کرسمس ڈے کی حقیقت اور حضرت عیسٰی علیہ السّلام کی تاریخ پیدائش

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : حضرت عیسٰی علیہ السّلام انبیاء کرام علیہم السّلام میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں ، اللہ تعالی نے اپنی قدرت کا شاہکار بناکر اور معجزانہ انداز میں آپ کو دنیا میں بھیجا ،آپ کی زندگی شروع ہی سے غیر معمولی رہی ، اللہ تبارک و تعالٰی نے معجزانہ طورپر بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور پھر زندہ ہی آسمان پر اٹھا لیا دوبارہ قربِ قیامت آپ دنیا میں تشریف لائیں گے ۔ حضرت عیسی علیہ السّلام کی زندگی نہایت سبق آموز اور عبرت انگیز ہے۔اللہ تعالی نے قرآن کریم میں مختلف مقامات پر الگ الگ اسلوب و اندازمیں آپ کی شخصیت کا ذکر فرمایا ۔ لیکن آپ کے ماننے والوں نے آپ کے ساتھ بہت ہی ناروا سلوک کیا اور آپ کی جانب اور آپ کے ماں حضرت مریم کی جانب بہت سی غیر ضروری اور لایعنی و مشرکانہ باتوں کو جوڑ دیا،عقائد ونظریات کو منسوب کردیا ، اور آپ کی پیدائش کے نام پر جو تہذیب و شرافت کے خلاف اور حقائق سے ناواقف ہوکر رسوم ورواج کو انجام دینے کا ایک سلسلہ شروع کردیا ہے ۔آئیے ایک مختصرنظر کرسمس ڈے کی حقیقت پر ڈالتے ہیں اور اس نام پر جو خرافات انجام دی جاتی ہیں ان کو ملاحظہ کرتے ہیں ۔

چناںچہ 25 دسمبر کو دنیا بھر میں عیسائی کرسمس ڈے مناتے ہیں ، جس تاریخ کے بارے میں ان کاخیال ہے کہ اسی تاریخ کو حضرت عیسٰی علیہ السّلام کی ولادت ہوئی ہے ، اسی خوشی میں وہ اس دن کو عید کی طرح مناتے ہیں ، خوشیوں کا اہتمام کرتے ہیں ، جشن ومسرت سے سرشار ہوکر خود حضرت عیسی علیہ السّلام کی تعلیمات کے خلاف کام انجام دیتے ہیں ۔ اس کی کیا حقیقت ہے اس کو ملاحظہ کیجیے ۔

کرسمس (Christmas) دو الفاظ کرائسٹ (Christ) اور (Mass) کا مرکب ہے ۔ کرائسٹ (Christ) مسیح (علیہ السّلام) کوکہتے ہیں اور ماس (Mass) اجتماع ، اکھٹاہونا ہے ۔ یعنی مسیح کے لئے اکھٹا ہونا ، مسیحی اجتماع یا یومِ میلاد مسیح علیہ السّلام ۔ یہ لفظ تقریباً چوتھی صدی کے قریب قریب پایا گیا ، اس سے پہلے اس لفظ کا استعمال کہیں نہیں ملتا ۔ دنیا کے مختلف خطوں میں کرسمس کو مختلف ناموں سے یاد کیا اور منایا جاتا ہے ۔۔۔ مسیح علیہ السّلام کی تاریخ پیدائش بلکہ سن پیدائش کے حوالے سے بھی مسیحی علماء میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے ۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیسا اسے 25 دسمبر کو ، مشرقی آرتھوڈوکس کلیسا 6 جنوری کو اورارمنی کلیسا 19جنوری کو مناتا ہے ۔ کرسمس کا تہوار25 دسمبر کو ہونے کا ذکر پہلی مرتبہ شاہِ قسطنطین (جو کہ چوتھی صدی عیسوی میں بت پرستی ترک کرکے عیسائیت میں داخل ہو گیا تھا) کے عہد میں 325 عیسوی میں ہوا ۔ یاد رہے کہ صحیح تاریخ پیدائش کا کسی کو علم نہیں ۔ تیسری صدی عیسوی میں اسکندریہ کے کلیمنٹ نے رائے دی تھی کہ اسے 20 مئی کو منا یا جائے ۔ لیکن 25 دسمبر کو پہلے پہل رول ( اٹلی) میں بطور مسیحی مذہبی تہوار مقرر کیا گیا تاکہ اس وقت ایک غیر مسیحی تہوار زحل (یہ رومیوں کا ایک بڑا تہوار تھا) کو جو سورج کے راس الجدی پر پہنچنے کے موقع پر ہوتا تھا ، پسِ پشت ڈال کر اس کی جگہ مسیح کی سالگرہ منائے جائے ۔ (قاموس الکتاب :ص147 بحوالہ کرسمس کی حقیقت :6)

