أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰٓى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا ۙ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِىۡ ۚ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ‌ ۚ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ‌ؕ قَالَ ابۡنَ اُمَّ اِنَّ الۡـقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِىۡ وَكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِىۡ ‌ۖ فَلَا تُشۡمِتۡ بِىَ الۡاَعۡدَآءَ وَ لَا تَجۡعَلۡنِىۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف لوٹے تو انہوں نے غضبناک ہو کر تاسف سے کہا تم نے میرے جانے کے بعد میرے پیچھے کیسے برے کام کیے ! کیا تم نے اپنے رب کے احکام آنے سے پہلے ہی جلد بازی کی اور انہوں نے (تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے (ہارون ( علیہ السلام) نے) کہا اے میری ماں کے بیٹے ! ان لوگوں نے مجھے بےبس کردیا اور قریب تھا کہ یہ مجھے قتل کردیتے تو آپ مجھ پر دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دیں اور مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کیجئے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف لوٹے تو انہوں نے غضبناک ہو کر تاسف سے کہا تم نے میرے جانے کے بعد میرے پیچھے کیسے برے کام کیے ! کیا تم نے اپنے رب کے احکام آنے سے پہلے ہی جلد بازی کی اور انہوں نے (تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے (ہارون ( علیہ السلام) نے) کہا اے میری ماں کے بیٹے ! ان لوگوں نے مجھے بےبس کردیا اور قریب تھا کہ یہ مجھے قتل کردیتے تو آپ مجھ پر دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دیں اور مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کیجئے۔ 

(الاعراف : ١٥٠ )

قوم کی گمراہی پر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) آیا طور سے واپسی پر مطلع ہوئے یا پہلے :

اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ آیا بنو اسرائیل کی گو سالہ پرستی کا علم حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو پہاڑ طور سے واپس آنے کے بعد ہوا تھا یا پہاڑ طور پر ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی گمراہی اور گو سالہ پرستی سے مطلع کردیا تھا۔

امام ابن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف لوٹے اور ان کے قریب پہنچے تو انہوں نے کچھ آوازیں سنیں تو انہوں نے کہا میں لھو ولعب میں مشغول لوگوں کی آوازیں سن رہا ہوں اور جب انہوں نے یہ معائنہ کیا کہ وہ بچھڑے کی عبادت کررہے ہیں تو انہوں نے تورات کی الواح کو ڈال دیا جس کے نتیجہ میں وہ ٹوٹ گئیں اور وہ اپنے بھائی کو سر کے بالوں سے پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔

(جامع البیان جز ٩ ص ٨٦ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

صحیح بات یہ ہے کہ قوم کی گمراہی پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو پہاڑ پر ہی مطلع فرمادیا تھا۔ قرآن مجید کی صریح آیات اور حدیث صحیح سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وما اعجلک عن قومک یاموسی۔ قال ھم اولاء علی ائری وعجلت الیک رب لترضی۔ قال فانا قد فتنا قومک من بعدک واضلھم السامری۔ فرجع موسیٰ الی قومہ غضبان اسفا۔

(طہ : ٨٦۔ ٨٣)

(اور ہم نے طور پر موسیٰ ( علیہ السلام) سے فرمایا) آپ نے اپنی قوم کو چھوڑ کر آنے میں کیوں جلدی کی اے موسیٰ ( علیہ السلام) ۔ عرض کیا وہ لوگ میرے پیچھے آرہے ہیں اے میرے رب ! میں نے آنے میں اس لیے جلدی کی کہ تو راضی ہوجائے۔ فرمایا تو ہم نے آپ کے بعد آپ کی قوم کو آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے ان کو گمراہ کردیا ہے۔ تو موسیٰ ( علیہ السلام) بہت غم وغصہ کے ساتھ اپنی قوم کی طرف لوٹے۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آنکھ سے دیکھنا سننے کی مثل نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے فرمایا تمہاری قوم فتنہ میں مبتلا کردی گئی ہے تو انہوں نے تختیاں نہیں ڈالیں اور جب انہوں نے آنکھ سے دیکھ لیا تو تختیاں زمین پر ڈال دیں اور وہ نتیجتاً ٹوٹ گئیں۔

