أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاتَّخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰى مِنۡۢ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ‌ ؕ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا ۘ اِتَّخَذُوۡهُ وَكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور موسیٰ ( علیہ السلام) کی قوم نے ان کے (جانے کے بعد) اپنے زیوروں سے بچھڑے کا ایک مجسمہ بنالیا جس سے بیل کی آواز نکلتی تھی کیا انہوں نے یہ (بھی) نہ دیکھا کہ وہ ان سے نہ بات کرسکتا تھا نہ ان کو راستہ دکھا سکتا تھا (پھر بھی) انہوں نے اس کو معبود بنالیا اور وہ ظالم تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور موسیٰ ( علیہ السلام) کی قوم نے ان کے (جانے کے بعد) اپنے زیوروں سے بچھڑے کا ایک مجسمہ بنالیا جس سے بیل کی آواز نکلتی تھی کیا انہوں نے یہ (بھی) نہ دیکھا کہ وہ ان سے نہ بات کرسکتا تھا نہ ان کو راستہ دکھا سکتا تھا (پھر بھی) انہوں نے اس کو معبود بنالیا اور وہ ظالم تھے۔ (الاعراف : ١٤٨ )

بنو اسرائیل کے بچھڑابنانے اور اس کی پرستش کرنے کے متعلق روایات :

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیںـ:

جب موسیٰ ( علیہ السلام) فرعون سے فارغ ہوگئے طور پر جانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو سمندر سے نجات دی اور فرعون کو غرق کردیا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ارض طیبہ میں پہنچے اللہ تعالیٰ نے وہاں ان پر من اور سلویٰ نازل کیا اور اللہ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اس سے ملاقات کریں۔ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے رب سے ملاقات کا ارادہ کیا تو انہوں نے حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو اپنی قوم پر خلیفہ بنایا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے امر اور اس سے میعاد معلوم کیے بغیر ان سے وعدہ کرلیا کہ وہ تیس راتوں کے بعد واپس آجائیں گے۔ اللہ کے دشمن سامری نے کہا : تمہارے پاس موسیٰ ( علیہ السلام) نہیں آئیں گے اور تمہاری اصلاح صرف خدا کرے گا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے ان کو قسم دی کہ تم ایسا نہ کرو تم ایک دن اور ایک رات حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا اور انتظار کرو اگر وہ آجائیں تو فبہا ورنہ پھر تم جو جی میں آئے کرنا۔ پھر دوسرے دن بھی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نہیں آئے تو سامری نے پھر وہی بات کی۔ حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے دس دن اور بڑھا دئیے ہیں اور اب چالیس دن کی مدت ہوگئی ہے۔

ابوبکر بن عبداللہ المزلی بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے جانے بعد سامری حضرت ہارون ( علیہ السلام) کے پاس آکر کہنے لگا ہم نے قطبیوں کی عید کے دن ان سے بہت سے زیورات عاریتہ لیے تھے اور جو لوگ آپ کے پاس ہیں وہ جلدی جلدی ان زیورات کو بیچ کر خرچ کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ فرعون کی قوم سے عاریتہ لیتے تھے اور اب وہ زندہ نہیں ہیں کہ ہم ان کو وہ زیورات واپس کردیں اور ہم کو پتا نہیں کہ آپ کے بھائی اللہ کے نبی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) جب آئیں گے تو ان کی اس مسئلہ میں کیا رائے ہوگی یا تو وہ اس کی قربانی پیش کریں گے پھر آگ اس کو کھاجائے گی اور یا ان کو صرف فقراء کے لیے وقف کردیں گے۔ حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے فرمایا : تم نے ٹھیک سوچا اور ٹھیک کہا۔ پھر آپ نے ایک منادی کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ جس شخص کے پاس آل فرعون کے جتنے بھی زیورات ہیں وہ ہمارے پاس لے آئے۔ وہ ان کے پاس تمام زیورات لے آئے حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے فرمایا : اے سامری ! تم اس خزانے کو رکھنے کے زیادہ حق دار ہو۔ سامری نے ان زیورات پر قبضہ کرلیا اور وہ خبیث دشمن خدا سونے کو ڈھالنے والا تھا اس نے اس سے ایک بچھڑے کا مجسمہ بنا لیا اس نے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) کے گھوڑے کے نشان سے ایک مٹھی بھر مٹی لی تھی اس نے اس بچھڑے کے کھوکھلے پیٹ میں مٹی ڈال دی تب وہ مجسمہ بچھڑے کی سی آواز نکالنے لگا۔ اس نے صرف ایک بار یہ آواز نکالی تھی۔ سامری نے کہا تیس راتوں کے بعد جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نہیں آئے تو وہ دراصل اسی کو ڈھوڈ رہے تھے۔ قرآن پاک میں ہے :

فاخرج لھم عجلا جسدا لہ خوار فقالوا ھذا الھکم والہ موسیٰ فنسی۔

(طہ : ٨٨)