کینن فیرر نے بھی اپنی کتاب لائف آف کرائسٹ میں اس بات کا اعتراف کیا کہ مسیح علیہ السلام کے یوم ولادت کا کہیں پتہ نہیں چلتا ۔ یہ ہے کرسمس ڈے کی حقیقت جسے دنیا میں حضرت عیسی کا یوم پیدائش سمجھ کر دھوم دھام کے ساتھ منایا جاتا ہے ، تاریخی حقیقت سے سب ناواقف ہوکر اور صحیح ترین روایتوں کے فقدان کے سبب خود اپنے پوپ و پادریوں کی من گھڑت بیان کردہ تاریخ کے مطابق پوری عیسائی دنیا اندھیرے میں پڑی ہوئی ہے ، اور اس پرمستزاد یہ ہے اسے اپنے نبی کی ولادت سے منسوب کرتے ہیں اور خود نبی کی تعلیمات اور شرافت و پاکیزگی والی ہدایات کو فراموش کرکے طوفان بد تمیزی قائم کرتے ہیں ، شراب و شباب کے نشے میں دھت ہوکر انسانی اور اخلاقی حدوں کوپامال کرتے ہیں ۔ کرسمس کا آغاز ہوا تھا تو اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں میں مذہبی رجحان پیدا کیا جائے یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابتداء میں یہ ایک ایسی بدعت تھی جس کی واحد فضو ل خرچی ’’موم بتیاں‘‘ تھیں لیکن پھر ’’کرسمس ٹری‘‘ آیا ، پھر موسیقی ، پھر ڈانس اور آخر میں شراب بھی اس تہوار میں شامل ہوگئی ۔ شراب داخل ہونے کی دیر تھی کہ یہ تہوار عیاشی کی شکل اختیا ر کیا گیا ۔ صرف برطانیہ کا یہ حال ہے کہ ہر سال کرسمس پر 7 ارب 30 کروڑ پاؤنڈ کی شراب پی جاتی ہے ۔ 25 دسمبر 2005ء میں برطانیہ میں جھگڑوں ، لڑائی ، مار کٹائی کے دس لاکھ واقعات سامنے آئے ، شراب نوشی کی بنا پر 25 دسمبر 2002 میں آبروریزی اور زیادتی کے 19 ہزار کیس درج ہوئے ۔ (کرسمس کی حقیقت تاریخ کے آئینہ میں :11،چشتی)

اس طرح یہ لوگ خود ساختہ مذہبی دن کی دھجیاں اڑاتے ہیں ، اور اپنے پیغمبر علیہ السّلام کے نام پر تما م ناروا چیزوں کو اختیار کرتے ہیں ۔

