صفین کے شہداء کے جنتی ہونے پر تفضیلی رافضی ٹولے میں برپا ہونے والے ماتم کا جواب ؛

تفسیقیوں کی طرف سے یہ اعتراض کیا گیا کہ آپ حضرات مولا علی کا ایک فرمان بار بار لگاتے ہیں مگر ادھورا ، کیونکہ مکمل لگانے پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا باطل پر ہونا واضح ہو جاتا ہے اور ہم نے پردہ فاش کر دیا۔۔۔مولا علی رضی اللہ عنہ کا پورا فرمان یہ ہے:۔۔۔

فَقَالَ: قَتْلَانَا وَقَتْلَاهُمْ فِي الْجَنَّةِ , وَيَصِيرُ الْأَمْرُ إِلَيَّ وَإِلَى مُعَاوِيَةَ۔۔۔۔۔

ہمارے اور شام والوں کے مقتول دونوں جنت میں ہیں۔۔۔۔۔اور پھر معاملہ میرے اور معاویہ کی طرف چلا جائے گا۔۔۔(حساب کتاب ہوگا حق پر کون تھا اور باطل پر کون ۔۔۔۔جو حق پر ہو گا وہ سرخرو ہوجائے گا اور جو باطل پر ہوگا اسے عذاب دیا جائے گا۔۔۔وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔)

تھوڑی سی عقل رکھنے والا بھی شخص جان لے گا کہ ماتمی تفسیقیوں کے اس استدلال اور حدیث قرطاس والے استدال میں کوئی فرق نہیں۔۔۔ہم دیگر روایت اور اقوال علماء سے قیاس کرتے ہوئے بھی ۔۔ڈھکوسلے ۔۔۔کا جواب دے سکتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے ، بلکہ ہم اس روایت کی متابعات سے کام چلا لیں گے۔۔

یہ روایت امام طبرانی نے ان الفاظ سے ذکر کی ہے۔۔۔

* حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: «قَتْلَايَ وَقَتْلَى مُعَاوِيَةَ فِي الْجَنَّةِ»

(معجم کبیر حدیث 688)

مولا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :۔۔۔ہمارے اور معاویہ کے مقتول جنت میں ہیں۔۔

(اس سے اگلے الفاظ معاملے والے اس میں موجود نہیں ہیں لہذا جو لوگ دونوں گروہوں کے مقتولین کو جنتی کہتے ہیں وہ حق پر ہوئے اور معترض کی جہالت سامنے آگئی اسی طرح یہ روایت انہی الفاظ کے ساتھ مجمع الزوائد اور سير أعلام النبلاء میں بھی موجود ہے؛

(الكتاب : سير أعلام النبلاءجز3ص144۔۔۔۔الكتاب: مجمع الزوائد ومنبع الفوائد۔حدیث۔۔15927

متابع روایت۔۔۔۔

*- عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ الْمَوْصِلِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: سَأَلَ عَلِيٌّ عَنْ قَتْلَى، يَوْمِ صِفِّينَ , فَقَالَ: قَتْلَانَا وَقَتْلَاهُمْ فِي الْجَنَّةِ , وَيَصِيرُ الْأَمْرُ إِلَيَّ وَإِلَى مُعَاوِيَةَ

37880 مصنف ابن ابی شیبہ،،

مولا علی رضی اللہ عنہ سے صفین کے مقتولین کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا:۔۔ہمارے مقتول اور ان کے مقتول سب جنتی ہیں۔۔۔اور معاملہ اب میرے اور معاویہ کے درمیان چلا گیا ہے۔۔۔

اس معاملے کا نتیجہ کیا نکلا۔۔۔۔کیا یہ ماتمیوں کے لیے نفع مند ہے۔۔۔یا نہیں۔۔۔اس کا جواب لیجیے!!!!

**أخبرنا أبو القاسم الخضر بن الحسين بن عبدان أنا أبو القاسم بن أبي العلاء أنا أبو زكريا يحيى بن عمار بن يحيى بن شداد أنا إبراهيم بن أحمد بن محمد الأنصاري نا سعيد ابن يحيى بن سعيد نا خالد بن حيان الرقي عن جعفر بن برقان عن يزيد بن الأصم قال لما وقع الصلح بين علي ومعاوية خرج علي فمشى في قتلاه فقال هؤلاء في الجنة ثم مشى في قتلى معاوية فقال هؤلاء في الجنة وليصير الأمر إلي وإلى معاوية فيحكم لي ويغفر لمعاوية هكذا أخبرني حبيبي رسول الله (صلى الله عليه وسلم)

