🙏 اس ضعف و علالت اور دیگر مصروفیات کے ہوتے ہوئے کچھ بہت ہی اہم اور پاکیزہ مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے فقیر

سوشل میڈیا پر بھی لکھتا ہے ۔ اختصار کی شعوری کوشش کے باوجود تحریر طویل ضرور ہو جاتی ہے ۔ فقیر منتخب کردہ آیت یا حدیث کے ذہن میں حاضر فوائد و نکات میں سے صرف اور صرف وہ بیان کرتا ہے جو موجودہ حالات و ایام میں اپنے اندر مکمل رہنمائی رکھتے ہیں ۔

درج ذیل واقعہ جو حدیث ، شروح احادیث، سیرت و تاریخ کی متعدد کتب میں اسناد کے ساتھ مذکور ہے ، عقائد اہل سنت ، حرمت نبوت ، عظمت و شان نبوت ، خصائص نبوت ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام کے بے مثال اور لازوال تعلق ، اللہ اور رسول کی راہ میں نکل پڑنے والوں کے ساتھ اللہ تبارک و تعالی کے حسن معاملہ ، تبرکات اور دیگر بہت کچھ کو مدلل کرتا ہے ۔

ہاں یاد آیا کہ یہ فدائی واقعہ ہے بھی محرم الحرام کا مطلب یہ کہ جس ماہ میں قتال ممنوع ہے ۔

——————

✅ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر

خَالِدَ بْنَ سُفْيَانَ بْنِ نُبَيْحٍ الْهُذَلِيَّ کا قتل ۔

☆ إمام أحمد اپنی سند کے ساتھ

حضرت عبد الله بن أنيس سے روایت کرتے ہیں :

🌹رسول الله ﷺ نے مجھے بلا کے فرمایا :

« مجھے پتہ چلا ہے کہ خالد بن سفيان بن نبيح الهذلي لوگوں کو عرنة کے مقام پر میرے ساتھ جنگ کرنے کے لیئے جمع کر رہا ہے ۔ جاؤ ، اور اسے قتل کر دو».

میں نے عرض کیا : يا رسول الله ! اس کا حلیہ مجھے بتائیں تاکہ میں اسے پہچان جاؤں .

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ،

« جب تم اسے دیکھو گے تو تم پر کپکی طاری ہو جائے گی ۔».

دوسری روایت میں ہے

کہ جب تم اس کو دیکھو گے تو تمہیں شیطان یاد کرا دے گا }

(دوسری روایت میں ہے کہ عبد اللہ بن انیس نے کہا میں ڈرنے والا نہیں لیکن دوستو اللہ کے رسول کی زبان وحی ترجمان ہوتی ہے ۔ اور نظر ؛ اپ پڑھ رہے ہیں ۔ چنانچہ اس کو دیکھتے ہی حضرت پر کپکی طاری ہو گئی ۔)

(🙏فقیر خالد محمود عرض گذار کہ صحابی محترم کا سوال غور طلب ہے ۔

مقام عرنة ، مكة اور ذو الحلیفة کے تقریبا درمیان میں ہے ۔ اب فقیر کے اندر سے آواز آ رہی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن انیس کا تھوڑا تعارف ہو جائے تاکہ قارئین حضرت کے مرتبہ کا کچھ اندازہ کر سکیں تو دوستو چند تعارفی باتیں ۔

🌹آپ ان سابقین صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے عقبة أولى اور عقبة ثانية دونوں موقعوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی ہے ۔ یہی سوچ لیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو کس فدائی مہم کے لیئے منتخب فرما رہے ہیں۔

اس طرح کی مہم پر با اعتماد ، دلیر ، راز کو راز رکھنے والے ، موقع کے مطابق فورا مناسب فیصلہ اور دیگر کئی خوبیوں اور صلاحیتوں سے مالا مال شخص کو بھیجا جاتا ہے ۔ تو قدیم الاسلام اور ان عظمتوں کے امین یہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ رہے ہیں اتنی دور بیٹھے ناہنجار کا حلیہ !

یعنی آپ کا عقیدہ ہے کہ اس دوری کے باوجود اللہ کے رسول اس کا حلیہ اس طرح بتا دیں گے کہ مجھے کوئی تردد و تذبذب نہیں رہے گا ۔ )

☘ ابن انیس کہتے ہیں :

میں نے تلوار سنبھالی اور مکہ کی راہ لی ۔ اسے عرنة کے مقام پر بوقت عصر جا لیا ۔ وہ اپنی فیملی کے لیئے پڑاؤ کی مناسب جگہ تلاش کر رہا تھا ۔

۔ اس کا حلیہ بالکل رسول اللہ کے بیان کے مطابق تھا اور مجھے بھی کپکی بھی لگی تھی۔

خیال آیا کہ اس کے اور میرے درمیان معاملہ طول بھی پکڑ سکتا ہے ۔ نماز عصر نہ رہ جائے ۔ چنانچہ اس کی طرف چلتے ہوئے نماز عصر شروع کر دی ۔ سر کے اشارے سے رکوع و سجود کیئے ۔

[نماز کی اہمیت اور لگن ملاحظہ فرما لیں ]

