ایک کُپَڑھ (الٹا پڑھنے والے) کے اعتراض کا علمی جواب

*”طبقات القراء” یا “طبقات المقرئین” یا “معرفة القراء الكبار”؟*

تحریر : نثار مصباحی

مجھے اندازہ ہے کہ یہ عنوان کچھ الگ لگ رہا ہوگا. دراصل چند روز قبل ایک شخص نے امامِ اہلِ سنت اعلی حضرت قدس سرہ پر ایک بیہودہ اعتراض کیا کہ انھوں نے امام ذہبی کی کتاب کا نام “طبقات المقرئین” لکھ کر غلطی کی ہے. !! امام ذہبی کی کتاب کا نام “معرفۃ القراء الکبار علی الطبقات و الأعصار” ہے. !!!

مجھے کسی نے اس اعتراض کی طرف متوجہ کیا تو مجھے معترض کی بیوقوفی پر بےساختہ ہنسی آ گئی. مجھے دعواے علم کرنے والے جاہلوں سے بہت کوفت ہوتی ہے. ایسے لوگ نہ جانے کیوں اعتراض براے اعتراض کرکے اپنی جگ ہنسائی کا سامان خود فراہم کرتے رہتے ہیں.

بات بس اتنی سی ہے کہ امام احمد رضا نے “معرفۃ القراء الکبار” کے اصل نام کی بجاے اس کے دو عرفی نام (طبقات القراء/طبقات المقرئین) لکھ دیے. اور یہ ان کا کوئی اختراع نہیں. اپنی اس کتاب کو یہ دونوں عرفی نام خود امام ذہبی نے سیر أعلام النبلاء میں دیے ہیں. اس لیے اگر کسی نے کتاب کا اصل نام لینے کی بجاے یہ عرفی نام لکھ دیے تو اس پر اعتراض یا تو لاعلمی ہے یا حماقت.

ایسا بکثرت ہوتا ہے کہ کتابوں کے اصل نام کے علاوہ موضوع کی مناسبت سے یا کسی اور مناسبت سے دوسرا نام بھی رکھ لیا جاتا ہے. یہ کبھی خود مصنف ہی کی جانب سے ہوتا ہے اور کبھی دوسرے اہلِ علم کی طرف سے. اور یہ کوئی غلطی یا عیب نہیں.

اس کی سیکڑوں مثالیں آپ کو مل جائیں گی.

دور نہ جائیے. صحاحِ ستہ میں بخاری شریف اور مسلم شریف ہی کو لے لیجیے. انھیں ان کے موضوع(صحیح احادیث) کی مناسبت سے ان کے مصنفین کی طرف منسوب کرتے ہوئے “صحیح البخاری” اور “صحیح مسلم” کہا جاتا ہے, بلکہ بخاری کو صرف “الصحیح” اور دونوں کو “صحیحین” کہا جاتا ہے. جب کہ بخاری کا اصل نام *”الجامع المسند الصحیح المختصر من أمور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم و سننہ و أیامہ”* ہے. اور “صحیح مسلم” کا اصل نام *”المسند الصحيح المختصر من السنن بنقل العدل عن العدل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم”* ہے. مگر موضوع کی مناسبت سے سبھی لوگ اِن دونوں کتابوں کو “صحیح بخاری” اور “صحیح مسلم” کہتے ہیں.

کیا کبھی کسی نے یہ بیہودہ اعتراض کیا کہ آپ کتاب کا نام غلط بتا رہے ہیں. یہ ‘صحیح البخاری’ نہیں, بلکہ *”الجامع المسند الصحیح المختصر من أمور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم و سننہ و أیامہ”* ہے. ؟؟

یہی حال جامع الترمذی کا ہے. کچھ لوگ اسے موضوع کی مناسبت سے “جامع الترمذی” کہتے ہیں, اور کچھ ‘سنن الترمذی’, مگر اصل نام ہے:

