شادی کے بعد گھر مدرسہ

شادی کے ذریعہ جس گھرکو آباد کرنے کا ارادہ کیا جا رہا ہے وہ شادی سے پہلے گھر ہوتا ہے مگر شادی کے بعد وہ مدرسہ میں تبدیل ہوتا ہے،اس لئے کہ شادی کے جہاں دوسرے مقاصد ہیں ایک مقصد عظیم یہ بھی ہے کہ اولاد صالح کا حصول ہو ،شادی کے بعد اولاد نہ ہو تو لوگ ہر طرح کا قیمتی سرمایہ اس کے علاج و معالجہ میں صرف کر دیتے ہیں،یہ واضح مطلب ہے کہ شادی کا عظیم مقصود اولاد کا حصول ہے،آنے والی اولاد کے لئے والدین کا گھر ہی پہلی درسگاہ ہے،بچے اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں جو کچھ سیکھتے ہیں اسی تربیتگاہ سے سیکھتے ہیں،وہی انکی ادبگاہ ہے،پہلے اداؤں سے پھر الفاظ سے تعلیم کا آغاز ہوتا ہے،جب اپنا گھر اولاد کا پہلا مدرسہ ہے تو شادی سے پہلے ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ ہم خواہشات کی تکمیل کا جائز دروازہ وا کرنے ہی نہیں جا رہے ہیں بلکہ ادبگاہ کی بنیاد ڈلالنے جارہے ہیں،نکاح سے اسکا سنگ بنیاد ہو رہا ہے،اور اس درسگاہ کے پہلے مدرس بھی ہم ہی بننے والے ہیں،کیا ہم نے نئی نسل کی تعلیم و تربیت کی استعداد بھی پیدا کر لی یا نہیں؟