(المعجم الکبیر ١٢ رقم الحدیث : ١٤٤٥١ المعجم الاوسط ج ا رقم الحدیث : ٢٥ مسند احمد ج ا رقم الحدیث : ٢٤٤٧ مسند البزارج رقم الحدیث : ٢٠٠ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٠٧٨، ٢٠٧٧ المستد رک ج ص ٢٢١ تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٥ ص ١٥٧٠ الدرالمشورج ٣ ص ٥٦٤ حافظ الہیشی نے کہنا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے ج ا ص ١٥٣ ) ۔

غضب کا معنی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے غضب کا تعین :

اس آیت میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ غضب اور افسوس کے ساتھ لوٹے۔

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

غضب کا معنی ہے انتقام کے ارادہ سے دل کے خون کا کھولنا اور جوش میں آنا۔

(المفردات ج ٢ ص ٢٦٨ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ١٤١٨ ھ)

علامہ مجدالدین محمد بن اثیرالجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

اللہ کے غضب کا معنی ہے اپنی نافرمانی سے منع کرنا نافرمانی کرنے والے پر ناراض ہونا۔ اس سے اعراض کرنا اور اس کو عذاب دینا۔ اور مخلوق کے غضب کی دو قسمیں ہیں۔ ایک محمود ہے اور دوسری مذموم ہے۔ اگر دین اور حق کی خاطر بندہ غضب میں آئے تو یہ غضب محمود ہے۔ اور اگر اپنی نفسانی خواہشوں کے پورا نہ ہونے یا ناجائز حکم کے نہ ماننے یا اس کی ممانعت کرنے کی وجہ سے غضب میں آئے تو یہ غضب مذموم ہے۔ (النہایہ ج ٢ ص ٣٣٣ مطبوعہ دارالکتب الطمیہ بیروت ١٤١٨ ھ)

حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) جو غضب میں آئے تھے وہ اللہ کی نافرمانی اور شرک کی وجہ سے تھا آپ کا یہ غضب محمود تھا۔ انسان جو اپنے ذاتی نقصان کی وجہ سے غضب کرتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس غضب کے روکنے اور انتقام نہ لینے کی ترغیب دی ہے۔

غیظ وغضب کو ضبط کرنے اور بدلہ نہ لینے کے متعلق قرآن مجید کی آیات :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

الذین ینفقون فی السرآء والضرآء و الکاظمین الغیظ والعافین عن الناس واللہ یحب المحسنین 

(آل عمران : ١٣٤)

جو لوگ تنگی اور فراغی (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور غصے کو ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور نیکوکاروں سے اللہ محبت کرتا ہے۔

والذین یجتنیبون کبئرالاثم والفواحش واذا ما غضبوا ھم یغفرون۔

(الشوری : ٣٧)

اور جو لوگو کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب وہ غضبناک ہوں تو معاف کردیتے ہیں۔

والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ وجزاء سیۃ سیۃ مثلھا فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ۔

(الشوری : ٤٠۔ ٣٩)

اور جن لوگوں کو (کسی کی) سرکشی پہنچے تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ اور برائی کا بدلہ اسی کی مثل برائی ہے اور جس شخص نے معاف کردیا اور اصلاح کرلی تو اس کا اجر اللہ (کے ذمہ کرم) پر ہے۔

ولمن صبر وغفران ذلک لمن عزم الامور۔

(الشوری : ٤٣ )

اور جو صبر کرے اور معاف کردے تو بیشک یہ ضرور ہمت کے کاموں سے ہیں۔

غیظ وغضب کو ضبط کرنے اور بدلہ نہ لینے کے متعلق احادیث :

حضرت ابو سعید خدری (رض) نے ایک طویل حدیث روایت کی ہے اس میں غضب کے متعلق آپ کا ارشاد ہے۔

سنو ! غضب ایک انگارہ ہے جو ابن آدم کے پیٹ میں جلتا رہتا ہے کیا تم (غضبناک شخص کی) آنکھوں کی سرخی اور اس کی گردن کی پھولی ہوئی رگوں کو نہیں دیکھتے پس تم میں سے وہ شخص غضب میں آئے وہ زمین کو لازم پکڑے سنو ! بہترین آدمی وہ شخص ہے جو بہت دیر سے غضب میں آئے اور بہت جلد راضی ہوجائے اور بدترین آدمی وہ شخص ہے جو بہت جلد غضب میں آئے اور بہت دیر سے راضی ہو اور جو شخص دیر سے غضب میں آئے اور دیر سے راضی ہو اور جو شخص جلدی غضب میں آئے اور جلدی راضی ہو تو یہ (بھی) اچھی خصلت ہے۔

