وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ(۹۴)

اور نہ بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی (ف۱۷۶) مگر یہ کہ اس کے لوگوں کو سختی اور تکلیف میں پکڑا (ف۱۷۷) کہ وہ کسی طرح زاری(عاجزی) کریں(ف۱۷۸)

(ف176)

جس کو اس کی قوم نے نہ جھٹلایا ہو ۔

(ف177)

فَقر و تنگدستی اور مَرض و بیماری میں گرفتار کیا ۔

(ف178)

تکبُّر چھوڑیں ، توبہ کریں ، حکمِ الٰہی کے مطیع بنیں ۔

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(۹۵)

پھر ہم نے برائی کی جگہ بھلائی بدل دی (ف۱۷۹) یہاں تک کہ وہ بہت ہوگئے (ف۱۸۰) اور بولے بے شک ہمارے باپ دادا کو رنج و راحت پہنچے تھے (ف۱۸۱) تو ہم نے انہیں اچانک ان کی غفلت میں پکڑ لیا (ف۱۸۲)

(ف179)

کہ سختی و تکلیف کے بعد راحت و آسائش پہنچنا اور بدنی و مالی نعمتیں ملنا اِطاعت و شکر گزاری کا مُسدَدۡعِی ہے ۔

(ف180)

انکی تعداد بھی زیادہ ہوئی اور مال بھی بڑھے ۔

(ف181)

یعنی زمانہ کا دستور ہی یہ ہے کبھی تکلیف ہوتی ہے کبھی راحت ۔ ہمارے باپ دادا پر بھی ایسے احوال گذر چکے ہیں ۔ اس سے ان کا مُدّعا یہ تھا کہ پچھلا زمانہ جو سختیوں میں گذرا ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے کچھ عُقوبت و سزا نہ تھا تو اپنا دین ترک کرنا نہ چاہئے نہ ان لوگوں نے شدّت و تکلیف سے کچھ نصیحت حاصل کی نہ راحت و آرام سے ان میں کوئی جذبۂ شکر و طاعت پیدا ہوا وہ غَفۡلت میں سرشار رہے ۔

(ف182)

جب کہ انہیں عذاب کا خیال بھی نہ تھا ۔ ان واقعات سے عبرت حاصل کرنی چاہئے اور بندوں کو گناہ و سرکشی ترک کرکے اپنے مالِک کا رضا جُو ہونا چاہئے ۔

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۹۶)

اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور ڈرتے (ف۱۸۳) تو ضرور ہم اُن پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے (ف۱۸۴) مگر انہوں نے تو جھٹلایا(ف۱۸۵) تو ہم نے انہیں ان کے کئے پر گرفتار کیا(ف۱۸۶)

(ف183)

اور خدا اور رسول کی اِطاعت اختیار کرتے اور جس چیز کو اللہ اور رسول نے منع فرمایا اس سے باز رہتے ۔

(ف184)

ہر طرف سے انہیں خیر پہنچتی ، وقت پر نافِع اور مفید بارشیں ہوتیں ، زمین سے کھیتی پھل بکثرت پیدا ہوتے ، رزق کی فراخی ہوتی ، امن و سلامتی رہتی ، آفتوں سے محفوظ رہتے ۔

(ف185)

اللہ کے رسولوں کو ۔

(ف186)

اور اَنواعِ عذاب میں مُبتلا کیا ۔

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآىٕمُوْنَؕ(۹۷)

کیا بستیوں والے (ف۱۸۷) نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سوتے ہوں

(ف187)

کُفّار خواہ وہ مکّۂ مُکرّمہ کے رہنے والے ہوں یا گِرد و پیش کے یا اور کہیں کے ۔

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ(۹۸)

یا بستیوں والے نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آئے جب وہ کھیل رہے ہوں (ف۱۸۸)

(ف188)

اور عذاب کے آنے سے غافل ہوں ۔

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِۚ-فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠(۹۹)

کیا اللہ کی خفی تدبیر سے نڈر ہیں(ف۱۸۹) تو اللہ کی خفی تدبیر سے نڈر نہیں ہوتے مگر تباہی والے(ف۱۹۰)

(ف189)

اور اس کے ڈھیل دینے اور دُنیوی نعمت دینے پر مغرور ہو کر اس کے عذاب سے بے فکر ہوگئے ہیں ۔

(ف190)

اور اس کے مُخلِص بندے اس کا خوف رکھتے ہیں ۔ رَبیع بن خَثیم کی صاحبزادی نے ان سے کہا کیا سبب ہے میں دیکھتی ہوں سب لوگ سوتے ہیں اور آپ نہیں سوتے ہیں ؟ فرمایا ! اے نورِ نظر ، تیرا باپ شَب کو سونے سے ڈرتا ہے یعنی یہ کہ غافل ہو کر سوجانا کہیں سببِ عذاب نہ ہو ۔