مسجد کی دیوار قبلہ میں طغریٰ و دیگر اشیاء لگانا :-

مسئلہ: ایسی چیزوں کا دیوار قبلہ میں نصب نہ کرنا چاہئے جس سے لوگوں کا نماز میں دھیان بٹے اور اتنی نیچی ہونا کہ خطبہ میں امام کی پشت اس کی طرف ہو ، یہ اور بھی نامناسب ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳، ص ۵۹۹)

مسئلہ: قبلہ کی دیوار میں عام نمازیوں کے موضع نظر تک کوئی چیز نہ چاہئے کہ جس سے دل بٹے اور اگرایسی کوئی چیز ہو تو کپڑے سے چھپا دی جائے ۔’ ’ امام احمد اور ابوداؤد حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کعبہ ٔ معظمہ میں تشریف فرما ہوئے ۔ کعبہ شریف کے کلید بردار ( چابی رکھنے والے ) حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو طلب فرما کر ارشاد فرمایا کہ ہم نے کعبہ میں دنبے کے سینگ ملاحظہ فرمائے تھے ۔( وہ دنبہ کہ جو حضرت سیدنا اسماعیل علیہ الصلاۃ والسلام کا فدیہ ہو ا۔اسکے سینگ کعبہ معظمہ کی دیوار غربی میں لگے ہوئے تھے ) اور ہمیں تم سے یہ فرمانا یاد نہ رہاکہ ان کو ڈھانک دو ۔ لہٰذا اب ڈھانک دو کہ نمازی کے سامنے کوئی ایسی چیز نہ چاہئے کہ جس سے دل بٹے ۔‘‘

ہاں اگر اتنی بلندی پر ہو کہ سر اٹھا کر دیکھنے سے نظر آئے تو یہ نمازی کا قصور ہے ۔ اسے آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا کب جائز تھا ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۰۷ ،اور جلد ۶ ، ص ۴۷۵)