(مسند احمد ج ١٠ رقم الحدیث ١١٠٨٦ مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ ١٤١٦ ھ حافظ شاکر نے کہا اس حدیث کی سند حسن ہے سنن الترمذی رقم الحدیث ٢١٩٨ امام ترمذی نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ٤٠٠٠ صحیح ابن حبان ج ٨ رقم الحدیث ٣٢٢١ ) ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم لوگ رقوب کسی کو شمار کرتے ہو ؟ ہم نے کہا جس شخص کے ہاں اولاد نہ ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ رقوب نہیں ہے رقوب وہ شخص ہے جس کی (نابالغ) الاد میں سے اس کی زندگی میں کوئی فوت نہ ہو (حتیٰ کہ وہ اس کے لیے فرط اور سلف ہوجائے) پھر فرمایا تم لوگ پہلوان کس کو شمار کرتے ہو ؟ ہم نے کہا کہ جس کو لوگ پچھاڑ نہ سکیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ پہلوان نہیں ہے پہلوان وہ ہے جو غضب کے وقت خود کو قابو میں رکھنے پر قادر ہو۔

(صحیح مسلم البروالصلہ ١٠٦ (٢٦٠٨) ٦٥١٨ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦١١٤ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٧٩ موطا امام مالک رقم الحدیث : ٥٦٥ مسند احمد ج ٤ ص ٢٣٦ الادب المفردرقم الحدیث : ١٣١٧ جامع الاصول ج ٨ رقم الحدیث : ٦١٩٩) ۔

عروہ بن محمد السعدی اپنے باپ سے اور وہ اپنی دادی عطیہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا غضب شیطان سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو صرف پانی سے بجھایا جاتا ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی شخص غضبناک ہو تو وہ وضو کرے۔

(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٨٤ مسند احمد ج ٤ ص ٢٢٦ جامع الاصول رقم الحدیث : ٦٢٠١)

حضرت ابوذر غفاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص غضب میں آئے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے۔ اگر اس کا غضب دور ہوگیا تو فبہا ورنہ لیٹ جائے۔

(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٨٢ مسند احمد ج ٥ ص ١٥٢ جامع الاصول رقم الحدیث : ٦٢٠٢) ۔

کیونکہ جو شخص کھڑا ہوا ہو وہ اپنے ہاتھ پیر چلانے پر بیٹھے ہوئے شخص کے بہ نسبت زیادہ قادر ہوتا ہے اور بیٹھا ہوا شخص اس کی بہ نسبت کم قادر ہوتا ہے اور لیٹا ہوا شخص اور بھی کم قادر ہوتا ہے۔

حضرت سلیمان بن صرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے وہاں دو شخص ایک دوسرے پر سب وشتم کررہے تھے اور جب ان میں سے ایک شخص دوسرے کو برا کہہ رہا تھا تو اس کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے ایک ایسے کلمہ کا علم ہے اگر یہ شخص اس کو پڑھ لے تو اس کا غضب جاتا رہے گا تب ایک شخص اس کے پاس گیا اور کہا تم پڑھو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم اس نے کہا کیا مجھے کوئی بیماری ہوئی ہے ؟ یا میں مجنون ہوں جائویہاں سے۔

(صحیح مسلم البروالصلہ ١٠٩ (٢٦١٠) ٦٥٢٣ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٢٨٢ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٨١ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٤٥٩ مسند احمد ج ٦ ص ٣٩٤ الادب المفردر قم الحدیث : ٤٣٤ جامع الاصول ج ٨ رقم الحدیث : ٦٢٠٣) ۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : مجھے وصیت کیجئے اور مجھے زیادہ احکام نہ بتائیں یا اس نے کہا مجھے حکم دیجئے اور مجھے کم سے کم باتیں فرمائیں تاکہ میں بھول نہ جائوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم غضب نہ کرو۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦١١٦ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٢٧ موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٦٨٠ مسند احمد ج ٢ ص ٤٦٦ جامع الاصول ج ٨ رقم الحدیث : ٦٢٠٥) ۔

حضرت معاذ بن انس جنسی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنے غضب کے تقاضوں کو پورا کرنے پر قادر ہو اور وہ اپنا غضب ضبط کرلے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کو تمام لوگوں کے سامنے بلائے گا اور اس کو یہ اختیار دے گا کہ وہ جو حور چاہے لے لے۔

