حدیث نمبر 6

روایت ہے ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی ایسی چیز کی طرف نماز پڑھے ؎ جو اسے لوگوں سے چھپالے ۱؎ پھر کوئی اس کے سامنے سے گزرنا چاہے تو نمازی اسے دفع کرے ۲؎ پھر اگر نہ مانے تو اس سے جنگ کرے کہ وہ شیطان ہے ۳؎ یہ بخاری کے لفظ ہیں مسلم میں اس کے معنی ہیں۔

شرح

۱؎ یعنی اس کے اور لوگوں کے درمیان آڑ بن جائے پورا چھپانا مراد نہیں کیونکہ ایک ہاتھ کا سترہ پورے جسم کو نہیں چھپا سکتا۔

۲؎ یعنی عمل قلیل سے ہاتھ کے ساتھ اسے ہٹادے گزرنے نہ دے۔ ظاہر یہ ہے کہ اَحَدٌ میں بچہ اور دیوانہ بھی داخل ہے ان کو بھی گزرنے سے روکا جائے، یہاں سامنے گزرنے سے مراد ہے ستر ے اور نمازی کے درمیان گزرناکہ یہی ممنوع ہے۔

۳؎ یعنی سختی سے اسے روکے،یہاں لڑنا بھڑنا اور قتل کرنا مراد نہیں۔ مرقات نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی جاہل نمازی اسے قتل کردے تو عمدًا قتل میں قصاص واجب ہوگا اور خطا میں دیت۔خیال رہے کہ اگر نمازی بغیر سترے راستہ میں نماز پڑھ رہاہے تو اسے گزرنے والے کو روکنے کا حق نہ ہوگا کہ اس میں قصور نمازی کا ہے اسی لیے یہاں سترے کی قید لگائی۔ شیطان سے مراد یا تو اصطلاحی شیطان ہے یعنی جنات کا مورث اعلیٰ تب تو یہ مطلب ہوگا کہ اسے شیطان بہکا کر ادھر لارہا ہے اور اس پر شیطان سوار ہے اور یا شیطانوں سے انسانوں کا شیطان مراد ہے جو شیطانوں کا سا کام کرے وہ شیطان ہی ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی شیطانی کام کرنے والے انسانوں کو خناس فرمایا ہے کہ ارشاد فرمایا:”الَّذِیۡ یُوَسْوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ”۔اس حدیث سے دو مسئلے ثابت ہوئے:ایک یہ کہ دینی کاموں میں خلل ڈالنے والا سخت مجرم ہے لہذا جو لوگ مسجدوں کے پاس شور مچائیں،ریڈیو کے گانے لگائیں وہ اس سے عبرت پکڑیں کہ نمازی سے آگے گزرنے والا اس لیے مجرم ہے کہ نمازی کا دھیان بانٹتا ہے ۔دوسرے یہ کہ اگر کوئی مجرم نرمی سے نہ مانے تو اسے سختی سے روکا جائے یہ سختی بھی تبلیغ کی ایک قسم ہے۔

؎ یہ چھپانے والی چیز دیوار ہو یا ستون یا لکڑی وغیرہ یا کوئی سامنے بیٹھا ہو ا آدمی یا اونٹ وغیرہ جانور کہ سب سترہ میں داخل ہیں۔