حضرت عیسی علیہ السّلام کی شخصیت نہایت ہی قابل احترام ہے ، اور ان کی سیرت و زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اللہ تعالی نے قرآن کریم میں بیان کیا ، ان کی پاک و صاف زندگی اور ان کی ماں حضرت مریم علیہا السّلام کے پاکیزہ کردار کی شہادت قرآن کریم نے دی ہے ، جتنی سچائیوں کو قرآن نے بیان کیا ان کی تحریف کردہ کتابوں میں بھی وہ نہیں ہیں ۔ لیکن ان لوگوں نے خود ان مبارک ناموں پر اپنی عیش و مستیوں کو پورا کیا اور اس بے حیا ئی کے طوفان میں پوری دنیا کو لے جا نا چاہتے ہیں ، دیہاتوں ،قریوں کے مسلمانوں پر ان کے ایمان لیوا حملے ، دین سے دور مسلمانوں کو عیسائیت کے جال میں پھانسنے کی تدبیریں دن بدن بڑھتی ہی جارہی ہیں ، حقائق کو بھلاکر کفر وشرک کے دلدل میں انسانوں کو پھنسانے کی کوشش میں مال و دولت کے انبار لٹارہے ہیں ۔ایسے میں مسلمانوں کو ان حقائق سے باخبر رہنا ضروری ہے ، ان تمام رسموں اور رواجوں اور غیر وں کے تہواروں سے اپنے آپ کو بچانا ضروری ہے ۔بالخصوص عیسائی مشنری اسکولوں میں تعلیم پانے والے مسلمان بچوں کو ان تما م چیزوں محفوظ رکھنا ضروری ہے ۔چوں کہ وہ اپنے اسکولوں میں اپنے مذہب کی تبلیغ کا کام بہت ہی خاموش انداز میں انجام دیتے چلے جاتے ہیں اور ہم معیاری تعلیم کے خوابوں میں کہیں اپنی اولاد کودین وایمان سے دور نہ کردیں ۔

کرسمس کے متعلق شرعی حکم

محض رسمی تعلقات کی بنا پر مبارکباد دینا گناہ ہے ـ کفر نہیں جبکہ اس دن کو ان کے دین کے باعث اچھا یا لائقِ تعظیم نہ جانتا ہو ۔ اور اگر کافروں کے کسی دن کو باعظمت جان کر اسکی مبارکباد دیتا ہو تو ایسے شخص پر حکُمِ کفر ہے چنانچہ بحر الرائق میں ہے : الموفقة مھم فیما یفعلون في ذٰلك الیوم و بشرائه یوم النیروز شیاء لم یکن یشتر به قبل ذلك تعظیماً للنیروز لا لِاَکل و الشرب وباھدائه ذالك الیوم للمشرکین و لو بیضة تعظیماً لذالك الیوم ۔

ترجمہ : یعنی کفار کی موافقت کرنا اس کام میں جو خاص اس روز وہ لوگ کرتے ہوں اسی طرح یومِ نیروز (کفار کے مذہبی دن) میں کچھ خریدنا اس دن کے باعث ، جبکہ اس سے قبل وہ چیزیں نہیں خریدتا ، ہاں مگر عام کھانے پینے کی چیز ہو تو کچھ حرج نہیں پھر مشرکین کو ہدیہ کرنا خاص روز کی تعظیم کی خاطر اگرچہ ایک انڈہ ہی ہو ۔ (شرح فقه الاکبر، صفحہ نمبر 106 دار الکتب العلمیہ بیروت)

اور افسوس کہ آج کل یہ مناظر عام ہوتے چلے جا رہے ہیں ایسے تمام لوگوں کو ڈرانا چاہیئے کہ اس دن کو قابلِ تعظیم سمجھتے ہوئے مذکورہ کام کرنا کفر ہے

اللہ تعالٰی مسلمانوں کو اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ۔

کرسمس ڈے ہو یا ہولی دیوالی کفار کی غیر اسلامی عیدوں پرہرگز ہرگز کافروں کو مبارکباد تحفے کھانے مٹھائیاں وغیرہ نہ دیا کریں اور اگر وہ دیں تو ہرگز ہرگز نہ لیا کریں ، اللہ تعالی اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی تمام مسلمانوں کو توفیق عطا فرمائے . (بہار عقائد و مسائل صفحہ نمبر 201)

