أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ‌ؕ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ۞

ترجمہ:

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کی پیشی کی تکذیب کی ان کے سب (نیک) عمل ضائع ہوگئے، ان کو ان ہی کاموں کی سزا ملے گی جو وہ کیا کرتے تھے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کی پیشی کی تکذیب کی ان کے سب (نیک) عمل ضائع ہوگئے ان کو ان ہی کاموں کی سزا ملے گی جو وہ کیا کرتے تھے۔ (الاعراف : ١٤٧ )

کفار کی نیکیوں کا ضائع ہوجانا :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر فرمایا تھا جو ناحق تکبر کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کرتے تھے اور ان کے اسی تکبر اور تکذیب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو اپنی آیات سے پھیردیا اب وہ تمام نشانیاں دیکھنے کے باوجود ایمان نہیں لائیں گے وہ نیکی کا راستہ دیکھنے کے باوجود اختیار نہیں کریں گے۔ اور اگر وہ برائی کا راستہ دیکھیں تو فوراً اس کی طرف لپک پڑیں گے اس مقام پر ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص یہ کہتا کہ ان میں سے بعض کافروں نے کچھ نیک عمل بھی تو کیے تھے مثلاً رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک ماں باپ کی خدمت کمزوروں کی مدد ناداروں یتیموں اور بیوائوں کی کفالت رفاہ عامہ کے کام مثلاً کنوئیں کھدوانا سرائے بنانا سڑکیں بنانا آیا ان کو ان نیک کاموں کی کوئی جزا ملے گی ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : چونکہ انہوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کی تکذیب کی اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا اس لیے ان کے تمام نیک اعمال ضائع ہوگئے کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی نیک عمل مقبول نہیں ہوتا۔ اعمال صالحہ کے قبولیت کی شرط ایمان ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

من عمل صالحا من ذکر اوانثی اھو ومن فلنجینہ حیوۃ طیبۃ ولنجزینھم اجرھم باحسن ما کانوایعملون۔ 

(النحل : ٩٧)

مرد ہو یا عورت جس نے بھی نیک عمل کیا بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے اور ہم ضرور ان کو ان کے کیے ہوئے نیک کاموں کا اجر عطا فرمائیں گے۔

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم کافروں کے تمام اعمال کو ضائع فرما دیں گے۔

وقد منا الی ماعملوامن عمل فجعلنہ ھباء منثورا۔ 

(الفرقان : ٢٣ )

کفار ہمارے پاس جو بھی اعمال لے کر آئیں گے ہم ان کو (فضا میں) بکھرے ہوئے غبار کے ذرے بنادیں گے۔

من یکفر بالایمان فقد حبط عملہ۔ 

(المائدہ : ٥)

جس نے ایمان لانے سے انکار کیا اس کا عمل ضائع ہوگیا۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کفار کی نیکیوں کی وجہ سے آخرت میں ان کے عذاب میں تخفیف ہوجائے گی یہ نظریہ بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے :

فلا یخفف عنھم العذاب ولاھم ینصرون۔

(البقرہ : ٨٦)

کفار کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! زمانہ جاہلیت میں ابن جدعان رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا کیا یہ عمل اس کو نفع دے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ عمل اس کو نفع نہیں دے گا اس نے ایک دن بھی نہیں کہا : اے میرے رب میری خطائوں کو قیامت کے دن بخش دینا۔

(صحیح مسلم الایمان : ٣٦٥، (٢١٤) ٥٠٧)

تاہم یہ معاملہ بہ طور عدل ہے اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے کسی کافر کو اسلام لانے کے بعد اس کے زمانہ کفر کی نیکیوں پر اجر عطا فرماتا ہے یا کسی کافر کی نیکیوں کے عوض اس کے عذاب میں تخفیف کردے تو یہ ممکن ہے چناچہ ابو لہب اور ابوطالب کے عذاب میں تخفیف اسی وجہ سے ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قرابت اور حسن سلوک کی وجہ سے ابو طالب اور ابولہب کو عام قاعدہ سے مستشنیٰ کرلیا گیا۔

فرائض اور واجبات کے ترک پر مواخذہ کی دلیل :

اس آیت میں فرمایا ہے : ان کو ان ہی کاموں کی سزا ملے گی جو وہ کرتے تھے اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو حرام اور ناجائز کام وہ کرتے تھے اس پر ان کو سزا ملے گی اور جو کام وہ نہیں کرتے تھے اس پر ان کو سزا نہیں ملے گی یعنی سزافعل پر ہوگی اور ترک فعل پر سزا نہیں ہوگی۔ تو کافروں نے جو فرائض اور واجبات کر ترک کیا اس آیت کی رو سے ان کو اس پر سزا نہیں ملے گی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ فرض اور واجب کی ادائیگی کے وقت میں فرض اور واجب کو ادا کرنے کے بجائے کسی اور کام میں مشغول ہونا حرام ہے سو ان کو ان کاموں پر سزا ملے گی جو وہ فرض اور واجب کی ادائیگی کے اوقات میں کرتے تھے کیونکہ جس وقت میں فرض ادا کرنا تھا اس وقت میں کوئی اور کام کرنا حرام تھا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں فرض اور واجب کے ترک پر بھی سزا کی وعید سنائی ہے۔

فی جنت یتساء لون۔ عن المجرمین۔ ماسلککم فی سقر۔ قالوا لم نک من المصلین۔ ولم نک نطعم المسکین۔ 

وہ جنتوں میں ایک دوسرے سے مجرموں کے متعلق سوال کررہے ہوں گے کہ (پھر مجرموں سے پوچھیں گے) تم کو کس گناہ نے دوزخ میں داخل کیا ؟ وہ کہیں گے ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔

(المدثر : ٤٤۔ ٤٠ )

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس طرح حرام کاموں کے ارتکاب پر عذاب ہوگا اسی طرح فرائض اور واجبات کے ترک پر بھی عذاب ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 147