(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٧٧ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٢٨ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٨٦ مسند احمد ج ٣ ص ٤٣٨ جامع الاصول ج ٨ رقم الحدیث : ٦٢٠٦) ۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے اپنا غضب دور کیا اللہ تعالیٰ اس سے اپنے عذاب کو دور کردے گا اور جس نے اپنی زبان کی حفاظت کی اللہ تعالیٰ اس کے عیوب پر پردہ رکھے گا۔

(المعجم الاوسط ج ٢ رقم الحدیث : ١٣٤٢ اس کی سند میں عبدالسلام بن ھامش ضعیف ہے مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٨ عقیلی نے اس کو ضعفاء میں بیان کیا ہے رقم الحدیث : ١١٥) ۔

اگر انسان اپنے کسی ذاتی نقصان یا ذاتی معاملہ کی وجہ سے غضب میں آئے تو اس غضب کو ضبط کرنا چاہیے اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی وجہ سے غضب میں آئے تو اس میں غضب کے تقاضے پر عمل کرے اگر اس برائی کو طاقت سے بدل سکتا ہو تو طاقت سے بدلے ورنہ زبان سے اس کی مذمت کرے اور یہ بھی نہ کرسکے تو اس کو دل سے برا جانے۔

تورات کی تختیوں کو زمین پر ڈالنے کی توجیہ :

اس آیت میں فرمایا ہے انہوں نے (تورات کی) تختیاں ڈال دیں۔

امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔

حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا تورات کی الواح کو زمین پر ڈال دینا ان کے شدت غضب پر دلالت کرتا ہے کیونکہ انسان اس قسم کا اقدام اسی وقت کرتا ہے جب وہ شدت غضب سے مدہوش ہوجائے۔ روایت ہے کہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے تورات کی تختیاں زمین پر ڈالیں تو وہ ٹوٹ گئیں۔ اس کے کل سات اجزاء تھے چھ اس وقت اٹھالیے گئے اور صڑف ایک حصہ باقی رہ گیا۔ جو اجزاء اٹھا لیے گئے ان میں ہر چیز کی تفصیل تھی اور جو ایک حصہ باقی رہ گیا اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔

اور کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ قرآن مجید میں صرف یہ ہے کہ انہوں نے تورات کی تختیاں (زمین پر) ڈال دیں۔ رہا یہ کہ انہوں نے تورات کی تختیوں کو اس طرح پھینکا کہ وہ ٹوٹ گئیں یہ قرآن مجید میں نہیں ہے اور یہ کہنا اللہ تعالیٰ کی کتاب پر سخت جرأت ہے اور قسم کا اقدام انبیاء ( علیہ السلام) کے لائق نہیں ہے۔

(تفسیر کبیرج ٥ ص ٣٧٢ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

قاضی ناصرالدین نے کہا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے شدت غضب فرط صدمہ اور حمیت دین کی وجہ سے تورات کی تختیوں کو پھینک دیا اور جب انہوں نے وہ تختیاں پھینکیں تو ان میں سے بعض ٹوٹ گئیں۔ علامہ صبغتہ اللہ آفندی نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ حمیت دین کا تقاضا یہ ہے کہ کتاب اللہ کا احترام کیا جائے اور اس سے حفاظت کی جائے کہ وہ گر کر ٹوٹ جائے یا اس میں کوئی نقصان ہو یا اس کی بےحرمتی ہو اور صحیح بات یہ ہے کہ شدت غضب اور فرط غم کی وجہ سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بےقابو ہوگئے اور غیر اختیاری طور پر ان کے ہاتھوں سے یہ تختیاں گرگئیں اور چونکہ ان سے ترک تحفظ صادر ہوا تھا تو اس ترک تحفظ کو تغلیظا ڈال دینے سے تعبیر فرمایا اور ابرار کی نیکیاں بھی مقربین کے درجہ میں گناہ کا حکم رکھتی ہیں۔

