أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِىَ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَـقِّ ؕ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا‌ ۚ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ لَا يَتَّخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا‌ ۚ وَّاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَىِّ يَتَّخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا‌ ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

میں عنقریب ان لوگوں (کے دلوں) کو اپنی آیات سے پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں، وہ اگر تمام نشانیاں دیکھ لیں تب بھی ایمان نہیں لائیں گے اور اگر وہ گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو اس راستہ کو اختیار کرلیں گے، کیوں کہ انہوں نے (ہمیشہ) ہماری آیتوں کی تکذیب کی اور وہ ان سے اعراض کرنے والے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” میں عنقریب ان لوگوں (کے دلوں) کو اپنی آیات سے پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں، وہ اگر تمام نشانیاں دیکھ لیں تب بھی ایمان نہیں لائیں گے اور اگر وہ گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو اس راستہ کو اختیار کرلیں گے، کیوں کہ انہوں نے (ہمیشہ) ہماری آیتوں کی تکذیب کی اور وہ ان سے اعراض کرنے والے تھے “۔

اللہ کی آیات سے کفار کے دلوں کو پھیرنے کی توجیہ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : میں عنقریب ان لوگوں (کے دلوں) کو اپنی آیات سے پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں۔ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے کفار کے دلوں کو اپنی آیات سے پھیر دیا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان نہ لانے پر کفار کی مذمت کیوں فرمائی ہے، مثلا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” فمالہم لا یومنون : ان کو کیا ہوا وہ ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ ” (فما لہم عن التذکرۃ معرضین : انہیں کیا ہوا کہ وہ نصیحت سے اعراض کر رہے ہیں۔ المدثر :49) ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حسن بصری سے منقول ہے کہ جب کفار اپنے کفر میں مبالگہ کرتے ہیں اور اس حد تک پہنچ جاتے ہیں جس میں ان کا قلب مرجاتا ہے تو پھر ان کو کوئی ہدایت مفید نہیں ہوتی اور ان لوگوں کی سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو اپنی آیات سے پھیر دیتا ہے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔

تکبر کا لغوی اور شرعی معنی 

اس آیت میں تکبر کرنے والوں پر بھی وعید فرمائی ہے۔ تکبر کا معنی بیان کرتے ہوئے امام راغب اصفہانی متوفی 502 ح فرماتے ہیں : دل میں اپنے آپ کو دوسروں سے اچھا اور بڑا سمجھنے کی وجہ سے انسان کو جو حالت حاصل ہوتی ہے اس کو تکبر کہتے ہیں اور سب سے بڑا تکبر یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے تکبر کرے اور حق کو ماننے اور قبول کرنے سے انکار کرے اور عبادت کرنے سے عار محسوس کرے، اگر انسان بڑائی کو حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کرے تو یہ محمود ہے اور اگر انسان اپنی بڑائی ظاہر کرے اور اس میں وہ بڑے اوصاف نہ ہوں تو یہ مذموم ہے۔ (المفردات، ج 2، ص 545، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : 

” وہ تکبر کرتے ہیں ” اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو افضل الخلق سمجھتے ہیں اور ان کو وہ اختیار حاصل ہے جو ان کے غیر کو حاصل نہیں ہے اور یہ تکبر صرف اللہ کو زیبا ہے کیونکہ وہی ایسی قدرت اور اسیی فضیلت کا مالک ہے جو کسی اور کے لیے ممکن نہیں ہے، اس لیے وہی متکبر کی صفت کا مستحق ہے۔ بعض علماء نے یہ کہا کہ تکبر کی تعریف یہ ہے کہ انسان دوسروں پر اپنی بڑائی ظاہر کرے اور تمام بندوں کے حق میں تکبر کی صفت مذموم ہے، اور اللہ تعالیٰ کے حق میں تکبر کی صفت محمود ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق ہے کہ وہ دوسروں پر اپنی بڑائی ظاہر فرمائے اور اس کے لیے یہ حق ہے اور دوسروں کے لیے باطل ہے۔ (تفسیر کبیر ج 5، ص 366، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 115 ھ)

امام راغب اصفہانی اور امام رازی نے تکبر کا جو معنی بیان کیا ہے وہ درست ہے لیکن تکبر کا شرعی معنی وہ ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس حدیث سے مستفاد ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ کے باربر بھی تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک شخص نے کہا : آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو اور اس کی جوتی اچھی ہو، آپ نے فرمایا : اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر حق بات کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ (صحیح مسلم الایمان : 147 (91) 259 ۔ سنن ابو داود، رقم الحدیث : 4091 ۔ سنن الترمذی رقم الحدیث : 1998 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 59 ۔ مسند احمد ج 1 ص 451، رقم الحدیث : 4310 ۔ جامع الاصول رقم الحدیث : 8210)

تکبر کے معنی کی مزید وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : روئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں ہے کہ جو اس حال میں مرے کہ اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہو مگر اللہ اس کو دوزخ میں (داخل) کردے گا، جب حضرت عبداللہ بن قیس انصاری نے یہ حدیث سنی تو وہ رونے لگے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے عبداللہ بن قیس تم کیوں رو رہے ہو ؟ انہوں نے کہا : آپ کے ارشاد کی وجہ سے، آپ نے فرمایا : تمہیں مبارک ہو تم جنت میں ہوگے۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا اس میں انہوں نے جہاد کیا اور شہادت پائی۔ آپ نے پھر اس حدیث کو تین بار دہرایا، انصار میں سے ایک شخص نے کہا : یا نبی اللہ ! میں جمال سے محبت کرتا ہوں، میں تلوار حمائل کرتا ہوں اور میلے کپڑے دھوتا ہوں اپنی جوتی اور اس کے تسموں کو حسین بناتا ہوں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری مراد یہ نہیں ہے، تکبر حق کا انکار کرنا ہے اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ اس نے کہا : یا نبی اللہ ! حق کے انکار کرنے اور لوگوں کو حقیر جاننے کا کیا معنی ہے ؟ آپ نے فرمایا : حق کا انکار یہ ہے کہ تمہاری کسی شخص پر مال ہو وہ اس کا انکار کردے اور کہے کہ اس کے اوپر کوئی حق نہیں ہے، پھر کوئی شخص اس کو اللہ سے ڈرنے کا حکم دے تو وہ اس کا انکار کرے، اور لوگوں کو حقیر جاننا یہ ہے کہ ایک شخص ناک چڑھا کر آئے اور جب وہ پس ماندہ اور فقراء لوگوں کو دیکھے تو ان کو سلام نہ کرے اور ان کو بےوقعت جان کر ان کے پاس نہ بیٹھے، پس یہ وہ شخص ہے جو لوگوں کو حقیر جانتا ہے۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنے اور جوتی کی مرمت کی اور دراز گوش پر سوار ہوا اور نوکر جب بیماری ہوں تو ان کی عیادت کی اور بکری کا دودھ دوہا تو وہ تکبر سے بری ہوگیا۔ (المطالب العالیہ رقم الحدیث : 2675، علامہ احمد بن ابی بکر بوصیری متوفی 840 ھ نے اس حدیث کو مسند عبد بن حمید اور حاکم سے نقل کیا ہے۔ اتحاف السادۃ المہرۃ بزوائد المسانید العشرۃ، ج 8، ص 290)

تکبر کی مذمت اور اس پر وعید کے متعلق قرآن مجید کی آیات 

تکبر کی مذمت اور اس پر وعید کے متعلق قرآن مجید کی حسب ذیل آیت ہیں : ” کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار : اسی طرح اللہ ہر مغرور متکبر کے دل پر مہر لگا دیتا ہے ” (المومن :35) ۔ ” وخاب کل جبار عنید : اور ہر متکبر معاند ہلاک ہوگیا ” (ابراہیم :15) ۔ ” انہ لایحب المستکبرین : بیشک وہ تکبر کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ” (النحل : 23) ۔ ” ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جہنم داخرین : بیشک جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے ” تکبر کی مذمت اور اس پر وعید کے متعلق احادیث 

حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے کہ عزت میرا تہبند ہے اور کبریاء (بڑائی) میری چادر ہے جس شخص نے ان میں سے کسی کو بھی کھینچا میں اس کو عذاب دوں گا۔ امام ابو داود کی روایت میں ہے جس نے ان میں سے ایک کپڑے کو بھی کھینچا میں اس کو دوزخ میں ڈال دوں گا۔ (صحیح مسلم البر والصلہ : 136 (2620) 6557 ۔ سنن ابوداود رقم الحدیث : 4090 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 4174 ۔ مسند حمیدی، رقم الحدیث : 1194 ۔ مسند احمد ج 2، رقم الحدیث : 248، 414)

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : متکبروں کو قیامت کے دن مردوں کی صورت میں چیونٹی کی جسامت میں جمع کیا جائے گا ان کو ہر طرف سے ذلت ڈھانپ لے گی، ان کو دوزخ کے قید خانہ کی طرف ہنکایا جائے گا جس کا نام بولس ہے، اس میں آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہوں گے، ان کو دوزخیوں کی پیپ پلائی جائے گی (سنن الترمذی رقم الحدیث : 2492 ۔ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : 8800 ۔ مسند الحمیدی، رقم الحدیث : 598 ۔ مسند احمد ج 2، ص 179، رقم الحدیث : 6677، الادب المفرد رقم الحدیث : 557 ۔ جامع الاصول رقم الحدیث : 8212) 

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمیشہ آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھتا رہتا ہے حتی کہ اس کو متکبرین میں لکھ دیا جاتا ہے اور اس کو متکبرین کا عذاب پہنچتا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 2007 ۔ جامع الاصول رقم الحدیث : 8213)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا : اے لوگو ! بیشک اللہ عزوجل نے تم سے زمانہ جاہلیت کے بوجھ کو اتار دیا ہے اور تمہارے باپ دادا کی بڑائی کو ختم کردیا ہے، اب لوگوں کی دو قسمیں ہیں، نیک پرہیزگار، وہ اللہ عز وجل کے نزدیک کریم ہے اور فاجر بدبخت، وہ اللہ عزوجل کے نزدیک ذلیل ہے، تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور اللہ ت عالیٰ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور ہم نے تمہاری مختلف قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کی شناخت کرو، بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 3277 ۔ صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : 2781 ۔ جامع الاصول رقم الحدیث : 8214)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دوزخ اور جنت نے مباحثہ کیا، دوزخ نے کہا : مجھ میں متکبرین اور متجبرین داخل کیے گئے ہیں اور جنت نے کہا : مجھے کیا پرواہ ہے جب کہ مجھ میں صف کمزور، عاجز اور متواضع لوگ داخل کیے گئے۔ (الحدیث) (صحیح مسلم المنافقین : 35 (2846) 7040 ۔ صحیح البخاری، رقم الحدیث : 4850)

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ شخص جنت میں داخل ہوجائے گا جو اس حال میں مرا کہ وہ ان تین چیزوں سے بری تھا : تکبر، خیانت اور قرض۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 1578 ۔ مسند احمد ج 8، رقم الحدیث : 22432)

حضرت حارثہ بن وھب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : کیا میں تم کو اہل جنت کی خبر نہ دوں ؟ ہر کمزور شخص جس کو بےحد کمزور سمجھا جاتا ہو اگر وہ اللہ پر (کسی کام کی) قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم ضرور پورا کرے گا، اور کیا میں تم کو اہل دوزخ کی خبر نہ دوں ؟ ہر سرکش، اکڑ کر چلنے والا متکبر (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 6657، 6071، 4918 ۔ صیح مسلم رقم الحدیث : 2853 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 4116)

حضرت نعیم بن ھماز الغطفانی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیسا برا بندہ ہے وہ بندہ جو بڑا بنے اور تکبر کرے اور الکبیر المتعال (اللہ تعالیٰ جو حقیقتاً سب سے بڑا ہے) کو بھول جوائے، اور کیسا برا بندہ ہے وہ بندہ جو دین کے بدلہ میں دنیا لے، اور کیسا برا بندہ ہے وہ بندہ جو لہو ولعب میں وقت گزارے اور قبروں کو اور جسم کے بوسیدہ ہونے کو بھول جائے، اور کیسا برا بندہ ہے وہ بندہ جو شبہات سے حرام کو حلال کرے، اور کیسا برا بندہ ہے وہ بندہ جس کو خواہش (نفس) گمراہ کردے، اور کیسا برا ہے وہ بندہ جو اس چیز میں رغبت کرے جو اس کو ذلیل کردے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 2456 ۔ مجمع الزوائد ج 10، ص 234)

رسول اللہ سلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد شدہ غلام نافع بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسکین متکبر، بوڑھا، زانی اور اپنے عمل سے اللہ تعالیٰ پر احسان جنانے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ (مجعم الزوائد ج 6، ص 256، مطبوعہ دار الکتب العربیہ بیروت)

حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک تمہارا رب واحد ہے اور تمہارا باپ واحد ہے، پس کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر تقوی کے سوا اور کسی وجہ سے فضیلت نہیں ہے، اور مسند بزار میں اس طرح ہے : تمہارا باپ واحد ہے اور تمہارا دین واحد ہے۔ تمہارا باپ آدمی ہے اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔ (المعجم الاوسط، ج 5، رقم الحدیث : 4143 ۔ مسند البزار رقم الحدیث : 2044، 3583، حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ مسند البزار کی سند صحیح ہے، مجمع الزوائد، ج 8، ص 160، مطبوعہ دار الفکر، 1414 ھ، طبع جدید)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو غلام تھے ایک حبشی دوسرا نبطی تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو برا کہا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سن رہے تھے، ایک نے دوسرے سے کہا اے نبطی، دوسرے نے اس کو کہا اے حبشی۔ آپ نے فرمایا تم دونوں اس طرح نہ کہو، تم دونوں (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ہو۔ (مسند ابو یعلی ج 7، رقم الحدیث : 4146 ۔ مجمع لازوائد ج 8، ص 86 ۔ المطالب العالیہ رقم الحدیث : 2524 ۔ اتحاف السادۃ المہرۃ ج 7 رقم الحدیث : 6107)

تکبر کی وجہ سے ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے کا مکروہ تحریمی ہونا اور تکبر کے بغیر مکرو تحریمی نہ ہونا 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ قیامت کے دن اس شخص کی طرف نظر (رحمت) نہیں فرمائے گا جس نے اپنا کپڑا تکبر کی وجہ سے (ٹخنوں سے نیچے) لٹکایا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 5783 ۔ صحیح مسلم لباس : 42 (2085) 5353 ۔ سنن الترمذی رقم الحدیث : 1737 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 5326 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3569 ۔ موطا امام مالک رقم الحدیث : 570، مسند احمد ج 2، ص 56، رقم الحدیث : 5188، مسند الحمیدی رقم الحدیث : 636)

ابو وائل بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) کا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکتا رہتا تھا، ان سے اس کے متعلق استفسار کیا گیا، انہوں نے کہا میں ایسا شخص ہوں جس کی پنڈلیا پتلی ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج 8، ص 206، مطبوعہ ادارۃ القرآن، کراچی، 1406 ھ)

تکبر کے بغیر ٹخنوں سے نیچے لباس لٹکانے کے متعلق فقہاء احناف کی تصریحات 

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی 855 ھ مذکور الصدر حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں : 

جس شخص نے بغیر قصد تکبر کے تہبند ٹخنوں کے نیچے باندھا اس میں کوئی کراہت نہیں ہے نہ کوئی حرج ہے، اسی طرح کسی ضرر کو دور کرنے کے لیے بھی ٹخنوں سے نیچے لباس لٹکانا جائز ہے، مثلا اس کے ٹخنوں کے نیچے کوئی زخم ہو یا خارش ہو یا اگر وہ ٹخنوں کو نہ ڈھانپے تو اس پر مکھیاں اور دیگر حشرات الارض کے بیٹھنے کا خطرہ ہو اور لمبی قمیص یا لمبا تہبند اور کوئی چیز ڈھانپنے کے لیے میسر نہ ہو۔ (عمدۃ القاری ج ٢١ ص ٢٩٥ مطبوعہ ادارہ الطباعۃ المنیریہ مصر ١٣٤٨ ھ)