سامری نے ان کے لیے بچھڑے کا بےجان مجسمہ بنا کر نکالا لوگوں نے کہا : یہ ہے تمہارا اور موسیٰ ( علیہ السلام) کا معبود موسیٰ ( علیہ السلام) تو بھول گئے۔

سامری یہ کہتا تھا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) تو بھول گئے تمہارا اصل خدا تو یہ ہے۔

(جامع البیان جز ٩ ص ٦٦۔ ٦٥ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

سامری کے متعلق علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

سامری کا نام موسیٰ ( علیہ السلام) بن ظفر تھا وہ سامرہ نامی ایک بستی کی طرف منسوب تھا۔ جس سال بنو اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کیا گیا تھا وہ اسی سال پیدا ہوا تھا۔ اس کی ماں نے اس کو پہاڑ کی ایک غار میں چھپا دیا تھا۔ حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) اس کا غذا پہنچاتے رہے تھے اس وجہ سے وہ حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) کو پہچانتا تھا جب حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) سمندر کو عبور کرنے کے لیے گھوڑے پر سوار ہو کر جارہے تھے تاکہ فرعون بھی سمندر میں آجائے تو سامری نے گھوڑے کے پائوں کے نیچے سے کچھ مٹی اٹھا لی تھی۔ قرآن پاک کی حسب ذیل آیت کا یہی معنی ہے :

قال فما خطبک یسامری۔ قال بصرت بما لم یبصروا بہ فقبضت قبضۃ من اثر الرسول فنبذتھا وکذلک سولت لی نفسی۔ 

(طہ : ٩٦۔ ٩٥)

(موسیٰ ( علیہ السلام) نے سامری) سے) کہا : اے سامری تو کیا کہتا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسروں نے نہیں دیکھی تو میں نے رسول (جبرائیل ( علیہ السلام) کی سواری) کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی پھر میں نے اس کو (بچھڑے کے پتلے میں) ڈال دیا اور میرے دل میں اسی طرح آیا تھا۔

(الجامع لاحکام القرآن جزیر ص ٢٥٥ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

امام عبدالرحمن بن محمد بن ابی حاتم رازی متوفی ٣٢٧ ھ روایت کرتے ہیں :ـ

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے بنو اسرائیل کو خطبہ دیا اور فرمایا : تم جب مصر سے روانہ ہوئے تو تمہارے پاس قوم فرعون کی امانتیں تھیں اور عاریتہ لی ہوئی چیزیں تھیں اور میرا خیال ہے وہ چیزیں تمہارے پاس ہیں اور میں ان امانتوں کو اور مانگی ہوئی چیزوں کو تمہارے لیے حلال نہیں قرار دیتا۔ اب ہم وہ چیزیں ان کو واپس تو نہیں کرسکتے اور نہ ہی ہم ان چیزوں کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ پھر حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے ایک گڑھا کھودنے کا حکم دیا اور قوم کو حکم دیا کہ جس شخص کے پاس بھی ان امانتوں اور مانگی ہوئی چیزوں میں سے جو کچھ بھی ہے وہ اس میں لا کر ڈال دے۔ جب لوگوں نے سب کچھ ڈال دیا تو حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے اس میں آگ لگا دی اور فرمایا یہ چیزیں ان کے لیے رہیں نہ ہمارے لیے ہوں گی۔ اور سامری کا اس قوم سے تعلق تھا جو بیل کی عبادت کرتی تھی۔ وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں تھا ان کا پڑوسی تھا۔ اس نے بھی وہی مصائب اٹھائے تھے جو بنو اسرائیل نے اٹھائے تھے۔ اس کے لیے یہ مقدر کردیا گیا تھا کہ اس نے حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) کی سواری کے نقش قدم کو دیکھ لیا تھا اور اس سے ایک مٹھی خاک کی اٹھالی تھی۔ حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے اس سے پوچھا کہ تیری مٹھی میں کیا ہے اس نے کہا : میں ھ اس وقت تک نہیں بتائوں گا جب تک کہ آپ یہ دعا نہ کریں کہ جب میں اس مٹھی کو ڈالوں تو جو کچھ میں چاہتا ہوں وہ بن جائے۔ حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے فرمایا : تم اس کو گرا دینا اور اس کے لیے دعا کی۔ اس نے کہا میں بیل بنانا چاہتا ہوں اس نے اس گڑھے میں سے تمام لوہے پیتل اور زیورات وغیرہ کو نکالا تو وہ ایک کھوکھلا بیل بن گیا اور اس سے بیل کی سی آواز آرہی تھی۔

قتادہ نے کہا : جب سامری نے بچھڑا بنایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے گوشت اور خون کا بنادیا اور اس سے آواز آرہی تھی۔