علامہ آلوسی فرماتے ہیں توجیہ صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اس آیت میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس فعل پر کوئی عتاب نہیں کیا گیا حتیٰ کہ یہ کہا جائے کہ ان کے ترک تحفظ کو تغلیظا ڈال دینے سے تعبیر فرمایا اور یہ کہا جائے کہ ابرار کی نیکیاں بھی مقربین کے درجہ میں گناہ کا حکم رکھتی ہیں۔ ان آیات میں صرف حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی قوم پر زجروتوبیخ کی گئی ہے اور میرے نزدیک اس مقام کی تقریر یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کے شرک کو دیکھا تو وہ حمیت دین کی وجہ سے سخت غضب میں آگئے اور انہوں نے اپنے ہاتھ کو جلد فارغ کرنے کے لیے عجلت سے وہ الواح زمین پر رکھ دیں تاکہ وہ اپنے بھائی کا سر پکڑ سکیں جس کو قرآن مجید نے ڈالنے سے تعبیر فرمایا اور اس میں کسی وجہ سے بھی تورات کی تختیوں کی اہانت نہیں ہے اور وہ جو طبرانی وغیرہ کی روایت میں ہے کہ بعض تختیاں ٹوٹ گئیں تو وہ عجلت سے زمین پر رکھنے کی وجہ سے ٹوٹیں اور یہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی غرض نہ تھی اور نہ ان کو یہ گمان تھا کہ ایسا ہوجائے گا۔ یہاں پر صرف دینی حمیت اور فط غض کی وجہ سے بہ عجلت ان تختیوں کو زمین پر رکھنا مراد ہے اور بعض علماء نے تختیوں کے ٹوٹنے کے واقعہ کا انکار کیا ہے (جیسے امام رازی) ہرچند کہ یہ روایت مسند بزار مسند احمد اور معجم طبرانی وغیرہ میں ہے۔

(روح المعانی جز ٩ ص ٦٧۔ ٦٦ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت)

حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو سر کے بالوں سے پکڑ کر کھینچنے کی توجیہ اور دیگر فوائد :

اس کے بعد فرمایا اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔

جو لوگ عصمت انبیاء ( علیہ السلام) پر طعن کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کسی شخص کے سر کے بالوں کو پکڑ کر کھینچنا اس شخص کا استخفاف اور اس کی اہانت ہے اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے حضرت ہارون ( علیہ السلام) کی اہانت کی اور یہ عصمت کے خلاف ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے حضرت ہارون ( علیہ السلام) کا سر پکڑ کر اپنی طرف بہ طور اہانت نہیں کھینچا تھا بلکہ وہ ان کو اپنے قریب کرکے ان سے باتیں کرنا چاہتے تھے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے پھر حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے یہ کیوں کہا تھا کہ اے میری ماں کے بیٹے بیشک قام نے مجھے بےبس کردیا تھا اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو بنو اسرائیل کے جاہلوں اور عاقبت نااندیشوں سے یہ خدشہ تھا کہ وہ یہ گمان کریں گے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ، حضرت ہارون ( علیہ السلام) پر بھی اسی طرح غضب ناک ہیں جس طرح بنو اسرائیل پر ان کی گو سالہ پر ستی کی وجہ سے غضب ناک تھے۔ اس لیے انہوں نے کہا اے میری ماں جائے قوم نے مجھے بےبس کردیا تھا اور بچھڑے کی عبادت ترک کرنے میں انہوں نے میرا حکم نہیں مانا۔ میں نے ان کو اس فعل سے روکا تھا لیکن میرے پاس ایسی قدرت نہیں تھی کہ میں ان کو بہ زور اس فعل سے روک دیتا۔ بنو اسرائیل میری بات نہیں سنتے تھے قریب تھا کہ وہ مجھے قتل کردیتے۔ تو آپ ہمارے دشمنوں یعنی بچھڑے کی پرستش کرنے والوں کو خوش ہونے کا موقع نہ دیں اور میرا شمار ان ظالموں میں نہ کیجئے جنہوں نے بچھڑے کی عبادت کی تھی۔ یعنی ان سے مواخذہ کرنے میں مجھے ان کے ساتھ شریک نہ کیجئے۔ تب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے دعا کی : اے میرے رب ! مجھے معاف فرما کہ میں نے حمیت دین اور شدت غضب کی وجہ سے یہ اقدام کیا اور میرے بھائی کو معاف فرما کہ انہوں نے بچھڑے کی عبادت کرنے والوں پر ایسی شدت نہیں کی جو ان کو کرنی چاہیے تھی اور ہم کو اپنی رحمت میں داخل فرما بیشک تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے حضرت ہارون ( علیہ السلام) کے سر کو پکڑ کر جو کھینچا تھا اس کی حسب ذیل چار تاویلیں ہیں :

١۔ کسی کے سر کر پکڑ کر کھینچنا ان کے زمانہ میں متعارف تھا جیسا کہ اب عرب کسی شخص کے اکرام اور اس کی تعظیم کے لیے اس کی دارھی پکڑتے ہیں۔ سو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا ان کے سر کو پکڑ کر کھینچنا بہ طور اہانت نہ تھا۔