نیز علامہ عینی لکھتے ہیں :

حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) نے اپنے تہبند کے ایک جانب پھسل جانے کا ذکر کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم تکبر سے ایسا نہیں کرتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٨٤) اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ جس شخص کا تہبند بلاقصد پھسل جائے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ حضرت ابن عمر (رض) ہرحال میں تہبند لٹکانے کو مکروہ کہتے تھے اس کے جواب میں علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ یہ حضرت ابن عمر کی تشدیدات میں سے ہے ورنہ حضرت ابن عمر تو خود اس حدیث کے راوی ہیں ان سے یہ حکم کیسے مخفی ہوسکتا ہے۔

(عمدۃ القاری ج ٢١ ص ٢٩٦ مطبوعہ ادارہ الطباعۃ المنیریہ مصر ١٣٤٨ ھ)

علامہ بدرالدین عینی حنفی مزید لکھتے ہیں :

نماز کسوف کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلدی سے اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے کھڑے ہوئے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٨٥) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بغیر تکبر کے تہبند گھسیٹ کر چلنا حرام نہیں ہے لیکن مکروہ تنزیہی ہے۔

(عمدۃ القاری ج ٢١ ص ٢٩٦ مطبوعہ ادارۃ الطباعہ المنیریہ مصر ١٣٤٨ ھ)

غیر ارادی طور پر تہبند قدموں سے نیچے گھسیٹ رہا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن ارادتاً تہبند یا شلوار اتنی لمبی رکھنا کہ وہ قدموں کے نیچے گھسٹ رہی ہو حرام ہے خواہ تکبر کی نیت نہ ہو۔ کیونکہ اس میں بہرحال اسراف ہے اور اپنے کپڑوں کو نجاست سے آلودگی کے خطرہ میں ڈالنا ہے۔ البتہ اگر لباس قدموں کے نیچے نہیں گھسٹ رہا تھا صرف ٹخنوں سے نیچے تھا تو یہ بغیر تکبر کے مکروہ تنزیہی ہے اور تکبر کے ساتھ مکروہ تحریمی ہے۔

ملا علی بن سلطان محمد القاری الحنفی المتوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں :

بخاری کی حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ بغیر تکبر کے تہبند گھسیٹ کر چلنا حرام نہیں ہے لیکن یہ مکروہ تنزیہی ہے۔

(المرقات ج ٨ ص ٢٣٨ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ١٣٩٠ ھ)

شیخ عبدالحق محدث دہلوی حنفی متوفی ١٠٥٢ ھ لکھتے ہیں :

اگر کوئی شخص تکبر اسراف اور طغیان (سرکشی) کی نیت سے اپنے تہبند کو لمبا بناتا ہے اور اس کو گھسیٹتا ہے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسکی طرف لفط و عنایت کی نظر نہیں فرمائے گا۔ اس قید سے معلوم ہوا کہ اگر تہبند اس طرح نہ ہو تو حرام نہیں ہے لیکن مکروہ تنزیہی ہے۔ اور اگر کوئی عذر ہو مثلاً سردی ہو یا کوئی بیماری ہو (مثلاً ٹخنے کے نیچے کوئی زخم ہو جس پر مکھیاں بیٹھتی ہوں تو ان سے زخم کو بچانے کے لیے ٹخنہ ڈھانپے) تو بالکل مکروہ نہیں ہے۔

اشعتہ اللمعات ج ٣ ص ٥٣٧ مطبوعہ مطبع تیج کمار لکھنئو)

نیز شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں :

حرام وہ صورت ہے جب کوئی شخص عجب اور تکبر سے کپڑا لٹکائے۔ (اشعتہ اللمعات ج ٣ ص ٥٥٥ مطبوعہ لکھنئو)

نیز شیخ محقق فرماتے ہیں :

طعام اور لباس میں توسیع اسراف اور تکبر کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہے اور اگر اس طرح نہ ہو تو پھر مباح ہے۔

(اشعتہ اللمعات ج ٣ ص ٥٥٨ مطبوعہ تیج کمار لکھنئو)

فتاوٰی عالمگیری میں مذکور ہے :

مرد کا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکانا اگر تکبر کی وجہ سے نہ ہو تو مکروہ تنزیہی ہے۔ اسی طرح غرائب میں ہے۔

(فتاوٰی عالمگیری ج ٥ ص ٣٣٣ مطبوعہ مطبعہ امیریہ کبریٰ بولاق مصر ١٣١٠ ھ)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں :

پانچوں کا کعین (ٹخنوں) سے نیچا ہونا جسے عربی میں اسبال کہتے ہیں اگر براہ عجب وتکبر ہے تو قطعاً ممنوع و حرام ہے اور اس پر وعید شدید وارد۔ امام محمد بن اسماعیل بخاری اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے تکبر کی وجہ سے اپنی چادر کو لٹکایا قیامت کے دن اللہ عزوجل اس کی طرف نظر (رحمت) نہیں فرمائے گا۔ امام ابودائود، امام بن ماجہ، امام نسائی اور امام ترمذی نے بھی الفاظ متقاربہ کے ساتھ اسی طرح روایت کیا ہے اور اگر بوجہ تکبر نہیں تو بحکم ظاہر احادیث مردوں کو بھی جائز ہے جیسے کہ تکبر کی قید سے تم کو خود معلوم ہوگا حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری ازار ایک جانب سے لٹک جاتی ہے فرمایا تو ان میں سے نہیں ہے جو ایسا براہ تکبر کرتا ہو احادیث میں جو اس پر وعید ہے اس سے یہی صورت مراد ہے کہ بہ تکبر اسبال کرتا ہو ورنہ ہرگز یہ ووعید شدید اس پروارد نہیں مگر علماء در صورت عدم تکبر حکم کراہت تنزیہی دیتے ہیں۔ فتاوٰی عالمگیری میں ہے اگر اسبال تکبر سے نہ ہو تو مکروہ تنزیہی ہے اسی طرح غرائب میں ہے۔

بالجملہ اسبال اگر براہ عجب وتکبر ہے حرام ورنہ مکروہ اور خلاف اولیٰ نہ حرام و مستحق وعید اور یہ بھی اس صورت میں ہے کہ پائنچہ جانب پاشنہ نیچے ہوں اور اگر اس طرف کعین سے بلند ہیں گوپنجہ کی جانب پشت پا پر ہوں ہرگز کچھ مضائقہ نہیں اس طرح کا لٹکانا حضرت ابن عباس (رض) بلکہ خود حضور سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے۔ امام ابودائود نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ عکرمہ نے دیکھا کہ حضرت ابن عباس (رض) نے چادر باندھی اور اگلی جانب سے چادر ان کے قدم کی پشت پر تھی اور چادر کی پچھلی جانب اوپر اٹھی ہوئی تھی میں نے پوچھا آپ نے اس طرح چادر کیوں باندھی ہے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح چادر باندھے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٠٩٦) اس حدیث کے تمام راوی ثقہ اور عدول ہیں جن سے امام بخاری روایت کرتے ہیں۔ شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی اشعتہ اللمعات شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں اس جگہ سے معلوم ہوا کہ اسبال کی نفی میں ایک جانب سے اونچا کرنا کافی ہے۔ عالمگیری میں ہے کہ ہاں اس میں شبہ نہیں کہ نصف ساق تک پانچوں کا ہونا بہتر و عزیمت ہے اکثر ازار پر انوار سید الابرار یہیں تک ہوتی تھی۔

(فتاوٰی رضویہ ج ١٠ ص ١٢٥ ایضاً ص ١١٠، ٢٩٥ مطبوعہ ادارہ تصنیفات امام احمد رضا کراچی ١٩٨٨ ئ)

