*بچے ہیں، غلطی ہوگئی…معاف کردیں !!!*

غلام مصطفےٰ نعیمی

ایڈیٹر سواد اعظم دہلی

gmnaimi@gmail.com

راجیہ سبھا سے شہریت ترمیمی بِل (C.A.B) پاس ہوتے ہی ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے. اسی ضمن میں دیوبند میں بھی ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں طلبائے دارالعلوم دیوبند کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی. جو بحیثیت شہری ان کا جمہوری حق تھا اور بحیثیت عالم ان کی قومی ذمہ داری بھی !!

اسی احتجاج کو لیکر سہارنپور کے ڈی ایم آلوک کمار پانڈے نے دارالعلوم پہنچ کر دارالعلوم انتظامیہ کو دھمکایا کہ *”دیوبند میں جو احتجاجی مظاہرہ ہوا ہے اس کا منفی پیغام بہت دور تک جائے گا اور اس سے مدارس کو ہی نقصان ہوگا. ساتھ ہی اس کی زد میں طلبہ بھی آسکتے ہیں.*

اس دھمکی کا جواب دینے کی بجائے انتظامیہ معذرت پر اتر آئی.قومی ہمدردی میں کئے گئے احتجاج سے ناگواری جتاتے ہوئے مظاہرے کی مذمت کی. *طلبہ کی سرزنش کرتے ہوئے جامعہ کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا:*

*”طلبہ ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے ہماری عزت،ہمارا امن اور ہماری حفاظت خطرے میں پڑ جائے. کیوں کہ یہ بہت بڑی حماقت ہوگی.”*

مہتمم صاحب نے ایک طرف اپنے طلبہ کی حوصلہ شکنی کی اور دوسری جانب حکومتی انتظامیہ کی خوشامد کرتے ہوئے کہا:

*”بچے ہیں اور بچوں سے غلطی ہوجاتی ہے. اس لئے تمام ذمہ داران مدارس آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ ان بچوں کو معاف کردیا جائے اور ان کے خلاف کسی طرح کی کوئی کاروائی نہ کی جائے.”*

(روزنامہ انقلاب ص 4 بریلی ایڈیشن مؤرخہ 13 دسمبر 2019)

کیا عجیب نظارہ ہے کہ جس دیوبند نے سو سال سے زائد عرصہ اپنے طلبہ سے پڑھائی کی جگہ احتجاج وہڑتال کا خوگر بنایا، تعلیم بند کرکے سیاسی پارٹیوں کے جھنڈے اٹھوا کر سڑکوں پر نعرے بازیاں کرائیں آج وہی دارالعلوم احتجاج کرنے پر طلبہ کی مذمت کر رہا ہے !!

ایک ہی جیسے طرز عمل پر دارالعلوم کا دوہرا رویہ بعض لوگوں کے لئے سمجھ سے باہر ہے. مگر تاریخ پر نگاہ رکھنے والے خوب جانتے ہیں. جب تک طلبہ کو سیاسی پارٹیوں اور ذاتی مفاد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا تو ہڑتالی طلبہ محبوب نظر بنے رہے لیکن اس بار طلبہ نے قومی ہمدردی میں احتجاج کردیا تو انتظامیہ کی نگاہیں ٹیڑھی ہوگئیں کیوں کہ یہ احتجاج اپنے کچھ لوگوں کے سیاسی مفاد کے خلاف ہے.

*ایک نظر ماضی پر*

ایک زمانہ تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ وطلبہ ہڑتال کرنے، کرانے میں ایکس پرٹ تھے…ہڑتالی شہرت کا عالم یہ تھا کہ دیگر افراد کو اس عادت ہڑتالیہ کے خلاف اداریے لکھنا پڑتے تھے…1349ھ میں تاج العلما مفتی محمد عمر نعیمی نے علمائے دیوبند کے ہڑتالی مزاج کے بارے میں لکھا تھا:

*”آج کل جمیعۃ العلما نام رکھنے والی جماعت جو یقیناً وہابیہ کا ایک گروہ ہے کانگریس کی اتباع میں ہڑتالیں کیا کرتا ہے.* “(مقالات تاج العلما ص 118)

آگے تاج العلما لکھتے ہیں:

*”حضور سید عالم ﷺ کی ذکر ولادت کی محفل تو اِن صاحبوں کے لئے بدعت ہے مگر گاندھی اور اس کی قوم تمام اختراعات واجب العمل ہیں. بزرگوں کے عرس کو تو یہ شرک جانتے ہیں مگر کانگریس کے حکم سے ہڑتالیں کرانا فرض سمجھتے ہیں اور اپنے دینی مدارس ان تحریکات کے سلسلے میں بند رکھتے ہیں.”* (ایضاً)

