حدیث نمبر 9

روایت ہے ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں گدھی پر سوار آیا حالانکہ میں اس دن قریب بلوغ تھا اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو بغیر دیوار کی آڑ کے نماز پڑھا رہے تھے ۱؎ میں بعض صف کے آگے سے گزرا پھر اتر پڑا گدھی کو چھوڑ دیا کہ چرتی تھی اور خود صف میں داخل ہوگیا اس کا مجھ پر کسی نے اعتراض نہ کیا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دیوار نہ تھی میدان میں نماز پڑھا رہے تھے لاٹھی وغیرہ کا سترہ ضرور تھا،چونکہ امام کا سترہ تمام مقتدیوں کے لیے کافی ہوتا ہے اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ یہاں سب کے سامنے سے گزر گئے لہذا یہ حدیث سترہ کے خلاف نہیں اسی لیے امام بخاری رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ یہ حدیث اس باب میں لائے کہ امام کا سترہ مقتدیوں کا سترہ ہے جس سے معلوم ہوا کہ حضور کے آگے دیوار کے سوا کوئی اور سترہ ضرور تھا دیوار کی نفی فرمائی ہے نہ کہ سترہ کی۔

۲؎ یہ حدیث اس حدیث کی تفسیر ہے کہ نماز کو کتا،گدھا،عورت توڑ دیتے ہیں یعنی وہ حکم جب ہے کہ سترے کے بغیر سامنے سے گزریں۔