حدیث نمبر 13

وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَمَعَهُ عَبَّاسٌ فَصَلَّى فِي صَحْرَاءَ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةٌ وَحِمَارَةٌ لَنَا وَكَلْبَةٌ تعبثان بَين يَدَيْهِ فَمَا بالى ذَلِك. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وللنسائي نَحوه

روایت ہے حضرت فضل ابن عباس سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف لائے ہم اپنے جنگل میں تھے اور آپ کے ساتھ حضرت عباس تھے آپ نے جنگل میں نماز پڑھی آپ کے سامنے سترہ نہ تھا ہماری ایک گدھی اور کتیا آپ کے سامنے کھیلتے رہے  ۱؎  آپ نے اس کی پرواہ نہ کی(ابوداؤد)نسائی میں اس کی مثل ہے۔

شرح

۱؎ چونکہ اس جنگل میں کسی کے گزرنے کا احتمال نہ تھا اس لیے سترہ نہ گاڑا گیا یہ کتیا اور گدھی زیادہ فاصلے پر تھے اس لیے اس کی پرواہ نہ کی گئی۔چنانچہ فقہاء فرماتے ہیں کہ جنگل میں نمازی کے آگے اتنی دور پرگزرنا جائز ہے کہ جب نمازی سجدہ گاہ پرنظر رکھے تو وہاں کی چیزمحسوس نہ ہو لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف نہیں۔