اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْۚ-وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ(۱۰۰)

اور کیا وہ جو زمین کے مالکوں کے بعد اس کے وارث ہوئے انہیں اتنی ہدایت نہ ملی کہ ہم چاہیں تو انہیں ان کے گناہوں پر آفت پہنچائیں(ف۱۹۱) اور ہم ان کے دلوں پر مُہر کرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سنتے(ف۱۹۲)

(ف191)

جیسا کہ ہم نے ان کے مَورِثوں کو ان کی نافرمانی کے سبب ہلاک کیا ۔

(ف192)

اور کوئی پَند و نصیحت نہیں مانتے ۔

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآىٕهَاۚ-وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِۚ-فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُؕ-كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ(۱۰۱)

یہ بستیاں ہیں(ف۱۹۳) جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں (ف۱۹۴) اور بے شک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں(ف۱۹۵) لے کر آئے تو وہ (ف۱۹۶) اس قابل نہ ہوئے کہ وہ اس پر ایمان لاتے جسے پہلے جھٹلاچکے تھے(ف۱۹۷) اللہ یونہی چھاپ(مُہر) لگادیتا ہے کافروں کے دلوں پر (ف۱۹۸)

(ف193)

قوم حضرت نوح اور عاد و ثمود اور قوم حضرت لُوط وقوم حضرت شعیب کی ۔

(ف194)

تاکہ معلوم ہو کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والوں کی اپنے دشمنوں یعنی کافِروں کے مُقابلہ میں مدد کیا کرتے ہیں ۔

(ف195)

یعنی مُعجزاتِ باہِرات ۔

(ف196)

تا دَمِ مَرۡ گ ۔

(ف197)

اپنے کُفر و تکذیب پر جمے ہی رہے ۔

(ف198)

جن کی نسبت اس کے علم میں ہے کہ کُفر پر قائم رہیں گے اور کبھی ایمان نہ لائیں گے ۔

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍۚ-وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ(۱۰۲)

اور ان میں اکثر کو ہم نے قول(وعدے) کا سچانہ پایا(ف۱۹۹) اور ضرور ان میں اکثر کو بے حکم ہی پایا

(ف199)

انہوں نے اللہ کے عہد پورے نہ کئے ان پر جب کبھی کوئی مصیبت آتی تو عہد کرتے کہ یاربّ تو اگر اس سے ہمیں نَجات دے تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نَجات پاتے عہد سے پِھر جاتے ۔ (مَدارِک)

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖ فَظَلَمُوْا بِهَاۚ-فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ(۱۰۳)

پھر ان (ف۲۰۰) کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں (ف۲۰۱) کے ساتھ فرعون اوراس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی (ف۲۰۲) تو دیکھو کیسا انجام ہوا مفسدوں(فساد کرنے والوں) کا

(ف200)

انبیاءِ مذکورین ۔

(ف201)

یعنی مُعجزاتِ وَاضِحات مثل یَدِ بَیۡضا وعصا وغیرہ ۔

(ف202)

انہیں جھٹلایا اور کُفر کیا ۔

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۰۴)

اور موسیٰ نے کہا اے فرعون میں پروردگار عالم کا رسول ہوں

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّؕ-قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ(۱۰۵)

مجھے سزا وار(مناسب یہی) ہے کہ اللہ پر نہ کہوں مگر سچی با ت (ف۲۰۳) میں تم سب کے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں (ف۲۰۴) توتو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے (ف۲۰۵)

(ف203)

کیونکہ رسول کی یہی شان ہے وہ کبھی غلط بات نہیں کہتے اور تبلیغِ رِسالت میں ان کا کِذب مُمکِن نہیں ۔

(ف204)

جس سے میری رسالت ثابت ہے اور وہ نشانی مُعجزات ہیں ۔

(ف205)

اور اپنی قید سے آزاد کر دے تاکہ وہ میرے ساتھ اَرضِ مُقدّسہ میں چلے جائیں جو ان کا وطن ہے ۔

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۰۶)

بولا اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ اگر سچے ہو

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ(۱۰۷)

تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا وہ فوراً ایک ظاہر اژدھا ہوگیا(ف۲۰۶)

(ف206)

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسّلام نے عصا ڈالا تو وہ ایک بڑا اژدہا بن گیا زَرۡ د رنگ ، مُنہ کھولے ہوئے ، زمین سے ایک مِیل اونچا ، اپنی دُم پر کھڑا ہوگیا اور ایک جبڑا اس نے زمین پر رکھا اور ایک قصرِ شاہی کی دیوار پر پھر اس نے فرعون کی طرف رُخ کیا تو فرعون اپنے تخت سے کُود کر بھاگا اور ڈر سے اس کی رِیح نِکل گئی اور لوگوں کی طرف رُخ کیا تو ایسی بھاگ پڑی کہ ہزاروں آدمی آپس میں کُچَل کر مَر گئے ۔ فرعون گھر میں جا کر چیخنے لگا اے موسٰی ! تمہیں اس کی قسم جس نے تمہیں رسول بنایا اس کو پکڑ لو میں تم پر ایمان لاتا ہوں اور تمہارے ساتھ بَنی اِسرائیل کو بھیجے دیتا ہوں ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس کو اُٹھا لیا تو وہ مثلِ سابِق عصا تھا ۔

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠(۱۰۸)

اور اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے سامنے جگمگانے لگا(ف۲۰۷)

(ف207)

اور اس کی روشنی اور چمک نورِ آفتاب پر غالب ہوگئی ۔