اس کے قریب پہنچا تو اس نے پوچھا آپ کون ؟

میں نے جواب دیا کہ ایک عربی ہوں ۔ تیرے متعلق سنا کہ تم أس بندے ( رسول اللہ ) سے مقابلہ کے لیئے لوگوں کو جمع کر رہے ہو ۔ میں اسی سلسلے میں آیا ہوں ۔

وہ بولا : ہاں میں اس تگ و دو میں ہوں ۔

حضرت نے بتایا کہ میں کچھ دور تک اس کے ساتھ باتیں کرتا چل پڑا جیسے ہی موقع بنا میں نے تلوار سے حملہ کرکے اسے قتل کر دیا ، اور وہاں سے نکل لیا ۔ اس کی بیویاں اس پر جھکی رو رہی تھیں ۔

( حضرت اپنی اونٹنی درختوں کی اوٹ چھپا کر گئے تھے ۔ جلد جا کر اس پر سوار ہو کر مدینہ منورہ کی راہ لی )

فرماتے ہیں کہ مدینہ پہنچ کر میں اللہ کے رسول ﷺ کی جناب میں پہنچا ۔ آپ صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا : «أفلح الوجه»

یہ چہرہ کامیاب و با مراد ہے ۔

میں نے عرض کیا، يا رسول الله، میں اسے قتل کر آیا ہوں ۔

آپ صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم نے فرمایا : «صدقت».

ہاں آپ سچ کہہ رہے ہیں ۔

: پھر رسول الله ﷺ مجھے ساتھ لیئے ہوئے گھر تشریف لائے ۔ ایک ڈنڈا مجھے دیتے ہوئے فرمایا :

«أمسك هذه عندك يا عبد الله بن أنيس».

اے عبد اللہ بن انیس، اسے اپنے پاس سنبھال کے رکھو

: میں وہ ڈنڈا لیئے ہوئے روانہ ہوا تو لوگ اس ڈنڈے کے متعلق پوچھنے لگے؟

: میں نے کہا رسول الله ﷺ نے یہ ڈنڈا عطا فرمایا ہے اور ساتھ ہی حکم فرمایا ہے کہ اسے سنبھال کے رکھوں ۔

لوگوں نے مجھے کہا : کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ واپس رسول الله ﷺ کے پاس جا کر اس کے بارے میں( مزید ) معلومات لے لیں .

: سو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا اور عرض کیا۔

: يا رسول الله ! آپ نے یہ ڈنڈا مجھے کیوں عطا فرمایا ہے ؟

فرمایا :

«آية بيني وبينك يوم القيامة إن أقل الناس المتخصرون يومئذ».

یہ ڈنڈا قیامت کے روز میرے اور تیرے درمیان نشانی ہے ۔ یقینا اس دن کم لوگ متخصرین ہوں گے ۔

: عبد الله نے اس عصا کو اپنی تلوار کے ساتھ ملا لیا اور وفات تک آپ کے پاس رہا ، آپ کی وصیت کے مطابق آپ کے کفن کے اندر رکھ کے آپ کے ساتھ ہی دفن کیا گیا

💥 اکثر روایات میں ہے کہ آپ اسے قتل کرنے کے بعد اوپر پہاڑ پر جا کر غار میں چھپ گئے ۔ اور مکڑی نے غار کے منہ پر جالا بھی بن دیا ۔ تلاش کنندگان میں سے ایک پانی کا لوٹا اور نعلین ہاتھ میں لیئے اس غار کے پاس آیا بھی ۔ اور پیشاب کرنے لگ پڑا ۔

جناب عبداللہ کہتے ہیں کہ میں ڈر گیا ۔ کچھ اور لوگ بھی ادھر آئے تو اس کے منہ سے نکلا ، ادھر کوئی نہیں ۔

الٹا پانی والا لوٹا اور نعلین یہیں رکھ کر وہ دوسری طرف روانہ ہو گئے ۔

میں نے نکل کر پانی پیا اور نعلین پہن لیئے ۔

دن کو چھپ کر اور رات کو سفر کرتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد شریف میں تھے ۔

اس کے بعد کا ماجرا پہلے بیان ہو چکا ہے ۔

فقیر خالد محمود عرض کرتا ہے کہ

متخصرين کا لغوی معنی ہے پہلو میں لینے والے

محدثین نے اس کا مطلب بتایا ہے کہ

☆ رات کو کثرت عبادت کی تھکاوٹ کی وجہ سے لاٹھی وغیرہ پہلو میں لینے والے ۔

☆ وہ خوش نصیب جن کے مخصوص اعمال بروز قیامت ان کے پہلو بہ پہلو ہوں گے ۔

اور لگے ہاتھوں یہ بھی تو دل و دماغ میں بٹھا لیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، جناب عبداللہ کو اس دنیاوی زندگی میں یہ ضمانت دے رہے ہیں کہ یہ عصا میرے تیرے درمیان نشانی ہے ۔

اس لاٹھی کو سنبھال کر رکھنے کا حکم اللہ تبارک و تعالی کے رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ مطلب کہ آپ کا دست مبارک جس شی کو مس کر لے ، وہ شی عام نہیں رہتی اور اس کی برکت اور فائدہ دونوں جہانوں میں ہے

🔎فوائد تو اور بھی ہیں لیکن طوالت پہلے ہی بہت ہوں چکی ہے

بشکریہ شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب مہتمم ادارہ معارف القران کراچی