أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاخۡتَارَ مُوۡسٰى قَوۡمَهٗ سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا لِّمِيۡقَاتِنَا‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ قَالَ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَـكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّاىَ‌ ؕ اَ تُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا ۚ اِنۡ هِىَ اِلَّا فِتۡنَـتُكَ ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِىۡ مَنۡ تَشَآءُ ‌ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَـنَا وَارۡحَمۡنَا‌ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغَافِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کرلیا تاکہ وہ ہمارے مقرر کردہ وقت پر حاضر ہوں پھر جب ان کو زلزلہ (یا رعد) نے گرفت میں لے لیا تو انہوں نے کہا اے میرے رب ! اگر تو چاہتا تو انہیں اور مجھے اس سے پہلے ہلاک کردیتا ! کیا تو ہم میں سے ان نادانوں کے کاموں کی وجہ سے ہم کو ہلاک کرے گا ! یہ تو تیری صرف آزمائش تھی جس کے ذریعہ تو جس کو چاہے گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے اور جس کو چاہے تو ہدایت عطا فرما دیتا ہے تو ہی ہمارا کارساز ہے سو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا بخشنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کرلیا تاکہ وہ ہمارے مقرر کردہ وقت پر حاضر ہوں پھر جب ان کو زلزلہ (یا رعد) نے گرفت میں لے لیا تو انہوں نے کہا اے میرے رب ! اگر تو چاہتا تو انہیں اور مجھے اس سے پہلے ہلاک کردیتا ! کیا تو ہم میں سے ان نادانوں کے کاموں کی وجہ سے ہم کو ہلاک کرے گا ! یہ تو تیری صرف آزمائش تھی جس کے ذریعہ تو جس کو چاہے گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے اور جس کو چاہے تو ہدایت عطا فرما دیتا ہے تو ہی ہمارا کارساز ہے سو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا بخشنے والا ہے۔ (الاعراف : ١٥٥ ) ۔

ستر اسرائیلیوں کے انتخاب کے سلسلہ میں مختلف روایات :

اس آیت کے شان نزول میں کئی روایات ہیں :

امام عبدالرحمن بن محمد المعروف بابن ابی حاتم المتوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) حضرت ہارون ( علیہ السلام) بشر اور بشیر ایک پہاڑ کی طرف روانہ ہوئے حضرت ہارون ( علیہ السلام) اپنے تخت پر لیٹ گئے اللہ تعالیٰ نے ان پر وفات طاری کردی۔ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) واپس آئے تو بنو اسرائیل نے ان سے پوچھا حضرت ہارون ( علیہ السلام) کہاں ہیں ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی۔ بنو اسرائیل نے کہا آپ نے ان کو قتل کیا ہے آپ ان پر حسد کرتے تھے کیونکہ وہ ہمارے ساتھ بہت نرمی کرتے تھے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا تم تصدیق کے لیے جن کو چاہو منتخب کرلو۔ انہوں نے ستر آدمی منتخب کیے اور جب وہ اس مقررہ وقت پر پہنچے تو انہوں نے حضرت ہارون ( علیہ السلام) سے پوچھا : اے ہارون ! تم کو کس نے قتل کیا ہے ؟ حضرت ہارون نے کہا مجھے کسی نے قتل نہیں کیا لیکن ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ نے مجھے وفات دی ہے۔ تب بنو اسرائیل نے کہا اے موسیٰ ! ہم آئندہ آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے۔

(تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٥‘ ص ١٥٧٣‘ مبطوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ) 

علامہ قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ نے شان نزول میں اسی روایت کا ذکر کیا ہے۔

(الجامع الاحکام القرآن جز ٧‘ ص ٢٦٧‘ مطبوعہ دار الفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

دوسری روایت یہ ہے : امام ابن ابی حاتم اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

علی بن ابی طلحہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفیسر میں فرمایا اللہ عزوجل نے حجرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اپنی قوم میں سے ستر آدمیوں کو منتخب کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو منتخب کیا تاکہ وہ اپنے رب سے دعا کریں اور انہوں نے اللہ عزوجل سے یہ دعا کی اے اللہ ! ہمیں وہ نعتیں عطا فرما جو تو نے ہم سے پہلے کسی کو نہیں دیں اور نہ ہمارے بعد کسی کو وہ نعمتیں دینا۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ دعا ناگوار گزری تب ان کو ایک زلزلہ نے اپنی گرفت میں لے لیا۔ (تفسیر امام ابن حاتم ج ٥‘ ص ١٥٧٤‘ جامع البیان جز ٩‘ ص ٩٩۔ ٩٨‘ مطبوعہ بیروت) 

علامہ ابو الحیان اندلسی المتوفی ٧٥٤ ھ نے ان دونوں روایتوں کا اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔

(البحر المحیط ج ٥‘ ص ١٨٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ ـ‘ امام الحسین بن مسعود الفراء البغوی المتوفی ٥١٦ ھ ‘ حافظ اسماعیل بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ ‘ علامہ آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ اور بہت مفسرین نے امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ کی اس روایت پر اعتماد کیا ہے۔

امام محمد بن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور بچھڑے کی عبادت کرنے پر بنو اسرائیل کو ملامت کی اور بچھڑے کو جلا کر اس کے ذرات کو سمندر میں ڈال دیا۔ پھر حضرت موسیٰ نے اپنی امت میں سے انتہائی نیک افراد جن کی تعداد ستر تھی ‘ سے فرمایا تم میرے ساتھ اللہ سے ملاقات کے لیے چلو اپنی اس گئو سالہ پرستی پر اللہ تعالیٰ سے معذرت کرو۔ جب حضرت موسیٰ ان کو لے کر پہاڑ طور پر گئے تو انہوں نے حضرت موسیٰ جب پہاڑ کے قریب پہنچے تو ایک بادل آیا اور اس نے پورے پہاڑ کو ڈھانپ لیا۔ حضرت موسیٰ اس بادل میں دال ہوگئے اور قوم سے کہا کہ تم قریب آجائو جب حضرت موسیٰ اپنے رب سے ہم کلام ہوتے تو ان کی پیشانی پر بہت چمکدار نور ظاہر ہوتا جس کو دیکھنے کو کوئی انسان تاب نہیں لاسکتا تھا۔ تو وہ اپنی پیشانی پر نقاب ڈال لیتے تھے۔ جب قوم اس بادل سے اندر داخل ہوئی تو سجدہ میں گرگئی۔ حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ سے کلام کر رہتے تھے اور وہ سن رہے تھے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) فارغ ہوئے اور بادل چھٹ گیا تو یہ لوگ حضرت موسیٰ سے کہنے لگے ہم ہرگز اللہ پر ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو بالکل ظاہر عیاں اور بیاں دیکھ نہ لیں ‘ اس وقت ان پر بچجلی کی ایک کڑک آ پڑی اور وہ سب مرگئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور عرض کیا اے اللہ اگر تو چاہتا تو ان کو پہلے ہی ہلاک کردیتا ‘ جب میں اپنی قوم کے پاس جائوں گا تو میرے کیسے تصدیق کریں گے کہ وہ سڑک سے ہلاک ہوگئے اور آئندہ مجھ پر کب اعتماد کریں گے ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مسلسل دعا کرتے رہے ‘ بالا آخر اللہ تعالیٰ نے ان میں روحیں لوٹا دیں۔ پھر بنو اسرائیل نے جو بچھڑے کی پرستش کی تھی اس پر توبہ کی مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب تک کہ یہ ایک دوسرے کو قتل نہیں کریں گے ‘ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہیں فرمائے گا۔

(جامع البیان ج ١‘ ص ٢٣٢ أ ٢٣١‘ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ تفسیر کبیرج ٥‘ ص ٣٧٦‘ معالم التزیل ج ٢‘ ص ١٧٠‘ تفسیرابن کثیر ج ٣‘ روح المعانی جر ٩‘ ص ٧٢‘ تفسیر الیضادی مع الکزرونی ج ٣‘ ٦٣ )

امام ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ ان کو بجلی کی کڑک نے پکڑلیا جس سے وہ مرگئے پھر ان کو زندہ کیا۔ نیز امام ابن ابی حاتم نے سعید بن حیان سے روایت کیا ہے کہ ان ستر اسرائیلیوں کو بجلی کر کڑک نے اس لیے بلاک کیا تھا کہ انہوں نے بچھڑے کی عبادت کا حکم دیا تھا نہ اس سے منع کیا تھا۔

(تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٥‘ ص ١٥٧٥‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ) 

سورۃ بقرہ میں الصاعقہ اور سورة الاعراف میں الرجفہ فرمانے کی توجیہ 

سورة البقرہ میں فرمایا تھا ان کو ” الصاعقہ “ نے پکڑ لیا (البقرہ : ٥٥) اور اس سورت میں فرمایا ہے ان کو ” الرجفہ “ نے پکڑ لیا۔ الصاعقہ کے معنی ہیں رعد یا بجلی کی کڑک اور الرجفہ کے معنی ہیں زلزلہ۔ علامہ بیضاوی اور علامہ آلو سی نے لکھا ہے اس سے مراد الصاعقہ ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بجلی اس زور سے کڑکی ہو کہ پہاڑ میں زلزلہ آگیا ہو اس لیے ایک جگہ اس کو الصاعقہ سے تعبیر فرمایا اور دوسری جگہ الرجفہ سے۔

علامہ ابوالحسن الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں :

کلبی نے کہا اس سے مراد زلزلہ ہے۔ مجاہد نے کہا اس سے مراد موت ہے۔ وہ سب مرگئے تھے پھر ان کو زندہ کیا۔ فراء نے کہا وہ ایک آگ تھی جس نے ان جو جلا ڈالا تھا۔ حضرت موسیٰ کا یہ گمان تھا کہ یہ ہلاک ہوگئے ہیں لیکن وہ ہلاک نہیں ہوئے تھے۔ 

(النکت و العیون ج ‘ ص ٢٦٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

علامہ عبدالرحمن بن علی بن محمد الجوزی المتوفی ٥٩٧ لکھتے ہیں :

الرجفہ سے مراد ہے حرکت شدید اور ان کو حرکت شدیدہ نے جو اپنی گرفت میں لیا تھا اس کے سبب کے متعلق چار قول ہیں 

١۔ حضرت علی ص نے فرمایا انہوں نے حضرت موسیٰ علہت السلام پر حضرت ہاروں (علیہ السلام) کے قتل کا الزام لگایا تھا۔ 

٢۔ ابن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا کہ انہوں نے دعا میں حد سے تجاوز کیا تھا ‘ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی نعمت مانگی تھی جو پہلے کسی کو ملی ہو نہ آئندہ ملے۔

٣۔ قتادہ اور ابن حریج نے کہا یہ لوگ نیکی کا حکم دیتے تھے نہ برائے سے روکتے تھے۔

٤۔ سدی اور ابن اسحاق نے کہا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو سننے کا مطالبہ کیا اور اللہ کا کلام سننے کے بعد کہا ہم اس کو دیکھے بغیر اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ (زاد المسیرج ٣‘ ص ٢٦٩‘ مطبوعہ المکتب السلامی بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ ستر اسرائیلوں کی وجہ سے ان کو ہلاکت میں مبتلا کرے گا ؟

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کو دعا نقل فرمائی : کیا تو ہم میں سے ان نادانوں کے کاموں کی وجہ سے ہم کو ہلاک کرے گا ؟ اس جگہ یہ سوال ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے جرم کی سزا دوسرے کو نہیں دیتا۔ قرآن مجید میں ہے :

ولا تیزو وازرۃ وزر اخری (الذمر : ٧)

اور کوئی بوجھ اٹھانے وال کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے 

تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے متعلق کیسے یہ گمان کرلیا کہ اللہ تعالیٰ ان ستر اسرائیلوں کے قصور کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہلاکت میں مبتلا کرے گا۔ امام رازی اس اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ استفہام نفی کے معنی میں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا جیسے کہتے ہیں : کیا تم اپنی خدمت کرنے والے کی بےعزتی کرو گے ! یعنی تم ایسا نہیں کرو گے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قول کا معنی یہ ہے کہ تو ہم کو ہلاکت میں نہیں ڈالے گا۔ (تفسیر کبیر ج ٥‘ ص ٣٧٧)

اس اعتراض کا یہ جواب بھی نہیں دیا جاسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ گمان نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں کسی پیریشانی میں مبتلا کرے گا۔ یہ وپنے اس کلام سے ان ستر اسرائیلوں کو شفاعت کرنا چاہتے تھے جو اپنی نادانی اور حماقت کی وجہ سے رعد کی کڑک میں مبتلا ہو کر مارے گئے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنی ذات کو درمیان میں ڈالا کہ یہ تو قصور وار ہیں لیکن اگر ان کی سزا برقرار رکھی گئی تو میں پریشانی میں مبتلا ہوں گا اور بنو اسرائیل انکے متعلق مجھ سے سوال کریں گے سو تو مہربانی فرما اور میری خاطر ان کو زندہ کردے۔

اللہ کے معاف کرنے اور مخلوق کے معاف کرنے میں فرق 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا میں کہا تو سب سے اچھا بخشنے والا ہے کیونکہ مخلوقات میں سیجب کوئی کسی کو بخشتا ہے تو یا تو دنیا میں اس سے اپنی تعریف و توصیف کا طالب ہوتا ہے یا آخرت میں ثواب کا طلب گار ہوتا ہے یا معافی مانگنے والے کے حال کو دیکھ کر اس کے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے۔ دل سے اس رقت کو زائل کرنے کے لیے وہ معاف کردیتا ہے یا یہ نیت ہوتی ہے کہ آج میں اس کو معاف کروں گا تو کل مجھے معاف کردے گا۔ یاماضی میں کبھی اس نے اس کو معاف کیا ہو تو اس کا احسان چکانے کے لیے وہ اس کو معافت کردیتا ہے۔ غرض معاف کرنے سے مخلوق کی کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے اور بےغرض اور بلا عوض معاف کرنے والا صرف اللہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 155