ممکن ہے مذکورہ حوالہ کو فریق مخالف قبول نہ کرے تو ایک شہادت گھر کی لے لیتے ہیں مولانا مظہر سہیل قاسمی، مولانا اظہر شاہ ابن مولانا انظر شاہ کشمیری کے حوالے سے لکھتے ہیں:

*”اور پھر جن کے نتیجے میں دارالعلوم کے اندر سے باہر تک جو ایک مذموم تغیر ہوا.اس کے اساتذہ طلبہ، ملازمین اور متعلقین سے لیکر درو دیوار اور سقف و بام تک کی طبیعتوں میں کانگریسیت کا جو ایک بے پناہ جذبہ جڑ پکڑ گیا.اور اس کی تعلیم وتدریس، اہتمام و انتظام میں جو نمایاں اور افسوس ناک انحطاط پیدا ہوا اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں… کانگریس کی اگست والی تحریک کے موقع پر اس دشمن دیں جماعت(کانگریس) کے اشارے پر دارالعلوم کے طلبہ نے جو ہنگامے کئے اور جس بے دردی سے اپنے مادرِ علمی کو تباہ کرنے کا بیڑا اٹھایا…*(آئینہ دارالعلوم دیوبند ص 3تا 7/بحوالہ دارالعلوم کا حال ماضی کے آئینے میں ص 9)

گھر کی شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ دارالعلوم کی اساتذہ، طلبہ، ملازمین سے لیکر وہاں کے درو دیوار تک میں کانگریسیت حلول کر گئی تھی جس کے باعث طلبہ ہنگامے کرتے پھرتے تھے. مذکورہ اقتباس چونکہ گھر کے آدمی کا ہے اس لئے مضمون نگار نے دبی زبان اور نوک قلم دبا کر لکھا ہے، تاج العلما “طلبہ دارالعلوم کے مبینہ ہنگاموں” کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

*”مدرسہ کا نام تو اسلامی مدرسہ ہے مگر طالب علم بجائے پڑھنے لکھنے کے بازاروں میں پیکٹنگ کرتے پھر رہے ہیں. جو کام آوارہ گرد کرتے ہیں وہ مولوی صورت طالب علموں کے سپرد کیا جاتا ہے… جھنڈے اٹھوائے جاتے ہیں ،جے پکروائی جاتی ہے… گاندھی مہاراج کی جے اور وَندے ماترم کے نعروں سے کانگریسی مولوی صاحبان بہت خوش ہوتے ہیں.”*(مقالات تاج العلما ص 119)

جو بات تاج العلما نے تحریر کی ہے اسی کو ذرا زبان دبا کر مولانا قیصر شاہ ابن انظر شاہ کشمیری یوں لکھتے ہیں :

*”کانگریسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ممبران شوریٰ نے تہذیب واخلاق اور دین ودیانت سے گری ہوئی جو حرکتیں،جو پروپیگنڈے ،جو سازشیں اور جو ہنگامے کئے،ہم دلی حسرت وافسوس کے ساتھ ان کے متعلق یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ ہرگز ان کے شایان شان نہ تھے.* (آئینہ دارالعلوم ص 3تا 7)

آخر وہ کون سے کارنامے تھے جنہیں خود ایک فاضل دیوبند “تہذیب و اخلاق اور دین دیانت سے گری ہوئی حرکتیں” قرار دینے پر مجبور ہوگیا.

*حکومتی انتظامیہ سے چند سوال*

حکومتی انتظامیہ کے متعصبانہ رویے پر دارالعلوم کو خوشامد کی بجائے کچھ سوال کرنا تھے.

🔹 کسی بھی غیر دستوری قانون کی مخالفت جمہوری حق ہے تو اس پر اعتراض اور مقدمہ کی دھمکی کیوں؟

🔹 طلبہ کا پر امن احتجاج پر دھمکانے والے افسران جاٹوں،گوجروں کے پرتشدد احتجاج پر کہاں غائب ہوجاتے ہیں ؟

🔹 جو لوگ حکومتی اداروں میں توڑ پھوڑ کرتے ہیں ،بسوں میں آگ لگاتے ہیں ،پولیس پر حملہ کرتے ہیں ، ان کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا ؟

لیکن ان واجبی سوال کی بجائے مہتمم دیوبند انتظامیہ کی خوشامد کرتے رہے کہ بچوں پر مقدمہ نہ کیا جائے. لیکن منت سماجت کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا. مہتمم جامعہ سے معذرت خواہانہ بیان اخبار میں جاری کرانے کے اگلے ہی دن 250 طلبہ پر مقدمہ قائم کردیا گیا.

عزت خوشامد سے نہیں خودداری سے آتی ہے اور خودداری مفاد پرستوں کے مقدر میں کہاں؟ یہ تو غیرت مندوں کی میراث ہے.

16 ربیع الثانی 1441ھ

14 دسمبر 2019 بروز ہفتہ