے اعتبار سے جواب یہ ہے کہ تورات کے احکام درجہ بہ درجہ ہیں اور بعض احکام بعض سے زیادہ بہتر ہیں۔ 

2 ۔ بنو اسرائیل کو برے کاموں سے روکا گیا تھا اور نیک کاموں کا حکم دیا گیا تھا اور برائی سے رکنا، نیکی کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔

3 ۔ معاف کردینا قصاص لینے سے بہتر ہے، اور صبر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے۔ سو ان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ قصاص لینے کی بجائے معاف کردیں اور بدلہ لینے کی بجائے صبر کریں، اس کی نظیر قرآن مجید کی یہ آیت ہے : ” والذین اذا اصابہم البغی ھم ینتصرون : وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ انہ لا یحب الظلمین : اور وہ لوگ جن پر جب (کسی کا) ظلم پہنچے تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ اور برائی کا بدلہ اسی کی مثل برائی ہے، پس جس نے معاف کردیا اور نیکی کی تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ (کرم) پر ہے، بیشک وہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا ” (الشوری :39 ۔ 40) ۔ اس کے بعد فرمایا : ” ولمن صبر و غفر ان ذلک لمن عزم الامور : اور جو شخص صبر کرے اور معاف کردے تو یقیناً یہ ضرور ہمت کے کاموں (بہترین کاموں) میں سے ہے ” (الشوری :43)

3 ۔ تورات میں فرائض، نوافل اور مباح کاموں کے احکام ہیں، فرائض اور نوافل پر عمل کرنا، بہترین عمل ہے اور صرف فرائض پر عمل کرنا اس سے کم درجہ کا ہے اور مباح پر عمل کرنا اس سے بھی کم درجہ کا ہے۔ اسلام میں بھی احکام درجہ بہ درجہ ہیں، پہلے فرائض کا مرتبہ ہے پھر واجبات کا، پھر سنن کا، پھر مستحبات کا، پھر مباحات کا۔

اس کے بعد فرمایا : ” عنقریب میں تم کو فاسقوں کا گھر دکھاؤں گا “۔ حسن اور مجاہد نے کہا : اس سے مراد جہنم ہے۔ عطیہ عوفی نے کہا : اس سے مراد فرعون اور اس کی قوم کا گھر ہے جو کہ مصر ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد جبابرہ اور عمالقہ کے گھر ہیں، جو ان کو اللہ نے شام میں دخول کے وقت دکھائے تھے۔ سدی نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ میں عنقریب تم کو ان لوگوں کا انجام دکھاؤں گا جنہوں نے میرے احکام کی مخالفت کی تھی، سو یہ تہدید اور تحذیر ہے۔ (زاد المسیر، ج 3، ص 260)

الواح تورات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت کی خصوصیات 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی 911 ھ بیان کرتے ہیں :