تاریخ دمشق 59جز۔۔۔ص139

زید بن الاصم فرماتے ہیں جب مولاعلی اور امیر معاویہ کے درمیان صلح ہو گئی(جنگ ختم ہوئی)مولاعلی نکل کر اپنے مقتولین کی جگہ پر گئے اور فرمایا یہ سب جنت میں ہیں۔۔اور پھر امیر معاویہ کے مقتولین کے پاس گئے اور فرمایا یہ سب بھی جنت میں ہیں ، معاملہ ضرور میرے اور معاویہ کی طرف چلا جائے گا۔۔میرے حق میں فیصلہ ہو گا اور معاویہ کی مغفرت ہو گی۔۔اسی طرح آقا کریم ﷺ نے مجھے خبر دی۔۔۔

تفضیلی رافضیو! زیادہ نہیں تو دو تین گرام ہی شرم کھالو اور ایک بار پھر پڑھو مولا مشکل کشا کیا فرمارہے !!!!!!

“میرے حق میں فیصلہ ہو گا اور معاویہ کی مغفرت ہو گی”

نوٹ:۔۔دونوں روایات زید بن الاصم سے ہیں اور ایک ہی واقعے کے متعلق ہیں ، یعنی یہ دونوں اصل کی متابع ہیں ۔۔۔۔فتدبر

افسوس ہے تفسیقی رافضیوں پر جنہوں نے اپنے نظریاتی لیڈر جس نے دس بارہ سال خواب میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے علم حاصل کیا اور پندرہ بیس سال امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ سے علم حاصل کیا اور جس کا سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ سے بھی براہ راست شاگردی کا ہوائی دعوی ہو ، جسے خواب میں آقا کریمﷺ نے بشارتیں دیں ہوں اور جس نے ٹکٹوں کی آفر کی ہو اور جسے دنیا خوابوں کے شہزادے کے نام سے جانتی ہو ، میری مراد مولوی طاہر جھنگوی صاحب سابقہ خطیب اتفاق مسجد لاہور سے بہت جلد عالم رویا کے علوم تو حاصل کرلیے مگر جاگتے ہوئے لوگوں کے بیان و کلام پر ذرا توجہ نہیں دی

خیر ہمارا کام اُس عالم سے اِنہیں اس عالم میں لانا ہے آجائیں گے تو ان کی مرضی ورنہ یونہی خواب غفلت میں سوتے ہوئے عالم برزخ کی اگلی منزل منتظر ہے جہاں اپنی بکواسات کا جواب خود بولنے والے کو دینا ہوگا ،

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بخشش و مغفرت پر آنکھیں کھول کر پڑھیے!!!!

*124 – حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، نا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، نا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ جَالِسَانِ عِنْدَهُ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَجَلَسْتُ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ إِذْ أُتِيَ بِعَلِيٍّ، وَمُعَاوِيَةَ فَأْدُخِلَا بَيْتًا وَأُجِيفَ عَلَيْهِمَا الْبَابُ , وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا , فَمَا [ص:74] كَانَ بِأَسْرَعَ أَنْ خَرَجَ عَلِيٌّ وَهُوَ يَقُولُ قُضِيَ لِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ , وَمَا كَانَ بِأَسْرَعَ أَنْ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى إِثْرِهِ وَهُوَ يَقُولُ غُفِرَ لِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ»

المنامات لابن ابی الدنیا۔۔۔۔ص 73

امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں :۔میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر بھی تشریف فرما تھے ، میں نے ان پر سلام کیا اور مجلس میں بیٹھ گیا۔۔کہ اچانک مولا علی اور معاویہ کو لایا گیا۔۔۔دونوں کو ایک گھر میں داخل کیا گیا اور دروازہ بند کر دیا گیا۔۔میں انہی کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔اچانک تیزی سے مولا علی نکلے اور فرمایا:۔۔ربِ کعبہ کی قسم ہے میرے حق میں فیصلہ کر دیا گیا۔۔۔پھر امیر معاویہ نکلے فرمایا:۔۔رب کعبہ کی قسم ہے “میری مغفرت کر دی گئی”

اے مبغضین معاویہ تمہارے ہاتھ کچھ نہیں آنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تو جنت میں اپنے رب کے حضور مزے کررہے ہیں اور تم باربار صحابی کی گستاخی کے مرتکب ہوکر اپنی راہ جہنم کی جانب ہموار کررہے ہو ، فیصلے کب کے ہوچکے اور تمہیں کیڑے نکالنے سے فرصت نہیں ، وقت ہے توبہ کرلو ورنہ یاد رکھو جہنم کی آگ نافرمانوں کیلئے ہی بھڑکائی گئی ہے

موتو۱ بغیظکم!!!!!

مرتب:۔فرحان رفیق قادری عفی عنہ۔۔۔۔