تکبر کے بغیر ٹخنوں سے نیچے لباس رکھنے کے جواز پر شافعی مالکی اور حنبلی فقہاء کی تصریحات :

علامہ شرف الدین حسین بن محمد الطیی الشافعی المتوفی ٧٤٢ ھ لکھتے ہیں :

امام شافعی نے یہ تصریح کی ہے کہ کپڑا لٹکانے کی تحریم تکبر کے ساتھ خاص ہے۔ ظواہر احادیث کا یہی تقاضا ہے اور اگر بغیر تکبر کے ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکائے تو پھر یہ مکروہ تنزیہی ہے۔

(شرح الطیسی ج ٨ ص ٢٠٨ مطبوعہ ادارہ القرآن کراچی ١٢١٣ ھ)

علامہ نووی شافعی اور علامہ کرمانی شافعی نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔

(شرح مسلم ج ٢ ص ١١٥ مطبوعہ کراچی شرح کرمانی للبخاری ج ٢١ ص ٥٣ مطبوعہ بیروت)

حافظ ابو عمر یوسف بن عبداللہ بن عبدالبر مالکی اندلسی متوفی ٤٦٣ ھ لکھتے ہیں :

(موطا امام مالک کی) یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ جس شخص نے بغیر تکبر کے اپنے تہبند کو گھسیٹا (یعنی تہبند اتنا دراز تھا کہ زمین پر گھسٹ رہا تھا) اور نہ اس میں کوئی اکڑ تھی تو اس کو وعد مذکور لاحق نہیں ہوگی۔ البتہ تہبند قمیص اور باقی کپڑوں کو گھسیٹتے ہوئے چلنا ہرحال میں مذموم ہے اور جو تکبر سے کپڑا گھسیٹے اس کو یہ وعید بہرحال لاحق ہوگی۔

(التمید ج ٣ ص ٢٤٤ مطبوعہ مکتبہ قدوسیہ لاہور فتح المالک بتبویب التمید لابن عبدالبرج ٩ ص ٣٨٦ مطبوعہ دارالکتب العلیہ بیروت ١٤١٨ ھ)

نیز حافظ ابن عبدالبر مالکی الاستذکار میں تحریر فرماتے ہیں :

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ جس شخص نے اپنے تہبند یا کپڑے کو تکبر یا اکڑ سے نہیں گھسیٹا تو اس کو یہ وعید مذکور لاحق نہیں ہوگی اور خیلاء اور بطر کا معنی ہے تکبر کرنا اکڑ کر چلنا اور لوگوں کو حقیر جاننا۔

(الاستذکا رج ٢٦ ص ١٨٧ : ١٨٦ مطبوعہ موسسہ الرسالہ)

علامہ شمس الدین مقدسی محمد بن مفلح حنبلی متوفی ٧٦٣ ھ لکھتے ہیں :

صاحب النظم نے ذکر کیا ہے کہ جس شخص کو تکبر کا خوف نہ ہو اس کے لیے ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا مکروہ نہیں ہے اور اولیٰ اس کو ترک کرنا ہے۔ (کتاب الفروع ج ١ ص ٣٤٤ مطبوعہ عالم الکتب بیروت ١٤٠٥ ھ)

ان کثیر حوالہ جات سے یہ واضح ہوگیا کہ اگر تکبر اور اکڑ کر چلنے کی نیت کے بغیر تہبند یا شلوار یا پاجامہ ٹخنوں سے نیچے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہی یا خلاف اولیٰ ہے۔ البتہ شلوار یا پاجامہ یا تہبند انسان کی قامت اور اس کے قد سے لمبا نہ ہو کہ قدموں کے نیچے سے گھسٹ رہا ہو اگر ایسا ہو تو یہ علامہ ابن عبدالبر کی تصریح کے مطابق مذموم ہوگا بلکہ اسراف اور زمانہ قدیم کی عورتوں کی مشابہت کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہوگا۔

ٹخنوں سے نیچے پائنچے لٹکانے میں علماء دیوبند کا موقف :

(سوال ١١١٤) زید کا خیال ہے کہ ازار تحت الکعین ممنوع اس وقت ہے جب کہ براہ تکبر وخیلاء ہو جیسا کہ عرب کا دستور تھا کہ اس پر فخر کیا کرتے تھے اور جب کہ تکبرانہ ہو محض خوبصورتی اور زینت کے لیے ایسا کرے تو جائز ہے (الی قولہ) چناچہ احادیث میں اکثر یہ قید مذکور ہے کہ من جرازارہ خیلاء (جس نے اپنے تہبند کو تکبر سے گھسیٹا) وغیرہ میں خیلاء کی قید ضرور ہے اور جو حدیثیں مطلق ہیں جیسے ما اسفل منن الکعبین ففی النار (جو کپڑا ٹخنوں سے نیچے ہو وہ دوزخ میں ہے) وہ بھی حسب دستور عرب اسی قید پر محمول ہیں اور مطلق کا مقید پر محمول نہ ہونا اس وقت ہے جبکہ مطلق ومقید دونوں دو واقعہ پر آئے ہوں جیسے کفارہ قتل و کفارہ ظہار اور اتحاد واقعہ کے وقت حسب اصول حنفیہ مطلق مقید پر محمول ہوجاتا ہے جیسے کفارہ قسم کا۔ قرأت ابن مسعود میں متتابعات کے ساتھ مقید ہوجانا۔ نیز اس کی مویدوہ حدیث ہے کہ حضرت نے ما اسفل من الکعبین کی وعید بیان کی اور فرمایا : من جر ثوبہ خیلاء لن ینظر اللہ الیہ یوم القیامہ (جس نے تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑا گھسیٹا قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا) تو حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری ازار لٹک پڑتی ہے الا ان اتعاھد (مگر یہ کہ میں اس کی دیکھ بھال کروں) تو حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں (رواہ البخاری کذافی المشکوۃ) پس اگر مطلقاً جرازار (تہبند گھسیٹنا) ممنوع ہوتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اجازت نہ دیتے تو معلوم ہوا کہ یہ وعید خیلائ (تکبر) ہی کی صورت ہے اور بلا اس کے جائز ہے اس شبہ کا حل مطلوب ہے۔

شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ١٣٦٤ ھ اس سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :

نورالانوار میں ایک حکم میں مطلق کو مقید پر محمول کرنے ی بحث میں ہے : صدقہ فطر کے سبب میں دو نیس وارد ہیں اور اسباب میں کوئی مزاحمت نہیں ہے پس ان کے درمیان جمع کرانا واجب ہے یعنی ہم نے جو کہا ہے کہ حادثہ واحدہ اور حکم واحد میں مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا یہ اس وقت ہے جب مطلق اور مقید دونوں حکم میں وارد ہوں تضاد کی وجہ سے لیکن جب مطلق اور مقید اسباب یا شروط میں وارد ہوں تو پھر کوئی مضائقہ اور تضاد نہیں ہے پس یہ ممکن ہے کہ مطلق اپنے اطلاق کے ساتھ سبب ہو اور مقید اپنی تقسید کے ساتھ سبب ہو اور مانحن فہو (زیر بحث صورت) میں حکم معصیت ہے اور مطلق جر اور جر للحیلاء اسباب اس کے ہیں یہاں مطلق کو مقید پر محمول کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے پس مطلق جر کو بھی حرام کہیں گے اور جو للحیلاء کو بھی۔ (مطلق تہبند گھسیٹنا بھی حرام ہے اور تکبر کی وجہ سے گھسٹینا بھی حرام ہے) ۔

(امداد الفتاویٰ ج ٤ ص ١٢٢، ١٢١۔ مطبوعہ مکتبہ دارالعلوم، کراچی)

مطلق کو مقید پر محمول کرنے یا نہ کرنے کے قواعد :