امام عبد بن حمید، امام ابن ابی حاتم اور امام ابو الشیخ نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے کہا : اے میرے رب ! میں نے تورات کی الواح میں یہ پڑھا ہے کہ ایک امت سب سے آخر میں پیدا ہوگئی اور سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگی، تو ان کو میری امت بنا دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ امت احمد ہے، کہا : اے میرے رب میں نے تورات کی الواح میں پڑھا ہے کہ ایک امت سب سے بہترین امت ہے وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور اللہ پر ایمان لائیں گے، تو ان کو میری امت بنا دے، فرمایا : وہ امت احمد ہے، کہا : اے میرے رب ! میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ ایک امت پہلی کتاب پر اور اخری کتاب پر ایمان لائے گی اور وہ گمراہوں سے قتال کرے گی، حتی کہ کا نے کذاب سے قتال کرے گی تو ان کو میری امت بنا دے، فرمایا : وہ امت احمد ہے۔ کہا : اے میرے رب ! میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ ایک امت اپنے صدقات کو کھائے گی اور اس کو اس پر اجر ملے گا تو اس کو میری امت بنا دے، فرمایا : وہ امت احمد ہے (قتادہ نے کہا : تم سے پہلی امتوں میں جب کوئی شخص صدقہ کرتا اور اس کا وہ صدقہ قبول ہوجاتا تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک آگ بھیجتا وہ اس صدقہ کو کھا لیتی اور اگر وہ صدقہ قبول نہ ہوتا تو وہ یونہی پڑا رہتا اور اس کو درندے اور پرندے کھا جاتے اور بیشک اللہ نے تمہارے فقراء کے لیے تمہارے اغنیاء سے صدقات کو لیا اور یہ اس کی تم پر تخفیف اور رحمت ہے) کہا : اے میرے رب ! میں نے تورات کی الواح میں پڑھا ہے کہ اس امت کا جب کوئی شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ کرے تو اس کے لیے بھی ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جب وہ اس نیکی پر عمل کرے تو اس جیسی دس نیکیوں سے لے کر سات سو نیکیاں اور اس کی دگنی نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، تو ان کو میری امت بنا دے، فرمایا : یہ امت احمد ہے۔ کہا : اے میرے رب ! میں تورات کی الواح میں یہ پڑھا ہے، اس امت کا کوئی شخص جب کسی گناہ کا ارادہ کرے تو اس کو اس وقت تک نہیں لکھا جاتا جب تک کہ وہ اس پر عمل نہ کرلے اور جب وہ عمل کرلے تو پھر اس کا ایک گناہ لکھا جاتا ہے تو اس کو میری امت بنا دے، فرمایا : یہ امت احمد ہے۔ کہا : اے میرے رب میں نے تورات کی الواح میں پڑھا ہے کہ وہ امت لوگوں کی دعوت قبول کرے گی اور ان کی دعا قبول کی جائے گی تو ان کو میری امت بنا دے، فرمایا : وہ وہ امت احمد ہے، پھر حضرت موسیٰ نے کہا : اے اللہ ! مجھے امت احمد بنا دے ! فرمایا میں تم کو دو ایسی چیزیں دے رہا ہوں جو میں نے کسی کو نہیں دیں، میں نے تم کو اپنی رسالت اور اپنے کلام کے ساتھ فضیلت دی ہے، یہ ایک چیز ہے، پھر موسیٰ (علیہ السلام) راضی ہوگئے اور دوسری چیز یہ ہے کہ موسیٰ کی قوم سے ایک امت ایسی ہوگی جو حق کے ساتھ ہدایت دے گی اور حق کے ساتھ عدل کرے گی۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) مکمل راضی ہوگئے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج 5، ص 1564، رقم الحدیث :8965)

امام ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے جب تورات میں ان خصوصیات کو پڑھا جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا کی ہیں تو اپنے رب سے کہا : اے رب ! وہ کون سے نبی ہیں جن کو اور جن کی امت کو تو نے اول و آخر بنایا ہے ؟ فرمایا وہ محمد نبی امی عربی حرمی تہارمی ہیں جو قاذر بن اسماعیل کی اولاد سے ہیں ان کو میں نے محشر میں اول بنایا ہے اور ان کو میں نے (دنیا میں) آخر بنایا ہے اور ان پر رسولوں کو ختم کردیا ہے، اے موسیٰ ! میں نے ان کی شریعت کے ساتھ تمام شرائع کو منسوخ کردیا ہے۔ اور ان کی کتاب کے ساتھ تمام کتابوں کو، اور ان کی سنت کے ساتھ تمام سنتوں کو، اور ان کے دین کے ساتھ تمام ادیان کو۔ کہا : اے رب ! بیشک تو نے مجھے منتخب کیا ہے اور مجھ سے کلام فرمایا ہے، فرمایا : اے موسیٰ ! بیشک تم میرے صفی ہو، اور وہ میرے محبوب ہیں، قیامت کے دن میں ان کو بلندی پر اٹھاؤں گا اور ان کے حوض کو سب سے بڑا حوض بناؤں گا اور ان کے حوض پر سب سے زیادہ لوگ آئیں گے، اور ان کے پیروکار سب سے زیادہ ہوں گے۔ کہا : اے رب ! تو نے ان کو مکرم اور مشرف بنایا ہے، فرمایا : اے موسیٰ ! مجھ پر حق تھا کہ میں ان کو مکرم بناتا اور ان کو اور ان کی امت کو فضیلت دیتا، یون کہ وہ مجھ پر ایمان لائیں گے اور میرے تمام رسولوں پر ایمان لائیں گے اور میرے تمام کلمات پر ایمان لائیں گے اور میرے تمام غیب پر ایمان لائیں گے۔ 

