کب اُٹھیں گے

این آرسی ، سیٹیزن شِپ بِل ، بابری مسجد ، کشمیر ، تین طلاق ، ماب لنچنگ ، اور ہر طرح کی ظلم و زیادتی پر خاموش رہنے والوں کو آواز لگاتے ہوئے آنسو ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھروں سے چھوڑ کر بستر سُہانے کب اٹھیں گے

ہمارے قائد و رہبر نہ جانے کب اُٹھیں گے

مُصلّے پر تو حق ھٗو کی صدائیں خوب، لیکن

درِ باطل پہ ضربِ حق لگانے کب اُٹھیں گے

ہم اک اک کر کے مارے جا رہے ہیں رفتہ رفتہ

اکٹھا ہو کے سب، طاقت دکھانے کب اُٹھیں گے

ہوئی ماضی میں جس سے دُور ہر غم کی سیاہی

وہ مِشعَل کب جلےگی، اور دِوانے کب اُٹھیں گے

جنہیں سمجھا گیا ہے قبلہ و کعبہ ہمیشہ

جو محبوبِ نظر ہیں وہ گھرانے کب اُٹھیں گے

عقیدت نے ہمیشہ جن کو پَلکوں پر بٹھایا

وہ مرشد، قوم کی بگڑی بنانے کب اُٹھیں گے

اشارہ پا کے اپنی جاں بھی جو قربان کر دے

مریدی منتظر ہے، پیر خانے کب اُٹھیں گے

لبِ ہمت پہ لے کر وہ اذانِ سرفروشی

دلوں کو خواب غفلت سے جگانے کب اُٹھیں گے

بنے گا جن کے ملنے سے دفاعِ حق کا پرچم

ہماری قوم کے وہ تانے بانے کب اُٹھیں گے

یہ کہہ کر بابری مسجد نے دی آواز ہم کو

مرے شیدا، مری عظمت بچانے کب اُٹھیں گے

کئ القاب جن کے دائیں بائیں ہیں فریدی

وہ اپنی پیشوائی کو نبھانے کب اُٹھیں گے

°°°°°°°°°°

از فریدی صدیقی مصباحی

مسقط عمان

0096899633908