نہ اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی دی

ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح عیسی بن مریم اللہ کے رسول کو شہید کیا اور ہے یہ کہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی دی بلکہ ان کیلے اس کی شبیہ کا ایک بنادیا گیا اور جو اس کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں ضرور اس کی طرف سے شبہہ میں پڑے ہوئے ہیں ، انہیں اس کی کچھ بھی خبر نہیں مگر یہی گمان کی پیروی اور بیشک انہوں نے اس کو قتل نہیں ۔ (پارہ نمبر 6 سورہ النساء آیت نمبر 157)

حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر

حضرت عیسی علیہ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام یہودیوں کے ہاتھوں مقتول نہیں ہوئے اور اللہ تعالی نے آپ کو آسمانوں پر اٹھالیا ، جو یہ عقیدہ رکھے کہ حضرت عیسی علیہ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام قتل ہوگۓ اور سولی پر چڑھ گے جیسا کہ نصاری کا عقیدہ ہے تو وہ شخص کافر ہے ، کیونکہ قران مجید میں صاف صاف مذکور ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نہ مقتول ہوئے نہ سولی پر لٹکائے گے . (عجائب القرآن مع غرائب القرآن صفحہ نمبر 74،76،چشتی)

کرسمس ڈےکا کیا مطلب ہے ؟

عیسائیوں کا بڑادن حضرت عیسی علیہ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام کی پیدائش کا دن 25 دسمبر عید نصاری ۔ (فیروزاللغات ص1003)

لیکن ! مسلمانوں کو کرسمس ڈے کی رسومات میں شرکت کرنا مبارکباد دینا ، وغیرہ کسی طرح بھی جائز نہیں ہے اور بعض صورتوں میں کفر ہے ۔

ٓجس نے کافروں کے دن کی تعظیم کیلے کوئی کام کیا مثلا کوئی چیز خریدی اس پر حکم کفر ہے یہی حکم کرسمس‎‏ منانے کا ہے اور اس دن لوگ کافروں کو مبارکباد دیتے ہیں اور بہت جگہ تو مختلف برادریوں کی طرف سے بینرز لگے ہوتے ہیں جن پر کافروں کے نام کرسمس پر مبارک بادیاں تحریر ہوتی ہے ایسے تمام لوگوں پر جو کرسمس ڈے کو قابل تعظیم سمجھ کر یہ کام کرتے ہیں حکم کفر ہے ۔ (بہار عقائد ومسائل جلد اول صفحہ نمبر 201)

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک صحابی کو حضرت عیسی علیہ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام کے متعلق بتایا کہ وہ وہ اس دنیا میں دوبارہ نزول فرمائیں گے اور پھر وہ مدینہ آئیں گے ، اور رسول اللہ صل اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مزید فرمایا اور جب عیسی علیہ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام میری قبر کے پاس کھڑے ہوں گے تو مجھے یا محمد کہہ کر پکاریں گے اور میں ان کی پکار کا جواب دوں گا ۔ (ابن حجر العسقلانی ، کتاب مطالب الاولیاء،ج4،حدیث3953)

کفار کے میلوں تہواروں میں شرکت کا حکم

کفار‎ ‎کی غیر‎ ‎اسلامی عیدوں کےدن کفار کو تحائف دینا وغیرہ دینا حرام ہے وگناہ ہے اور ان غیراسلامی عیدوں کے تعظیم مقصود ہوتو کفر ہے ۔ (ایمان کی حفاظت صفحہ نمبر 117،118،120)

کافروں کے دن کی تعظیم یا مبارکباد دینے کا شرعی حکم

جس نے کافروں کے دن کی تعظیم کیلے کوئی کام کیا مثلا” کوئی شے خریدی اس پر حکم کفر ہے . یہی حکم کرسمس منانے کا ہے ۔ (بہار عقائد و مسائل صفحہ نمبر 200)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)