مدارس کو مشورہ

=====ہ=====

.منقول از عظیم عثمانی

اب ضروری ہوگیا ہے کہ مدارس کی انتظامیہ بچوں سے زیادتی کے ان کیسز پر سخت ترین ایکشن لے. کسی بھی طرح کا کوئی بھی دفاع اس قبیح عمل کا نہیں کیا جاسکتا اور آپ میں سے کسی کو نہیں کرنا چاہیئے. مدارس کے طالبعلموں کو خود اٹھ کر اپنی انتظامیہ سے پوچھنا چاہیئے کہ وہ مستقبل میں اس کے تدارک کیلئے کیا اقدامات کررہے ہیں؟ یہ کہنا کہ اسکول کالجوں میں بھی تو ہوجاتا ہے ، ایک بھونڈی توجیح ہے. اول تو ایک کی برائی دوسرے کی برائی کا جواز نہیں بن سکتی مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ خود کو انبیاء کا وارث کہتے ہیں. قران حکیم کی تعلیم دینے والا ایک استاد، ایک عالم، ایک قاری، ایک حافظ، ایک امام اگر اس خبیث عمل کا مرتکب ہوگا تو بیشک وہ کسی بھی دوسرے شعبے سے وابستہ انسان سے بہت بہت زیادہ غلیظ و معتوب ہے. یہ شیطانیت کی شائد آخری سطح ہے.

.

مدارس تو علم کی درسگاہ ہیں جس سے ہمیں اپنی نسل کو جوڑنا تھا مگر ان واقعات کے سبب میں کتنے ہی والدین سے واقف ہوں جو مدارس میں اپنے بچے اب نہیں بھیجتے کیونکہ انہیں خوف ہے کہ مولوی کے بھیس میں کوئی جنسی بھیڑیا ان کے لخت جگر کو بھنبھوڑ سکتا ہے. بند کریں اس طرح کی توجیححات دینا کہ مدارس میں چونکہ اللہ رسول کی بات ہوتی ہے، دین سیکھایا جاتا تو شیطان حملہ زیادہ کرتا ہے. مسئلہ قبول کریں اور آگے بڑھ کر اس کا تدارک کریں. دیکھیں کہ کیا اس کی وجہ بچوں کا ہاسٹل میں رہنا ہے؟ کیا ان بچوں پر موجود استاد یا سربراہ پر کوئی مسلسل نظر رکھی جاتی ہے یا نہیں؟ کیا کوئی ایسا خفیہ انتظام ہے جہاں بچے نام ظاہر کئے بغیر اپنی شکایت خاموشی سے پہنچا سکیں؟

.

اللہ کیلئے ہمیں اپنا مخالف نا سمجھیں، ہم نے تو اپنی ساری زندگی مدرسے اور علماء کا دفاع کیا ہے. مگر ایسے واقعات سے چشم پوشی کے مجرم ہم نہیں بن سکتے. اگر آپ مدارس سے پڑھے ہوئے ہیں تو جانتا ہوں کہ آپ کو ان درسگاہوں سے یا اپنے اساتذہ سے غیر معمولی لگاؤ ہوگا. ہونا بھی چاہیئے. مگر یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ ان واقعات کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں. انتظامیہ پر اضافی اقدامات کرنے پر زور ڈالیں. حفاظتی نظام ترتیب دینے کی کوشش کریں. جانتا ہوں کہ بہت سے مدارس ایسے نہیں ہیں جہاں یہ گندگی ہوتی ہو یا ہوئی ہو. مگر یہ بھی جانتا ہوں کہ بہت سے مدارس ایسے رپورٹ ہوتے رہے ہیں جہاں یہ گناہ اکبر ہوا ہے یا ہورہا ہے. آگے بڑھیں، اپنا کردار نبھائیں. اس وقت مدارس کا ناجائز دفاع کرنے سے بہتر ہے کہ مدارس کو ان حرامزادوں سے پاک کرنے کی کوشش کریں جو دین اسلام کی بدنامی کا سب سے بڑا سبب ہیں. اسکول کالج یونیورسٹی کو بھی اس گھناؤنے عمل سے پاک کرنا ہے مگر مدارس و مساجد جیسی مقدس جگہوں کو اس غلاظت سے بچانا اولین فرض ہے.

.

====عظیم نامہ====