شیخ تھانوی کا مذکور جواب صحیح نہیں ہے۔ اس جواب کا رد کرنے سے پہلے ہم چاہتے ہیں کہ فقہاء احناف کے نزدیک مطلق کو مقید پر محمول کرنے اور نہ کرنے کے قواعد کی وضاحت کردیں تاکہ عام قارئین بھی اس مسئلہ کو آسانی سے سمجھ لیں۔ فقہاء احناف کے نزدیک جب کسی واقعہ میں ایک حکم ایک جگہ مطلق ہو اور دوسری جگہ مقید ہو تو مطلق کو مقید پر محمول کرنا واجب ہے ورنہ حکم میں تضاد ہوگا۔ ایک جگہ مطلق ہے اور ایک جگہ مقید ہے اس کی یہ مثال ہے :

اللہ تعالیٰ نے قسم توڑنے کا کفارہ بیان فرمایا کہ وہ دس مسکینوں کو متوسط درجہ کا کھانا کھلائے یا ان کو کپڑے پہنائے یا ایک غلام آزاد کرے پھر اس کے بعد فرمایا :

فمن لم یجد فصیام ثلثۃ ایام :

اور جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے۔

(المائدہ : ٨٩)

اس آیت میں تین دن کے روزے مطلق ہیں لیکن حضرت ابن مسعود (رض) کی قرأت میں ہے فصیام ثلاثۃ ایام متتابعات تین دن کے مسلسل روزے۔ پہلا حکم مطلق تھا اور دوسرا حکم مقید ہے۔ اب اگر مطلق کو مقید پر محمول نہ کیا جائے تو حکم میں تضاد لازم آئے گا۔ اس لیے یہاں مطلق کو مقید پر محمول کرنا واجب ہے اور تین دن کے پے درپے روزے رکھنا قسم کا کفارہ ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب مطلق اور مقید حکم میں وارد ہوں تو مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے لیکن جب مطلق اور مقید سبب میں وارد ہوں مثلاً ایک واقعہ میں ایک جگہ حکم کا سبب مطلق ہے اور دوسری جگہ اس واقعہ میں حکم کا سبب مقید ہے تو اب مطلق کو مقید پر محمول کرنا واجب نہیں ہے کیونکہ ایک حکم کئی سبب ہوسکتے ہیں تو جائز ہے کہ ایک سبب مطلق ہو اور دوسرا سبب مقید ہو اور اس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ جیسے ایک حدیث میں ہے : ہر آزاد اور غلام کی طرف سے صدقہ فطرادا کرو اور دوسری حدیث میں ہے : ہر آزاد اور مسلمان غلام کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرو۔ پہلی حدیث میں مطلق غلام کا ذکر ہے اور دوسری حدیث میں مقید ہے یعنی مسلمان غلام کا ذکر ہے اب مطلق کو مقید پر نہیں محمول کیا جائے گا کیونکہ صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کا سبب سر (شخص) ہے پہلی حدیث میں اس حکم کا سبب مطلق سر یعنی (مطلق) غلام ہے اور دوسری حدیث میں مقید سر (شخص) یعنی مسلمان غلام اس حکم کا سبب ہے اور ایک حکم کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں۔ ان میں تضاد نہیں ہے اس لیے یہاں مطلق کو مقید پر محمول نہیں کیا جائے گا۔

(نورالانوارص ١٦٠۔ ١٥٩، مطبوعہ کراچی التوضیح والتلویح ج ا ص ١٢٢ مطبوعہ کراچی تیسیرالحتریر ج ا ص ٣٣٤، ٣٣٠ کشف الاسرارج ٢ ص ٥٣٥، ٥٣٤) ۔

شیخ تھانوی کے دلائل پر بحث ونظر :

اس تمہید کے بعد ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ شیخ تھانوی کا جواب صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ زیر بحث صورت میں حکم معصتم (نافرمانی) ہے اور مطلق جر اور جرللخیلاء اسباب اس کے ہیں۔ (امداد الفتاوٰی ص ١٢٢ ) ۔

جرثوب یا جرث بللخیلا (کپڑا گھسیٹنا یا تکبر کی وجہ سے کپڑا گھسیٹنا) یہی تو بعینہ معصیت اور نافرمانی ہے۔ تھانوی صاحب اسی کو حکم بھی قرار دے رہے ہیں اور اسی کو حکم کے اسباب بھی قرار دے رہے ہیں اور یہ صریح کون الشئی سببالنفسہ (کسی چیز کا خود اپنا سبب ہونا) ہے اور یہ بداھتہ باطل ہے سبب مقدم ہوتا ہے اور اس کا حکم موخر ہوتا ہے اور جب ایک چیز خود اپنا سبب ہوگی تو وہ اپنے آپ پر مقدم ہوگی اور یہ علمی اصطلاح میں دور ہے جو عقلاً محال اور باطل ہے۔

نیز تھانوی صاحب نے لکھا ہے اس بحث میں حکم معصیت ہے۔ (امداد الفتاویٰ ص ١٢٢) واضح رہے کہ حکم کے دو معنی ہیں ایک حکم منطقی یا نحوی ہے۔ اس کی تعریف ہے ایک امر کا دوسرے امر کی طرف ایجاباً یا سلبا اسناد اور دوسرا حکم شرعی ہے اس کی تعریف ہے اللہ تعالیٰ کا حکم جو مکلفین کے افعال سے متعلق ہو۔ (التعریفات ص ٦٦، ٦٥، مطبوعہ مکہ مکرمہ) اور مطلق اور مقید کی اس بحث میں حکم سے مراد حخم شرعی ہے یعنی اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم۔ پہلے حکم کی مثال ہے کفارہ قسم میں تین دن کے یا مسلسل تین دن کے روزے رکھنا یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور دوسرے کی مثال ہے ہر آزاد اور غلام کی طرف سے صدقہ فطر ادا کردیا ہر آزاد اور مسلمان غلام کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرویہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی مثال ہے۔

اس جواب میں دوسری غلطی یہ ہے کہ اس جواب میں معصیت کو حکم کہا گیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معصیت کا حکم نہیں دیتے بلکہ معصیت نہ کرنے کا حکم دیتے ہیں اس حدیث میں سرے سے کوئی حکم ہی نہیں ہے بلکہ ایک مخصوص فعل پر اللہ تعالیٰ کی نظر رحمت نہ کرنے کی وعید سنائی ہے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حدیث اس مخصوص فعل (تکبر سے کپڑا گھسیٹنے) کی ممانعت یا اس سے اجتناب کے حکم کو متضمن ہے ہم اس حدیث کو بیان کرکے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں :

عن سالم بن عبداللہ عن ابیہ (رض) عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال من جرثوبہ خیلاء لم ینظر اللہ الیہ یوم القیامۃ قال ابوبکر : یارسول اللہ ان احد شقی ازاری یسترخی الا ان اتعاھدذالک منہ فقال النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لست ممن یصنعہ خیلائ۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے تکبر کے سبب سے اپنا کپڑا گھسیٹا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر نظر (رحمت) نہیں فرمائے گا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : یارسول اللہ ! میرے تہبند کی ایک جانب ڈھلک جاتی ہے سوا اس کے کہ میں اس کی دیکھ بھال کروں۔ پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو یہ (تہبند گھسیٹنا) تکبر سے کرتے ہیں۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٨٤)

اس حدیث میں تہبند گھسیٹنے پر وعید کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وجودا اور عدماً خیلائ (تکبر) پر معلق فرمایا ہے۔ وجودا کی دلیل یہ ہے کہ جو شخص تکبر سے تہبند گھسیٹے اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وعید سنائی ہے اور عدماً کی دلیل یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) سے فرمایا : تم تکبر سے ایسا نہیں کرتے یعنی تم کو یہ وعید لاحق نہیں ہوگی۔ شیخ تھانوی نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ چونکہ خیلاء سبب ہوتا ہے کا اس لیے سبب بول کر مسبب مراد لیا گیا۔ (امداد الفتاوٰی ج ٤ ص ١٢٣) یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا ہے کہ تم تکبر سے ایسا نہیں کرتے اس کا معنی ہے تم عمداً ایسا نہیں کرتے اور تکبر سے مراد عمد ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ تاویل باطل ہے کیونکہ سبب بول کر مسبب مراد لینا مجاز ہے اور مجاز کا ارادہ اس وقت کیا جاتا ہے۔ جب حقیقت محال یا متعذر ہو اور یہاں پر اس کلام کو حقیقت پر محمول کرنے اور تکبر کا معنی مراد لینے پر کوئی عقلی یا شرعی مانع نہیں ہے اس لیے کلام رسول کو اپنی خواہش کا معنی بلاوجہ پہنانا باطل ہے۔

