حدیث نمبر 12

روایت ہے حضرت مقداد بن اسود سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکڑی یا ستون یا درخت کی طرف نماز پڑھتے نہ دیکھا مگر آپ اسے اپنی داہنی یا بائیں بھوؤں کے سامنے رکھتے تھے ۱؎ اور بالکل اس کے سامنے نہ ہوتے تھے ۲؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ فقہاء فرماتے ہیں کہ سترہ نمازی کے سامنے نہ ہو بلکہ قدرے دائیں بائیں ہٹا ہو اس مسئلے کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۲؎ یعنی سترے کو ناک کے مقابل نہ رکھتے تاکہ بت پرستوں کی مشابہت نہ ہوجائے کیونکہ وہ پوجا کے وقت بت بالکل سامنے رکھتے ہیں اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن چونکہ فضائل کی ہے لہذا قبول ہے ۔نسائی میں ہے کہ سترہ بائیں پلک پر رکھا جائے اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ داہنے سے بائیں پلک پر رکھنا افضل ہے ،سترہ چونکہ شیطان کو دفع کرنے کے لیے ہے اور شیطان بائیں سمت ہی سے آتا ہے اسی لیے اگر نماز میں تھوکنا پڑ جائے تو بائیں طرف تھوکے۔