أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّـةٌ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا‌ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِىۡ الۡمُفۡتَرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا تھا وہ عنقریب اپنے رب کے عذاب میں مبتلا ہوں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلت میں گرفتار ہوں گے ہم بہتان باندھنے والوں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا تھا وہ عنقریب اپنے رب کے عذاب میں مبتلا ہوں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلت میں گرفتار ہوں گے ہم بہتان باندھنے والوں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔ (الاعراف : ١٥٢ ) ۔

توبہ قبول کرنے کے باوجود بنو اسرائیل پر عذاب کی وعید کی توجیہ :

اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ بچھڑے کی عبادت کرنے والوں کی توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی تھی جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے۔

واذ قال موسیٰ لقومہ یقوم انکم ظلمتم انفسکم باتخاذکم العجل فتوبوا الی باریکم فاقتلوا انفسکم ذلکم خیر لکم عند بارئکم فتاب علیکم انہ ھوالتواب الرحیم۔ (البقرہ : ٥٤ )

اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم ! بیشک تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا پس تم اپنے خالق کی طرف توبہ کرو سو ایک دوسرے کو قتل کرو یہ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے لیے بہتر ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول فرمائی۔ بیشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا ہے حد رحم فرمانے والا۔

اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی تھی یا اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ اس نے ان کی توبہ قبول فرما لینی ہے پھر یہ کس طرح فرمایا کہ یہ لوگ اپنے رب کے عذاب میں مبتلا ہوں گے اس سوال کے متعدد جواب ہیں۔

١۔ اس آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جو توبہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے یا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی طور سے واپسی سے پہلے مرچکے تھے۔

٢۔ اس آیت کا مصداق عام بنی اسرائیل ہیں اور عذاب سے مراد دنیاوی عذاب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ عنقریب اپنے رب کے عذاب میں مبتلا ہوں گے اور اس عذاب سے مراد انہیں یہ حکم دینا تھا کہ دینا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کریں۔

٣۔ اس آیت کے مصداق وہ یہودی ہیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں تھے کیونکہ جس طرح آباء کے محاسن ابناء کے لیے باعث فخر ہوتے ہیں اسی طرح آباء کے عیوب ابناء کے لیے باعث عار ہوتے ہیں اور اس زمانہ کے یہودی بھی اپنے ان آباء کو مانتے تھے اس لیے ان کے متعلق فرمایا کہ وہ عنقریب اپنے رب کے عذاب میں مبتلا ہوں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلت میں گرفتار ہوں گے۔

بدعت سیہ کی تعریف :

اس آیت کے آخر میں فرمایا ہے ہم افتراء کرنے والوں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں ان کا افترا یہ تھا کہ انہوں نے بچھڑے کو معبود قرار دیا جو شخص دین میں کوئی ایسا طریقہ ایجاد کرتا ہے جس کی اصل کتاب اور سنت میں نہ ہو اور وہ شریعت کے کسی حکم کا مغیر ہو اور اس طریقہ کو کارثواب قرار دیتا ہو وہ شخص اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر افتراء کرتا ہے اس لیے امام مالک بن انس نے بدعتی کو مفتری فرمایا اور اس آیت کو پڑھا۔

علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ امام مالک بن انس رحمتہ اللہ نے فرمایا ہر بدعتی کے سر پر ذلت ہوگی اور پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ٧ ص ٢٦٢ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

ہم نے بدعت کی جو تعریف کی وہ بدعت سیہ کی تعریف ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے شہداء کربلا پر ماتم کرنے اور نوحہ کرنے کو شیعہ باعث اجر وثواب کہتے ہیں یا پیروں کو دھونے کی بجائے پیروں پر مسح کرنے کو کار ثواب کہتے ہیں اور چند صحابہ (رض) کے سوا باقی صحابہ (رض) کرام کو تبرا کرتے ہیں اور اس کو ثواب کا کام کہتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ میلا النبی اور بزرگوں کے لیے ایصال ثواب اور عرس وغیرہ کو بغیر شرعی دلیل کے حرام کہتے ہیں اور ان کو عرفی تعین کے ساتھ بہ طور استجباب کرنے کو بھی بدعت ناجائز اور حرام کہتے ہیں ان امور مستحبہ کو حرام کہنا بھی شریعت پر افتراء اور بدعت سیہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 152