٢۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ان کو قریب کرکے ان سے راز دارانہ بات کرنا چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر تورات کی الواح نازل کی ہیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مناجات کی ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے کہا میرے سر اور میری داڑھی کو نہ پکڑو ورنہ آپ کے اس خفیہ بات کرنے سے بنو اسرائیل کو یہ غلط فہمی ہوگی کہ آپ میری اہانت کررہے ہیں۔

٣۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے شدت غضب سے حضرت ہارون ( علیہ السلام) کا سر پکڑ کر اپنی طرف کھینچا کیونکہ ان کا گمان یہ تھا کہ حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے بنو اسرائیل کو گو سالہ پرستی سے روکنے میں قرار واقعی سختی نہیں کی۔ اور چونکہ ان کا غضب اللہ تعالیٰ کے لیے تھا اس لیے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

٤۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے احوال سنانے کے لیے ان کو اپنے قریب کیا تھا حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو یہ ناگوار ہواکیون کہ اس سے بنو اسرائیل کو یہ غلط فہمی ہوسکتی تھی کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) حضرت ہارون ( علیہ السلام) سے مواخذہ کررہے ہیں۔ اس لیے انہوں نے اس سلسلہ میں اپنی معذرت پیش کی۔ حسن بصری نے کہا تمام اسرائیلیوں نے بچھڑے کی عبادت کی تھی کیونکہ اگر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کے علاوہ اگر کوئی مومن بچا ہوتا تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اس کے لیے بھی دعا کرتے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے لیے دعا کی کیونکہ انہوں نے شدت جذبات کی وجہ سے حضرت ہارون ( علیہ السلام) سے کہا تھا :

قال یھرون ما منعک اذراینھم ضلوا۔ الا تتبعن افعصیت امری۔ 

(طہ : ٩٣۔ ٩٢)

موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اے ہارون ( علیہ السلام) ! جب آپ نے ان کو گمراہ ہوتے ہوئے دیکھا تو اس موقع پر میری اتباع کرنے سے آپ کو کیا چیز مانع ہوئی ؟ کیا آپ نے میری حکم کی نافرمانی کی۔

اس کی تلافی کرنے کے لیے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ان کے لیے بھی دعا کی۔

حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے بتایا ان کو اپنی جان کا خطرہ تھا۔ اس لیے انہوں نے اس برائی کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش نہیں کی اس سے معلومہوا کہ جس شخص کو کسی برائی کے مٹانے میں اپنی جان جانے کا خطرہ ہو وہ صرف زبان سے منع کرنے پر اکتفا کرے اور اس میں بھی جان جانے کا خطرہ ہو تو خاموش رہے۔

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ غضب کی وجہ سے احکام نہیں بدلتے کیونکہ ہرچند کہ ان کی حالت غضب کی وجہ سے تورات کی تختیاں ساقط ہوئیں تھیں لیکن پھر بھی اس پر یہ حکم تب ہوا کہ چند تختیاں ان سے اٹھا لی گئیں۔

حالت غضب میں طلاق دینے کا شرعی حکم :

علامہ سید محمدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :

حافظ ابن قیم حنبلی نے غضبناک شخص کی طلاق کے متعلق ایک رسالہ لکھا ہے اس میں یہ کہا ہے کہ غضبان شخص کی تین قسمیں ہیں ایک یہ کہ اس کو مبادی غضب حاصل ہوں یعنی غضب کی ابتدائی کیفیت ہو اس کی عقل متغیر نہ ہو اور اس کو علم ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا قصد کررہا ہے۔ اس قسم میں کوئی اشکال نہیں ہے دوسری قسم یہ ہے کہ وہ انتہائی غضب میں ہو اور اس کو علم نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور نہ اس کا ارادہ ہو۔ اس قسم میں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس کے اقوال نافذ نہیں ہوں گے اور تیسری قسم وہ ہے جو ان دونوں کے درمیان متوسط ہوبایں طور کہ وہ مجنون کی مثل نہ ہو یہ قسم محل نظر ہے اور دلائل کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے اقوال بھی نافذ نہ ہوں۔ حافظ ابن قیم کا کلام ختم ہوا لیکن صاحب الغایہ حنبلی نے اس تیسری قسم میں حافظ ابن قیم کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس میں اقوال نافذ ہوں گے اور اس کی طلاق واقع ہوجائے گی اور یہ ہمارے موقف کے مطابق ہے جیسا کہ ہم نے مدہوش کی بحث میں لکھا ہے۔ (الی قولہ) پس اس مسئلہ میں مدہوش کی تعریف پر اعتماد کرنا چاہیے اور اسی پر حکم دائر کرنا چاہیے۔ اور جس شخص کے اقوال اور افعال میں اکثر وبیشتر خلل رہتا ہو یا بڑھاپے یا بمامری کا کسی آفت کی وجہ سے کسی کی عقل میں خلل آگیا ہو تو جب تک اس کی یہ کیفیت رہے (یعنی الٹی سیدھی باتیں کرتا ہو اور الٹے سیدھے کام کرتا ہو) اس کے اقوال اور افعال کا اعتبار نہیں کیا جائے گا خواہ اس کو اس کو ان اقوال اور افعال کا علم ہو اور اس نے ان کا ارادہ کیا ہو کیونکہ اس کا یہ علم اور ارادہ معتبر نہیں ہے کیونکہ اس کو ادراک صحیح حاصل نہیں ہے۔ آخر میں علامہ شامی نے یہ لکھا ہے کہ جب کوئی شخص شدید غضب کی حالت میں طلاق دے اور بعد میں اس کو یاد نہ رہے کہ اس نے کیا کہا تھا اور دو آدمی یہ گواہی دیں کہ اس نے طلاق دی تھی تو اس کی طلاق واقع ہوجائے گی۔ ہاں اگر اس کی عقل میں خلل ہو اور اس کی زبان پر ایسے الفاظ جاری ہوں جن کو وہ سمجھتا ہو نہ ان کا ارادہ کرتا ہو تو یہ جنون کا اعلیٰ مرتبہ ہے اس میں طلاق واقع نہیں ہوگی اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ والوالجیہ میں مذکور ہے کہ اگر وہ غضب کی ایسی حالت میں ہو کہ اس کی زبان پر ایسے الفاظ جاری ہوں جو اس کو بعد میں یاد نہ رہیں تو دو گواہوں کے قول پر اعتماد کرنا جائز ہے کہ یہ عبادت ہمارے بیان کی صراحتاً تائید کرتی ہے۔

(ردالمحتارج ٢ ص ٤٢٧ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٠٧ ھ)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں :

غضب اگر واقعی اس درجہ شدت پر ہو کہ حد جنون تک پہنچا دے تو طلاق نہ ہوگی اور یہ کہ غضب اس شدت پر تھا یا تو گواہان عادل سے ثابت ہو یا وہ اس کا دعویٰ کرے اور اس کی یہ عادت مشہور و معروف ہو تو قسم کے ساتھ اس کا قول مان لیں گے ورنہ مجرد دعویٰ معتبر نہیں۔ یوں تو ہر شخص اس ادعا کرے اور غصہ کی طلاق واقع ہی نہ ہو۔ حالانکہ طلاق نہیں ہوتی مگر بحالت غصہ۔

(فتاویٰ رضویہ ج ٥ ص ٤٣٩ مطبوعہ سنی دارالاشاعت فیصل آباد)

نیز تحریر فرماتے ہیں :

غصہ مانع وقوع طلاق نہیں بلکہ اکثر وہی طلاق پر حامل ہوتا ہے تو اسے مانع قرار دینا گویا حکم طلاق کا راسا ابطال ہے۔ ہاں اگر شدت غیظ وجوش غضب اس حد کو پہنچ جائے کہ اس سے عقل زائل ہوجائے خبر نہ رہے کیا کہتا ہوں زبان سے کیا نکلتا ہے تو بیشک ایسی حالت کی طلاق ہرگز واقع نہ ہوگی۔ (الی قولہ) اور اگر وہ دعویٰ کرے کہ اس تحریر کے وقت میرا غصہ ایسی ہی حالت کو پہنچا ہوا تھا کہ میری عقل بالکل زائل ہوگئی تھی اور مجھے نہ معلوم تھا کہ میں کیا کہتا ہوں کیا میرے منہ سے نکلتا ہے تو اطمینان بندہ کے لیے اس کا ثبوت گواہان عادل سے دے کہ اگرچہ عنداللہ وہ اپنے بیان میں سچا ہو اور اسے عورت کے پاس جانا دیا تہ ردا ہو مگر عورت کو بےثبوت بقائے نکاح اس کے پاس رہنا ہرگز حلال نہیں ہوسکتا تو ضرور ہوا کہ زید اپنے دعویٰ پر گواہ دے یا اگر معلوم و معروف ہے کہ اس سے پہلے بھی کبھی اس کی ایسی حالت ہوگئی تھی تو گواہوں کی کچھ حاجت نہیں مجرد قسم کھا کر بیان کرے ورنہ مقبول نہیں۔