جب یہ واضح ہوگیا کہ کپڑا لٹکانے یا گھسیٹنے کی علت تکبر ہے تو جس صورت میں تکبر نہیں ہوگا اس صورت میں وعید بھی لاحق نہیں ہوگی دیکھئے ربابالفضل کی حرمت کی علت قدر اور جنس کا اتحاد اور بیع کا ادھار ہونا ہے اور جب یہ علت نہیں ہوگی تو ربا بالفضل حرام نہیں ہوگا۔ یا جیسے نماز کی شرط وضو ہے جب وضو نہیں ہوگا تو نماز نہیں ہوگی یا جیسے مثلاً مغرب کی نماز کا سبب غروب آفتاب ہے جب غروب آفتاب نہیں ہوگا تو نماز مغرب کی نماز فرض نہیں ہوگی۔ اسی طرح جب کپڑا لٹکانے میں تکبر نہیں ہوگا تو اس کی وعید بھی لاحق نہیں ہوگی اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ بعض احادیث میں کپڑا لٹکانے پر وعید ہے مگر وہاں خیلاء یا تکبر کا ذکر نہیں ہے۔ مثلاً :

عن ابی ہریرہ (رض) عن النبی (رض) ما اسفل من الکعبین من الازارففی النار :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے لٹک رہا ہو وہ دوزخ میں ہوگا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٨٧)

اس کا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض اوقات کسی حکم یا کسی فعل کی کوئی شرط یا اس کا کوئی سبب بہ طور قید بیان فرماتے ہیں اور پھر اس حکم یا فعل کو اس قید کے بغیر بھی بیان فرماتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اب وہ قید معتبر نہیں ہے وہ قید اب بھی معتبر ہوتی ہے اور اس کے اعتبار کرنے پر وہ حدیث دلیل ہوتی ہے جس میں اس قید کا ذکر فرمایا ہوتا ہے۔ مثلاً یہ حدیث ہے :

عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لیس فی مال زکوۃ حتی یحول علیہ الجول :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک سال نہ گزر جائے کسی مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔

(سنن ابو دائود رقم الحدیث ؛ ١٥٧٣)

اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وجوب زکوۃ کے لیے سال گزرنے کی شرط کا ذکر فرمایا ہے حالانکہ بیشمار احادیث ہیں جن میں اس شرط کا ذکر نہیں کیا ہے اس کے باوجود وجوب زکوۃ میں اس شرط کا اعتبار کیا جاتا ہے کیونکہ اس حدیث میں اس شرط کا ذکر ہے ہم صرف ایک حدیث کا ذکر کررہے ہیں جس میں وجب زکوۃ کے لیے اس شرط کا ذکر نہیں ہے۔ حالانکہ ایسی بیشمار احادیث ہیں :

عن علی قال قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قد عفوت عن الخیل الرقیق فھا تواصدقۃ الرقۃ من کل اربعین درھما درھم ولس فی تسعین ومائۃ شیٗ فذا بلغت مائتین ففیھا خمسۃ دراھم :

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے گھوڑوں اور غلاموں سے زکوۃ معاف کردی تم ہر چالیس درہم سے ایک درہم چاندی زکوۃ دو اور ایک سو نوے درہم میں بالکل زکوۃ نہیں ہے اور جب وہ سو درہم ہوجائیں تو اس میں پانچ درہم زکوۃ ہے۔

(سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٥٧٤ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٦٢٠ سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٤٧٦)

اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث میں تہبند گھسیٹنے یا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے پر عید بیان فرمائی ہے اور اس کو تکبر پر معلق فرمایا اور بعض احادیث میں اس قید کا ذکر نہیں فرمایا تو جہاں اس قید کا ذکر نہیں ہے وہاں بھی اس قید کا اعتبار کیا جائے گا اور اس کے اعتبار کرنے پر وہ احادیث دلیل ہیں جن میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قید کا ذکر فرمایا ہے جس طرح ہم نے زکوۃ میں سال گزرنے کی شرط کے متعلق بیان کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے لیے ہی حمد ہے جس نے مجھے اس مسئلہ کو حل کرنے کی توفیق دی اور شاید کہ قارئین کو کسی اور جگہ یہ تفصیل اور اس مسئلہ کا حل نہ مل سکے۔

شیخ کشمیری اور شیخ میرٹھی کے دلائل :

شیخ انور شاہ کا شمیری ١٣٥٢ ھ لکھتے ہیں :

ہمارے نزدیک کپڑے کو گھسیٹنا مطلقاً ممنوع ہے اور امام شافعی نے ممانعت کو تکبر کی صورت میں منحصر کیا ہے اور اگر تکبر کے بغیر کپڑا گھسیٹا جائے تو وہ جائز ہے اور اس وقت یہ حدیث احکام لباس سے نہیں ہوگی اور حق کے زیادہ قریب فقہاء احناف کا مذہب ہے کیونکہ تکبر فی نفسہ ممنوع ہے اور اس کی کپڑا گھسیٹنے کے ساتھ کوئی خصوصیت نہیں ہے۔ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) سے جو فرمایا تھا کہ تم تکبر کی وجہ سے تہبند نہیں گھسیٹتے تو اس میں تکبر کو ایک مناسب علت کے طور پر بیان فرمایا ہے ہرچند کہ تکبر پر ممانعت کا مدار نہیں ہے اور حضرت ابوبکر (رض) کے لیے تہبند گھسیٹنے کے جواز کی علت یہ تھی کہ جب تک وہ خوب احتیاط سے تہبند باندھیں ان کا تہبند پھسل جاتا تھا۔ البتہ عدم تکبر کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک زائد علت کے طور پر بیان فرمایا جو جواز کی مفید ہے اور اس کی تاکید کرتی ہے اور حضرت ابوبکر (رض) کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس مسئلہ کو پوچھنا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک ممانعت بہ طور عموم تھی۔ (یعنی تکبر ہو یا نہ ہو گھسیٹنا ممنوع ہے) اور اگر ان کے نزدیک یہ ممانعت تکبر کی وجہ سے ہوتی تو پھر ان کے سوال کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

حضرت ابوبکر (رض) نے یہ سوال کیا تھا کہ یارسول اللہ ! میرے تہبند کی ایک جانب پھسل جانتی ہے ال یہ کہ میں اس کو خوب احتیاط سے باندھوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں ؤ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٨٤) اور کسی مناسب امر کو بہ طور علت بیان کرنا معروف طریقہ ہے اور ہمارے لیے یہ کہنا جائز ہے کہ تکبر سے تہبند گھسیٹنا اس شخص کے لیے ممنوع ہے جو مظبوطی سے تہبند باندھ سکتا ہو اس لیے فقط تکبر پر ممانعت کا مدار نہیں ہے۔

شیخ بدر عالم میرٹھی اس عبارت پر حاشیہ لکھتے ہیں :

