حدیث نمبر 2 (730)

روایت ہے ابن ابی جحیفہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکے کے ابطح مقام میں۲؎ چمڑے کے سرخ خیمے میں دیکھا اور حضرت بلال کو دیکھا کہ انہوں نے حضور کے وضوء کا پانی لیا ۳؎ اور لوگوں کو دیکھا اس پانی کی طرف دوڑ رہے ہیں۴؎جس نے اس میں سے کچھ پالیا تو اسے مَل لیا اور جس نے نہ پایا تو اس نے اپنے ساتھی کے ہاتھ سے تری ۵؎لے لی پھر میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھاانہوں نے ایک نیزہ لیا اور اسے گاڑ دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سرخ جوڑے میں دامن سمیٹے تشریف ۶؎ لائے نیزے کی طرف کھڑے ہو کرلوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں۷؎ اور میں نے لوگوں اور جانوروں کو نیزے کے آگے گزرتے دیکھا ۸؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ آپ کا نام وہب ابن عبداﷲ عامری ہے،آپ بہت نو عمر صحابی ہیں،حضور کی وفات کے وقت آپ نابالغ تھے، ۷۴ھ ؁کوفہ میں وصال ہوا۔

۲؎ یہ جگہ جنت معلی سے کچھ آگے منی کی جانب ہے جسے وادی مُحَصَّبْ اور بطحاءبھی کہا جاتا ہے،اسی نسبت سے حضور کو ابطحی کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے،ابطح کے معنی ہیں بجری والا میدان جہاں بارش میں سیلاب آجاتا ہو۔

۳؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمہ میں وضو کیا،غسالہ ایک لگن میں گرا حضرت بلال وہ پانی کا لگن باہر صحابہ کے پاس لائے تاکہ صحابہ اس سے برکتیں حاصل کرلیں،صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اس غسالہ شریف پر ٹوٹ پڑے۔

۴؎ اسے حاصل کرنے اور برکت لینے کے لیے کیوں کہ وہ پانی حضور کے اعضاء سے لگ کر نورانی بھی ہوگیا اور نور گر بھی۔پھول سے لگی ہوئی ہوا دماغ مہکادیتی ہے، حضور کے جسم اطہر سے لگا ہوا پانی روح وا یمان مہکادے گا۔

۵؎ اور اسے اپنے سر اور منہ پر مل لیا۔مرقات میں اسی جگہ ہے کہ حضرت ابو طیبہ رضی اللہ عنہ نے حضور کی فصد لی اور خون بجائے پھینکنے کے پی لیا۔خیال رہے کہ ہمارا فضلہ وضو کا پینے کے قابل نہیں کہ وہ ہمارے گناہ لے کر نکلا ہے، حضور کا غسالہ متبرک ہے کیونکہ وہ نور لے کر نکلا۔بعض مرید اپنے مشائخ کا جوٹا پانی تعظیم سے استعمال کرتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔

۶؎ سرخ جوڑے سے مراد خالص سرخ رنگ میں رنگا ہوا کپڑا نہیں ہے کہ یہ تو مرد کےلیے منع ہے بلکہ سرخ خطوط سے مخطط کپڑا مراد ہے یا سرخ سُوت سے بنا ہوا کپڑا۔لہذا یہ حدیث ممانعت کی حدیث کے خلاف نہیں۔

۷؎ یا فجر یا ظہر کی کیونکہ آپ مسافر تھے،غالبًا یہ واقعہ حجۃ الوداع یا عمرۃ القضاء کا ہے۔

۸؎ کیونکہ امام کا سُترہ ساری جماعت کا سترہ ہوتا ہے اس کے آگے سے گزرنا جائز ہے۔