بچوں کے ساتھ برے سلوک کی ایک جھلک

از: افتخار الحسن رضوی

چھوٹے بچے انتہائی حساس ہوتے ہیں، خصوصاً ابتدائی 12 سال تک کی عمر میں بچوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے اثرات دیر پا ہوتے ہیں۔ اگر آپ بچوں کے ساتھ ادب و احترام اور اخلاقیات کی حدود میں رہ کر پیش آئیں گے تو اس کی برکات و اثرات ان کی جوانی میں ظاہر ہوں گی ۔ ہمارے معاشرے میں بعض افراد لاشعوری طور پر اپنی حرکات سے بچوں پر اس قدر گھناؤنے اور خوفناک اثرات چھوڑتے ہیں جس کا تصور بھی بھیانک ہے۔ مثلاً پاکستان میں خصوصاً پنجاب، پوٹھوہار اور کشمیر میں میرپور، ڈڈیال کے علاقوں میں(دیگر علاقوں میں بھی ہو گا) یہ رویہ عام ہے کہ اگر کوئی مہمان بچہ ملا تو اس سے گفتگو کی ابتداء سلام و آداب سے نہیں کی جاتی ، زبان سے استقبالیہ و تعریفی جملے کہنے کی بجائے بچے کو ہاتھ سے چھونے کی کوشش کی جاتی ہے، کبھی اس کا کان مروڑا جاتا ہے، کبھی اسے ہلکے انداز میں کمر یا ٹانگو ں پر تھپکیاں دی جاتی ہیں۔ پھر زبان سے بھی السلام علیکم نہیں کہتے ، اوئے تم فلاں کے بیٹے ہی ہو ناں! اور تیرے باپ تو وہ ہے ناں! اوئے تیری ماں بھی تیرے جیسی ہی ہے! تیرا تو چچا بھی ایسا ہی ہے وغیرہ وغیرہ۔

مذکورہ بالا رویے میں شکایت، چغلی، غیبت اور عیب جوئی ہے۔ آپ کا یہ رویہ ایک انسانی جان کی پوری زندگی پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

آپ جب بھی کسی بچے سے ملیں، اسے اتنی ہی عزت دیں جتنی کسی سفید ریش والے کو دیتے ہیں۔ احترام سے السلام علیکم کہیں، اس کا حال دریافت کریں، بچے سے اس کے گھر، والدین اور ذات سے متعلق نجی گفتگو ہرگز نہ کریں، اس کے کان، ہاتھ یا جسم کو چھونے والی انتہائی مکروہ حرکت ہرگز ہرگز نہ کریں۔ بچے کے سامنے اس کے والدین، آباء و اجداد، اس کے رشتہ داروں سے متعلق نقائص بیان نہ کریں بلکہ ایسی گفتگو کریں جس سے بچے کو محسوس ہو کہ وہ ایک معزز خاندان کا فرد ہے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو خاموش رہیں۔ بچے کے سامنے اس کے والدین کے ساتھ زیادہ بے تکلفی سے پیش نہ آئیں، کیونکہ بعد ازاں یہ بچہ وہی مذاق اپنے والدین سے کرنے کی کوشش کرے گا۔ آپ کی طرف سے کیا گیا یہ سلوک اپنا رنگ اس وقت دکھائے گا جب آپ اس گھر یا ملاقات سے رخصت ہو جائیں گے اور پھر اس بچے کے والدین ہمیشہ یہ دعا و خواہش کریں گے کہ آئندہ آپ اس گھر میں کبھی ایک لمحے کے لیے بھی نہ آئیں۔

رسول رحمت ﷺ کی بعثت کے مقاصد عظیمہ میں سے ایک مقصد “اچھے اخلاق” کی تکمیل بھی تھی۔ اچھے رسول ﷺ کے اچھے امتی بنیے اور جیسا رویہ سرکار کریم ﷺ کا بچوں کے ساتھ ہوتا تھا ویسا ہی آپ بھی رکھنے کی کوشش کیجیے۔

بچے اللہ تعالٰی کے گلستان کے پیارے پھول ہیں، انہیں اپنے برے اخلاق سے مسلنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ اچھے اخلاق سے اس گلستان و چمن کے رنگ برنگے پھولوں کی آبیاری کیجیے۔

کتبہ: افتخار الحسن رضوی