میں یہ کہتا ہوں کہ شریعت نے صرف گھسیٹنے کو تکبر قرار دیا ہے کیونکہ جو لوگ اپنے کپڑوں کو گھسیٹتے ہیں وہ صرف تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اور ہم نے اپنے زمانہ میں بھی اس کا تجربہ کیا ہے (مشاہدہ لکھنا چاہیے تھا۔ سعیدی غفرلہ) اور اگر ہمارے زمانہ میں اس طرح نہ ہوتا ہو تو عرب میں بہرحال اس طرح ہوتا تھا اور اب اس حکم میں سبب کو مسبب کے قائم مقام کرنا ہے (کپڑا گھسیٹنا سبب ہے اور تکبر مسبب ہے اور کپڑا گھسیٹنے سے اس لیے منع کیا ہے کہ وہ تکبر کا سبب ہے۔ سعیدی غفرلہ) جیسے نیند حدث (وضو ٹوٹنا) نہیں ہے لیکن وہ پٹھوں کے ڈھیلے ہونے کا سبب ہے جس سے عموماً ہواخارج ہوجاتی ہے اس لیے نیند کو حدث کا سبب قرار دے دیا۔ اسی طرح سفر مشقت کے قائم مقام ہے اور مباشرت فاحشہ بھی کسی چیز کے نکلنے کا عادتاً سبب ہے اس لیے مباشرت فاحشہ کو حدث اکبر کا سبب قرار دے دیا۔ اسی طرح کپڑا گھسیٹنا بھی تکبر کا سبب ہے اور یہ ایک پوشیدہ چیز ہے جس کا ادراک کرنا مشکل ہے جیسے سفر میں مشقت اور نیند میں حدث اور مباشرت فاحشہ میں کسی چیز کا نکلنا۔ اس لیے کپڑا گھسیٹنے پر ممانعت کا حکم لگا دیا گیا علاوہ ازیں ہم نے تجربہ کیا ہے کہ ظاہر کا باطن میں اثر ہوتا ہے اسی وجہ سے نیک اور اچھے نام رکھنے کا حکم ہے اور جس شخص نے کپڑا گھسیٹا وہ اس بات سے محفوظ نہیں ہے کہ اس کے باطن میں تکبر سرایت کرجائے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا ہے کہ نصف پنڈلیوں تک تہبند باندھو۔ اور اگر تم انکار کرو تو ٹخنوں میں تمہارا حق نہیں ہے۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٨٣ سنن نسائی رقم الحدیث : ٥٣٤٤ )

اس میں یہ دلیل ہے کہ یہ حدیث احکام لباس سے ہے اور ٹخنوں سے نیچے ہمارا حق نہیں ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ممانعت میں تکبر کی خصوصیت نہیں ہے اور اس سے بھی زیادہ واضح یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کو بھی ایک بالشت سے زیادہ لباس لٹکانے کی اجازت نہیں دی حالانکہ ان کو لباس لٹکانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں تکبر یا عدم تکبر کا فرق نہیں کیا۔

(فیض الباری مع الحاشیہ ج ٤، ص ٣٧٤، ٣٧٣ مطبوعہ مجلس علمی سورت ھند ١٣٥٧ )

شیخ کشمیری شیخ میرٹھی اور جسٹس عثمانی کے دلائل پر بحث ونظر :

شیخ بدرعالم میرٹھی نے لکھا ہے جس طرح نیند حدث کا سبب ہے اور مباشرت فاحشہ حدث کا اکبر کا سبب ہے اور سفر مشقت کا سبب ہے اسی طرح ہم جر ثوب (کپڑا گھسیٹنے) کو تکبر کا سبب قرار دیتے ہیں۔ ان کی اتباع میں جسٹس محمد تقی عثمانی نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔

میں کہتا ہوں کہ نیند کا حدث کے لیے سبب ہونا اور مباشرت فاحشہ کا حدث اکبر کے لیے سبب ہونا خلاف قیاس ہے اور خلاف قیاس اپنے مورد میں بند رہتا ہے۔ اس پر دوسری چیزوں کو قیاس کرنا جائز نہیں ہے۔ نیز ان چیزوں کو شارع (علیہ السلام) نے سبب قرار دیا ہے اس لیے وہ ثابت ہیں۔ اور ہماری اور آپ کی وہ حیثیت نہیں ہے کہ ہم از خود کسی چیز کو کسی چیز کا سبب قرار دیں اور وہ حجت شرعیہ ہوجائے۔ نیز شیخ کشمیری اور شیخ میرٹھی کا کلام جر ثوب (کپڑا گھسیٹنے) میں ہے اور وہ ہمارے نزدیک بھی ناجائز ہے ہمارے نزدیک وہ لباس جائز ہے جو بغیر تکبر کے ٹخنوں سے نیچے لٹکا ہوا اور پہننے والے کے قد سے متجاوز نہ ہو اور اس کے جواز میں مذاہب اربعہ کے ففہاء متفق ہیں۔

حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس مسئلہ پر بہت طویل کلام کیا ہے جس کو جسٹس محمد تقی عثمانی بتمامہ نقل کیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے شیخ بدر عالم میرٹھی کے کلام کا خلاصہ لکھا ہے اور آخر میں بہ طور حاصل بحث یہ لکھا ہے کہ اگر انسان قصداً اسبال (ٹخنوں سے نیچے تہبند باندھے) کرے تو وہ مطلقاً ممنوع ہے خواہ وہ تکبر سے ہو یا بغیر تکبر کے اور اگر اس کا تہبند بلاقصد ٹخنوں سے نیچا رہا تو وہ صورت ہے جس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کے لیے جائز فرمایا تھا۔

(تکملہ فتح الملھم ج ٤ ص ١٢٣ ملتحصا مطبوعہ مکتبہ دارالعلوم کراچی)

جو کام بلاقصد ہو وہ خارج از بحث ہے کیونکہ ارادتاً کسی کام پر مکروہ یا غیر مکروہ ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے۔ اور اسبال ثوب اگر انسان کی قامت سے متجاوزنہ ہو اور بغیر تکبر کے ہو تو وہ مذاہب اربعہ کے فقہاء کے نزدیک جائز ہے اور جرثوب مطلقاً ممنوع ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔ اس لیے جسٹس صاحب کا اسبال ثوب کو مطلقاً ممنوع کہنا غیر مسموع ہے۔ البتہ مشہوردیوبندی محدث شیخ محمد ادریس کا ندھلوی متوفی ١٣٩٤ ھ نے فقہاء مذاہب اربعہ کے مطابق لکھا ہے۔

اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بغیر تکبر کے کپڑا لٹکانا حرام نہیں ہے۔ مکروہ تنزیمی ہے۔

(التعلیق السبیح ج ٤ ص ٣٩٥ ٣٨٣ مطبوعہ لاہور)

ٹخنوں سے نیچے لباس لٹکانے کے متعلق مصنف کی تحقیق :

ہماری تحقیق یہ ہے کہ احادیث میں جرثوب اور اسبال الازار کے الفاظ ہیں جرثوب کا معنی ہے کپڑا گھسیٹنا۔ اور اسباب الازار کا معنی ہے تہبند کا ٹخنوں سے نیچے ہونا۔ اگر کوئی مرد جرثوب کرے یعنی اس کا تہبند یا شلوار کا پائنچہ ٹخنوں سے بہت نیچا ہو حتیٰ کہ اس کے قدموں کے نیچے سے گھسٹ رہا ہو تو یہ بغیر تکبر کے بھی مکروہ تحریمی ہے کیونکہ اس میں بغیر کسی ضرورت اور بغیر کسی فائدہ کے کپڑے کو ضائع کرنا ہے سو یہ اسراف کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جب کپڑا قدموں کے نیچے زمین پر گھسٹتا رہے گا تو نجاست کے ساتھ آلودہ ہوگا اور کپڑے کو محل نجاست میں ڈالنا بھی مکروہ تحریمی ہے۔