*”الجامع المختصر من السنن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعرفة الصحيح والمعلول وما عليه العمل”*

کیا اسے ‘سنن الترمذی’ یا ‘جامع الترمذی’ کہنے پر کبھی وہ اعتراض ہوسکتا ہے ؟؟

ایک مثال اور لے لیجیے. علامہ یاقوت حموی (متوفی 626ھ) کی کتاب “معجم الأدباء” کا موضوع اہلِ ادب ہیں, اس لیے موضوع کی مناسبت سے پوری دنیا اسے *”معجم الأدباء”* کہتی ہے, جب کہ اس کا نام *”ارشاد الأریب الی معرفۃ الأدیب”* ہے.

یہاں ایک دل چسپ چیز کا تذکرہ مناسب ہے. علامہ یاقوت حموی نے “معجم الأدباء” کے شروع میں خود اس کتاب کا نام “ارشاد الأریب الی معرفۃ الأدیب” منتخب فرمایا ہے, مگر اپنی دوسری مشہورِ آفاق کتاب “معجم البلدان” میں اسے کبھی “معجم الأدباء” کے نام سے ذکر کرتے ہیں, کبھی “أخبار الأدباء” کے نام سے, کبھی “کتاب الأدباء” کے نام سے, اور کبھی “أخبار النحویین” کے نام سے .!!! یعنی اپنی ہی کتاب کا اصل نام لینے کی جگہ وہ موضوع کی مناسبت سے خود ہی اسے دوسرے متعدد ناموں سے یاد کرتے ہیں. !!

اسی طرح ابن الشعار الموصلی (متوفی 654ھ) نے “قلائد الجمان/عقود الجمان فی شعراء ہذا الزمان” میں اسی “معجم الأدباء” کو “معجم أئمۃ الأدب” کے نام سے ذکر کیا ہے. !!!!

یہ سب وہی ہے کہ موضوع کی مناسبت سے اس کا ایک عرفی نام ذکر کر دیا گیا ہے.

اہلِ علم اِن چیزوں سے بہت اچھی طرح واقف ہوتے ہیں.

اسی طرح علامہ کمال الدین ابوالبرکات ‘ابن الأنباری’ کی کتاب ” *نزھۃ الألباء* کو موضوع کی مناسبت سے *”طبقات الأدباء للأنباری”*/لابن الأنباری کہا جاتا ہے.

ابن أبی اصیبعہ کی *”عیون الأنباء”* کو موضوع کی مناسبت سے *”طبقات الأطباء”* کہا جاتا ہے.

یہ فہرست بہت طویل ہے.

اس فہرست میں طبقاتِ فقہا, طبقاتِ مفسرین, طبقاتِ نُحاۃ, طبقاتِ شعراء وغیرہ کی متعدد کتابیں پیش کی جا سکتی ہیں. *”طبقات المفسرین للداؤدی”*, اور *”طبقات المفسرین للسیوطی”* وغیرہ نام بھی اِسی قَبیل سے ہیں.

بالکل اسی طرح قُرّاء/مُقرِئین کے طبقات پر مشتمل امام ذہبی کی کتاب *”معرفۃ القراء الکبار علی الطبقات و الأعصار”* کو موضوع کی مناسبت سے کبھی “طبقات القراء” اور کبھی “طبقات المقرئین” بھی کہا جاتا ہے. جیسا کہ سیر أعلام النبلاء میں امام ذہبی نے خود اسے *”طبقات القراء”* اور *”طبقات المقرئین”* کے نام سے ذکر فرمایا ہے.

اسی لیے امامِ اہلِ سنت اعلی حضرت قدس سرہ نے بھی اسے کبھی “طبقات القراء” کے نام سے ذکر کیا اور کبھی “طبقات المقرئین” کے نام سے.

بات بس اتنی سی ہے.

ویسے بیہودہ اعتراض ہی کرنا ہو تو کچھ بھی کیا جا سکتا ہے.

نثارمصباحی