(فتاویٰ رضویہ ج ٥ ص ٢٣٣۔ ٤٣٢ مطبوعہ فیصل آباد)

علامہ خیرالدین رملی حنفی متوفی ١٠٨١ ھ لکھتے ہیں :

شرح الطحاوی سے نقل کرکے تاتارخانیہ میں یہ تصریح کی ہے کہ مدہوش کی طلاق واقع نہیں ہوتی اسی طرح محقق ابن ھمام نے فتح القدیر میں اور علامہ تمرتاشی غزی نے اپنے متن تنویر الابصار میں یہ تصریح کی ہے۔ فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ غیر عاقل کی طلاق واقع نہیں ہوتی سوا اس کے کہ اس کی عقل نشہ کے سبب سے زائل ہو جو کہ معصیت ہے تو اس صورت میں بہ طور سزا اس کی طلاق واقع ہوجائے گی۔ غیر عاقل میں ہر وہ شخص داخل ہے جس کی عقل ان امور سے زائل ہوتی ہو۔ جنون عتھ برسام اغمار (بےہوشی) اور دھش جنون ایک مشہور بیماری ہے اور عتھ کا معنی ہے کم فہمی اور کلام کا غلط اور صحیح ہونا اور تدبیر کا فسادیہ عقل کے اختلال کی وجہ سے ہوتا ہے کبھی وہ عقل مندوں کی طرح کلام کرتا ہے اور کبھی مجنونوں کی طرح اور برسام ایک بیماری ہے جس میں بیمار ہذیان بکتا ہے (بےسروپاباتیں کرتا ہے) اور دھش کا معنی ہے عقل جاتی رہے بھول اور غفلت کی وجہ سے یاعشق کی وجہ سے اور جس نے مدہوش کی تفسیر حیرت زدہ کی ہے اس نے غلطی کی قاموس میں لکھا ہے کہ مدہوش وہ شخص ہے جس کی عقل ذہول یا عشق کی وجہ سے جاری رہی۔

مجنون کے متعلق حکم یہ ہے کہ جس کے متعلق معلوم ہو کہ اس کو جنون ہوچکا ہے اور اس نے طلاق دی اور اس نے کہا مجھے دوبارہ جنون ہوا اور میں نے طلاق دی تو اس کی قسم کے ساتھ اس کا قول قبول کرلیا جائے گا اور اگر پہلے اس کو جنون نہ ہوا ہو تو اس کا قول قبول نہیں کیا جائے گا۔ خانیہ تاتار خانیہ اور دیگر کتب میں اسی طرح ہے مدہوش کا معاملہ بھی اسی طرح ہے۔ اگر ایک مرتبہ پہلے وہ مدہوش ہوچکا ہے تو قسم کے ساتھ اس کا قول قبول کر لاد جائے گا اور اگر وہ پہلے مدہوش نہیں ہوا تو قضاء اس کا قول قبول نہیں ہوگا ہاں گواہوں کی گواہی سے ثابت ہوجائے گا اور دیانتہً اس کا قول قبول ہوجائے گا۔

(الفتاویٰ الخیریہ علی ھامش الحامدیہ ج ا ص ٦٨۔ ٦٧ مطبوعہ کوئٹہ)

شماتت کا معنی اور اس کا شرعی حکم :

اس آیت میں ہے : فلا تشمت بی الاعداء تو آپ مجھ پر دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دیں۔

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں۔

شماتت کا معنی ہے دشمن کی مصیبت پر خوش ہونا۔

(المفردات ج ا ص ٣٥١ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ النہایہ ج ٢ ص ٤٤٦ مطبوعہ دارلکتب العلیہ بیروت)

حضرت واثلہ بن اسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ اپنے (دینی) بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا اور تم کو مصیبت میں مبتلا کردے گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥١٤) ۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شماتت اعداء سے محفوظ رہنے کی دعا فرمائی ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بری تقدیر سختیوں کے آنے شماتت اعداء اور سخت مصیبت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے تھے۔

(صحیح مسلم الذکر ٥٣ (٢٧٠٧) ٦٧٤٧ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦١٦، ٦٣٤٧ سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٤٩١ مسند احمد ج ٢ ص ١٧٣)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 150