اور تیسری وجہ یہ ہے کہ اس میں عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے کیوں کہ عہد رسالت میں عورتیں کپڑا گھسیٹ کر چلتی تھیں اور مردوں کے لیے عورتوں کی مشابتہ اختیار کرنا بھی مکروہ تحریمی ہے۔ اس لیے اگر جرثوب بغیر تکبر کے ہو پھر بھی مکروہ تحریمی ہے۔ حافظ ابن عبدالبر مالکی نے اس کو مذموم فرمایا ہے۔ (تمہید ج ٣ ص ٢٤٤) اور حافظ ابن حجر عسقانی نے اس کو مکروہ تحریمی فرمایا ہے۔ (فتح الباری ج ١٠ ص ٢٦٣) اور اگر جرثوب (کپڑا گھسیٹنے) کے ساتھ تکبر بھی ہو تو یہ شدید مکروہ تحریمی ہے بلکہ حرام ہے اور اگر اسبال ازار ہو یعنی تہبند یا شلوار کا پائنچہ ٹخنوں کے نیچے ہو لیکن اس کے قد اور قامت کے برابر ہو گھسٹ نہ رہا ہو تو اگر اس میں تکبر نہیں ہے صرف زینت کی وجہ سے ایسا کیا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں یہ صرف خلاف اولیٰ ہے اور اگر وہ اس کے ساتھ تکبر کرتا ہے اور اکڑ اکڑ کر چلتا ہے اور اتراتا ہے تو پھر یہ تکبر کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہے یہ ملحوظ رہے کہ حڑمت کی علت صرف تکبر ہے اگر ایک مرد نصف پنڈلیوں تک تہبند باندھتا ہے اور اس کے ساتھ تکبر کرتا ہے اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے زیادہ متقی اور پرہیز گار سمجھتا ہے اور ان کو حقیر سمجھتا ہے تو یہ بھی مکروہ تحریمی ہے بلکہ حرام ہے اس لیے حرمت میں اصل تکبر ہے۔

ہماری اس تحقیق کی تائید حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ کی اس عبارت میں ہے :

اگر کسی شخص کا لباس بغیر تکبر کے ٹخنوں سے نیچے لٹک رہا ہو تو اس کا حال مختلف ہے اگر وہ کپڑا اس ٹخنوں کے نیچے لٹک رہا ہو لیکن وہ کپڑا پہننے والے کے قد اور اس کی قامت کے برابر ہو تو اس میں تحریم ظاہر نہیں ہوگی خصوصاً جبکہ بلاقصد ایسا ہو (یعنی غیر ارادی طور پر تہبند یا شلوار پیٹ سے پھسل کر ٹخنوں سے نیچے لٹک گئی ہو) جیسا کہ حضرت ابوبکر (رض) کے لیے اس طرح واقع ہوا اور اگر کپڑا پہننے والے کے قد اور قامت سے زائد ہو تو اس سے منع کیا جائے گا کیونکہ اس میں اسراف ہے اور اس کو حرام کہا جائے گا اور یہ اس وجہ سے بھی ممنوع ہوگا کہ اس میں عورتوں کی مشابہت ہے اور یہ پہلی وجہ سے زیادہ قوی وجہ ہے۔ کیونکہ امام حاکم نے تصحیح سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مرد پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کے لباس کی نوع کا لباس پہنتا ہے۔ اور یہ اس وجہ سے بھی ممنوع ہوگا کہ اس طرح کا لباس پہننے والا اس خدشہ سے محفوظ نہیں ہوگا کہ اس کے لباس پر نجاست لگ جائے (کیونکہ اس کا لباس قدموں کے نیچے گھسٹ رہا ہے) اور اس ممانعت کی طرف اشارہ اس حدیث میں ہے جس کو امام ترمذی نے شمائل (رقم الحدیث : ١٢١) میں اور امام نسائی نے سنن کبریٰ (رقم الحدیث : ٩٦٨٣۔ ٩٦٨٢) میں حضرت عبیدبن خالد (رض) سے روایت کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں ایک تہبند باندھے ہوئے جارہا تھا اور تہبند زمین پر گھسٹ رہا تھا ناگاہ ایک شخص نے کہا : اپنا کپڑا اوپر اٹھائو اس میں زیادہ صفائی اور زیادہ بقا ہے میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ میں نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ تو ایک سیاہ اور سفید دھاریوں والا تہبند ہے (یعنی اس معمولی کپڑے میں تکبر کرنے کا کوئی معنی نہیں ہے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہارے لیے میری شخصیت میں نمونہ نہیں ہے ؟ میں نے دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آدھی پنڈلیوں تک تہبند باندھا ہوا تھا۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٣٦٤) اور اس وجہ سے بھی ممنوع ہے کہ کپڑا گھسٹنے میں تکبر کی بدگمانی ہوتی ہے۔ (الی قولہ) قامت سے نیچے کپڑا لٹکانا کپڑا گھسیٹنے کو مستلزم ہے خواہ پہننے والے نے تکبر کا قصد نہ کیا ہو اور اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے احمد بن منبع نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم تہبند کو گھسیٹنے سے بچو کیونکہ تہبند کو گھسیٹنا تکبر سے ہے۔ (الخ) ۔

(فتح الباری ج ١٠ ص ٢٦٤۔ ٢٦٣۔ مطبوعہ دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور ١٤٠١ ھ) ۔

ٹخنوں سے نیچے لباس رکھنے کے متعلق حرف آخر :

حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس طویل عبارت کے شروع میں ہی یہ تصریح کردی ہے کہ اگر کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹک رہا ہو اور وہ اس کی قامت کے برابر اور بغیر تکبر کے ہو تو اس میں تحریم ظاہر نہیں ہے اور اگر وہ اس کی قامت سے متجاوز ہو اور اس کے قدموں تلے گھسٹ رہا ہو تو پھر وہ حرام ہے۔ جسٹس تقی عثمانی نے یہ پوری عبارت نقل کی ہے پھر بھی نتیجہ یہ نکالا ہے کہ قصداً کپڑا لٹکانا مطلقاً حرام ہے اور یہ نتیجہ مذاہب اربعہ کے قفہاء کے خلاف ہے بلکہ اگر اس کو اجماع متقد میں کے خلاف کہا جائے تو بعید نہ ہوگا۔ !

شیخ محمد زکریا سہارنپوری متوفی ١٣٤٦ ھ نے بھی اس حدیث کی شرح میں حافظ عسقلانی کی اس تمام عبارت کو نقل کیا ہے آخر میں انہوں نے لکھا ہے جو شخص تکبر کی وجہ سے کپڑا گھسیٹے اس کو وعید لاحق ہوگی اور جو شخص کپڑا لمبا ہونے کی وجہ سے اس کو گھسیٹے یا کسی اور عذر کی وجہ سے اس کو یہ وعید لاحق نہیں ہوگی۔ (اوجز المسالک ج ٦ ص ٢٠٩۔ ٢٠٨ مطبوعہ سہارنپور ھند) ۔

ہمارے نزدیک اگر کسی شخص کا کپڑا اتنا لمبا ہے کہ وہ قدموں تلے آکر گھسٹتا ہے تو اس کو پہننا جائز نہیں ہے اس پر واجب ہے کہ وہ اس کو چھوٹا کرے یا دوسراپورا لباس پہنے۔ اس غلطی کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اسبال ثواب اور جرثوب میں فرق نہیں کیا۔

بہرحال یہ واضح ہوگیا کہ علماء دیوبند کا تہبند یا شلوار کے پائنچوں کو بغیر تکبر کے بھی ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کو حرام قرار دینا مذاہب اربعہ کے تمام فقہاء کے خلاف ہے۔ مرد کی قامت تک کپڑے کا طول بلا تکبر جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور جو کپڑا قامت سے متجاوز ہو اور قدموں تلے آکر گھسٹ رہا ہو وہ بہرحال میں مکروہ تحریمی ہے۔

میں نے اس مسئلہ پر شرح صحیح مسلم میں بھی کافی سط سے لکھا ہے لیکن یہاں بہت زیادہ تفصیل اور تحقیق کی ہے کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ اس مسئلہ میں لوگ بہت تشدد کرتے ہیں اور جس کا پائنچہ ٹخنوں سے نیچے ہو اس کو نماز دہرانے کا حکم دیتے ہیں۔ چناچہ مفتی رشید احمد نے احسن الفتاویٰ ج ٣ ص ٤٠٤ میں اسی طرح لکھا ہے اللہ تعالیٰ ان سطور کو نفع آور بنائے اور ان لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے جو مسائل شرعیہ میں ایسی تشدید کرتے ہیں جس سے لوگو متنفر ہوتے ہوں جب کہ دین آسان اور سہل ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دین میں سختی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ 

وآخردعونا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین قائد الانبیاء والمرسلین وعلی آلہ المطھرین و اصحابہ الکاملین وازواجہ الطیبات امھات المومنین وسائرالمسلمین۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 146