کہا : اے میرے رب ! یہ ان کی نعت ہے، فرمایا : ہاں ! کہا : اے میرے رب ! کیا تو نے ان کو جمعہ ھبہ کیا ہے یا میری امت کو ؟ فرمایا بلکہ جمعہ ان کے لیے ہے نہ کہ تمہاری امت کے لیے، کہا : اے میرے رب ! میں نے تورات میں ایک امت کی یہ صفت دیکھی ہے کہ ان کا چہرہ اور ان کے ہاتھ پیر سفید ہوں گے، وہ کون ہیں ؟ آیا وہ بنو اسرائیل ہیں یا کوئی اور ہیں ؟ فرمایا : وہ امت احمد ہے، وضو کے آثار سے (قیامت کے دن) ان کا چہرہ اور ان کے ہاتھ پیر سفید ہوں گے، کہا : اے میرے رب ! میں تورات میں پڑھا ہے کہ ایک قوم پل صراط سے بجلی اور آندھی کی طرح گزرے گی، وہ کون ہیں ؟ فرمایا وہ امت احمد ہے، کہا اے میرے رب ! میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ ایک قوم پانچ نمازیں پڑھے گی، وہ کون ہیں ؟ فرمایا وہ امت احمد ہے۔ کہا اے میرے رب ! میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ ایک قوم کے نیک لوگ بدکاروں کی شفاعت کریں گے وہ کون ہیں ؟ فرمایا وہ امت احمد ہے۔ کہا : اے میرے رب ! میں تورات میں پڑھا ہے کہ ایک قوم کا کوئی شخص کوئی گناہ کرے گا پھر وضو کرے گا تو اس کا گناہ بخش دیا جائے گا اور جب وہ نماز پڑھے گا تو بغیر کسی گناہ کے نماز پڑھے گا، وہ کن ہیں ؟ فرمایا : وہ امت احمد ہے، کہا : اے میرے رب ! میں تورات میں پڑھا ہے کہ ایک قوم تیرے رسولوں کی تبلیغ کی گواہی دے گی، وہ کون ہیں ؟ فرمایا : وہ امت احمد ہے، کہا : اے میرے رب ! میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ ایک قوم کے لیے مال غنیمت کو حلال کردیا جائے گا جو دوسری امتوں پر حرام تھا، وہ کون ہیں ؟ فرمایا : وہ امت احمد ہے، کہا : اے میرے رب ! میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ ایک قوم کے لیے تمام روئے زمین تیمم کا آلہ اور مسجد بنادی جائے گی، وہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا : وہ امت احمد ہیں، کہا : اے میرے رب ! میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ ایک قوم ایسی ہوگی کہ اس کا ایک آدمہ پچھلی امتوں کے تیس آدمیوں سے افضل ہوگا، وہ کون ہیں ؟ فرمایا : وہ امت احمد ہے، کہا : اے میرے رب ! میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ ایک قوم تجھ سے محبت کرتے گی، تیرے ذکر میں پناہ لے گی، تیری خاطر غضب میں آئے گی وہ کون ہیں ؟ فرمایا : وہ امت احمد ہے۔ کہا : اے میرے رب ! میں تورات میں پڑھا ہے کہ ایک قوم کے اعمال کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور فرشتے ان کو گلے لگائیں گے، وہ کون ہیں، فرمایا : وہ امت احمد ہے، کہا : اے میرے رب ! میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ ایک قوم کے نیک لوگ جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے، اور ان کے درمیانی طبقہ کے لوگوں سے آسان حساب لیا جائے گا۔ اور ان کے ظالموں کو بخش دیا جائے گا، وہ کون ہیں ؟ فرمایا وہ امت احمد ہے، کہا : اے میرے رب ! مجھے اس امت میں سے کردے، فرمایا : اے موسیٰ ! تم ان میں سے ہو اور وہ تم میں سے ہیں، کیونکہ تم بھی میرے دین پر ہو اور وہ بھی میرے دین پر ہیں لیکن میں نے تم کو اپنی رسالت اور ہم کلام ہونے کی فضیلت عطا کی ہے سو تم شکر کرنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ (الدر المنثور، ج 3، ص 552، 555، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1414 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 145