سعید بن جیر نے کہا : بہ خدا وہ بچھڑا از خود آواز نہیں نکالتا تھا لیکن اس کی دبر (مقعد، مبرز) سے ہوا اس کے اندر داخل ہوتی تھی اور اس کے منہ سے نکل جاتی تھی اور اس ہوا کے گزرنے سے وہ آواز پیدا ہوتی تھی۔

سعید بن جیر حضرت ابن عباس سے روایت ہے کرتے ہیں کہ جب وہ آواز نکالتا تو بنو اسرائیل سجدہ میں گرجاتے اور جب وہ خاموش ہوتا تو وہ سجدہ سے اپنا سر اٹھا لیتے تھے۔

ضحاک سے روایت ہے کہ اس نے صرف ایک بارآواز نکالی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ ان سے بات کرتا تھا نہ ان کی بات کا جواب دیتا تھا (لیکن یہ استدلال ضعیف ہے کیونکہ بار بار بیل کی سی آواز نکالنا اس کے بات کرنے یا کسی بات کے جواب دینے کے ہم معنی نہیں ہے) ۔

(تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٥ ص ١٥٦٩۔ ١٥٦٧، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ١٤١٧ ھ)

کلام کرنے اور ہدایت دینے پر مدارالوہیت کی توجیہ :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : کیا انہوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات کرسکتا ہے نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے پھر بھی انہوں نے اس کو معبود بنالیا۔

اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اگر وہ بچھڑا ان سے بات کرسکتا یا ان کو راستہ دکھا سکتا تو پھر بنو اسرائیل کا اس کو معبود قرار دینا صحیح ہوتا۔ حالانکہ محض کسی سے بات کرنے یا کسی کو راستہ دکھانے پر تو الوہیت کا مدار نہیں ہے ! اس اعتراض کے متعدد جوابات دیں :

١۔ الوہیت کا مدار سات صٖات حقیقیہ پر ہے : حیات علم قدرت کلام سمع بصر اور ارادہ۔ ان میں سے ایک صفت کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفت کلام کا یہ معنی ہے کہ وہ از خود کلام فرماتا ہے اور کسی غیر کی قدرت اور عطا کا اس میں دخل نہیں ہے اور جس کی یہ ایک صفت کلام حقیقی ہوگی اور بیرک کسی احتیاج کے ہوگی اس کی تمام صفات حقیقی ہوں گی اور اب آیت کا معنی یہ ہے کہ یہ بچھڑا تو مطلقاً کلام نہیں کرسکتا۔ چہ جائیکہ کلام اس کی حقیقی صفت ہو اور وہ بغیر کسی احتیاج کے کلام کرے تو پھر اس کو معبود قراردینا کس طرح صحیح ہوگا !

٢۔ اللہ تعالیٰ کے ہدایت دینے کا معنی یہ ہے کہ وہ ہدایت کو پیدا کرتا ہے اور یہ بچھڑا جو مطلقاً ہدایت نہیں دے سکتا وہ ہدایت کو پیدا کب کرسکتا ہے تو پھر اس کو معبود قرار دینا کس طرح صحیح ہوگا ١

٣۔ انسان کو اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی ذات وصفات کی ہدایت حاصل ہونا اس پر موقوف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں اپنی ذات اور صفات پر جو دلائل قائم کیے ہیں اور زمینوں اور آسمانوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی جو نشانیاں ہیں انسان ان پر صحیح طریقہ سے غور اور فکر کرے پس وہی ہدایت دے سکتا ہے جو زمینوں اور آسمانوں میں ان نشانیوں کو پیدا کرے اور یہ بچھڑا جو اپنے وجود میں خود دوسروں کا محتاج تھا اور بہ ظاہر سامری کے بنانے سے وجود میں آیا یہ ان نشانیوں کو کیونکر بنا سکتا تھا تو یہ ہدایت دینے پر کیسے قادر ہوسکتا تھا۔ تو اس کو معبود قرار دینا کس طرح صحیح ہوگا۔

٤۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی سخت مذمت فرمائی ہے کہ یہ بچھڑا جو ان چیزوں پر بھی قدرت نہیں رکھتا جن پر عام انسان قادر ہیں تو تف ہے تم نے ایسے کو خدا مان لیا ہے۔

٥۔ چونکہ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے ہم کلام ہوا تھا اور اس نے ان کی قوم کو ہدایت دی تھی اس وجہ سے اس آیت میں یہ تعریض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تو یہ شان ہے کہ وہ کلام فرمانے والا ہے اور ہدایت دینے والا ہے۔ تم اس خدا کو چھوڑ کر کہاں بچھڑے کی پرستش میں مشغول ہو۔

اس آیت کے آخر میں فرمایا ہے اور وہ ظالم تھے ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو اس کے غیر محل میں رکھنا اور کسی کا حق کسی دوسرے کو دینا۔ عبادت اللہ کا حق ہے جب انسان اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا حق دوسروں کو دے رہا ہے اور یہی ظلم کرنا ہے بلکہ کائنات میں سب سے بڑا ظلم غیر اللہ کی عبادت اور شرک کرنا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 148