أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِهَا وَاٰمَنُوۡۤا اِنَّ رَبَّكَ مِنۡۢ بَعۡدِهَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

جن لوگوں نے برے عمل کیے پھر بداعمالیوں کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے (تو) آپ کا رب اس کے بعد ضرور بہت بخشنے والا مہربان ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جن لوگوں نے برے عمل کیے پھر بداعمالیوں کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے (تو) آپ کا رب اس کے بعد ضرور بہت بخشنے والا مہربان ہے۔ (الاعراف : ١٥٣ ) ۔

توبہ کی حقیقت اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا عموم اور شمول :

اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے برے عمل کیے پہلے وہ ان پر توبہ کرے بایں طور کہ ان برے اعمال پر نادم ہو اور ان سے رجوع کرے اور آئندہ ان برے کاموں کو نہ کرنے کا عزم صمیم کرے اور ان کا تدارک اور تلافی کرے مثلاً جو نمازیں اور روزے رہ گئے ہیں ان کو قضا کرے۔ اگر کسی کا مال غضب کیا تھا تو اس کو واپس کرے پھر کلمہ پڑھے اور یہ تصدیق کرے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا اور اس پر رحم فرمائے گا۔

اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ تو بہ سے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں تو جو شخص اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرے وہ اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا مہربان پائے گا اس آیت میں گنہ گاروں کے لیے بہت بڑی بشارت ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے بندہ نے گناہ کی پھر کہا اے اللہ ! میرے گناہ کو بخش دے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا میرے بندہ نے گناہ کیا اور اس کو علم تھا کہ اس کا رب گناہ کو بخشتا بھی ہے اور گناہ پر گرفت بھی فرماتا ہے۔ اس نے پھر دوبارہ گناہ کیا اس کے بعد کہا اے میرے رب میرے بناہ کو بخش دے۔ پس اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا میرے بندہ نے گناہ کیا اور اس کو علم تھا کہ اس کا رب گناہ کو بخشتا بھی ہے اور گناہ پر گرفت بھی فرماتا ہے۔ اس نے پھر سہ بارہ گناہ کیا اور کہا اے میرے رب میرے گناہ کو بخش دے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا میرے بندہ نے گناہ کیا اور اس کو علم تھا کہ اس کا رب گناہ کو بخشتا بھی ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے (اے میرے بندے) تو جو عمل چاہے کر میں نے تجھ کو بخش دیا۔

(صحیح مسلم التوبہ ٢٩ (٢٧٥٨) ٥٨٥٢ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٥٠٧ مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٦ مسند احمد ج ٢ ص ٤٠٥ جامع الاصول ج ٨ رقم الحدیث : ٥٨٧٦) ۔

علامہ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی المالکی المتوفی ٦٥٦ لکھتے ہیں :

یہ حدیث استغفار کے عظیم فائدہ پر دلالت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل عظیم اس کی وسعت اس کی رحمت اس کے حلم اور اس کے کرم پر دلالت کرتی ہے اور اس حدیث میں استغفار سے یہ مراد نہیں ہے کہ انسان صرف زبان سے استغفار اور توبہ کرے بلکہ استغفار کا وہ معنی مراد ہے جو دل میں پیوست ہو جس سے گناہ اصرار کی گرہ کھل جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے پچھلے گناہوں پر نادم ہو۔ اس صورت میں استغفار اس کی توبہ کا ترجمان ہوگا حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو فتنہ میں مبتلا ہو اور بہت توبہ کرنے والا ہو۔ (شعب الایمان ج ٥ رقم الحدیث : ٧١٢١ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس سے بار بار گنہا صادر ہو اور وہ بار بار توبہ کرے اور جب وہ گناہ کرے تو وہ توبہ کرے لیکن جو ژخص صرف زبان سے استغفر اللہ کہتا ہے اور اس کا دل گناہ کرنے پر مصر ہوتا ہے تو اس کا ایسا استغفار بجائے خود استغفار کا محتاج ہے۔ اور ایسی زبانی توبہ سے صدق دل سے توبہ کرنی چاہیے کہ آئندہ وہ ایسی زبانی اور بےمغز توبہ نہیں کرے گا۔ اور صغیرہ گناہ کبیرہ گناہ کے ساتھ لاحق ہوجاتا ہے اور جب کسی صغیرہ گناہ پر اصرار کرے تو وہ صغیرہ نہیں رہتا کبیرہ ہوجاتا ہے اور جب کسی کبیرہ گناہ پر استغفار کرے تو وہ ختم ہوجاتا ہے۔ اس حدیث کا فائدہ یہ ہے کہ دوبارہ گناہ کرنا اگرچہ پہلی بار گناہ کرنے سے زیادہ قبیح ہے کیونکہ دوبارہ گناہ کرکے وہ خود اپنی توبہ توڑ رہا ہے لیکن جب وہ دوبارہ زیادہ گڑگڑا کر توبہ کرے گا اور کریم کے دروازہ پر فریاد کرے گا تو پہلی توبہ سے احسن ہے کیونکہ وہ اس یقین سے توبہ کررہا ہے کہ اس کے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے۔

اس حدیث کے آخر میں ارشاد ہے جو مرضی آئے کر میں نے تجھ کر بخش دیا ہے۔ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ اس کو اب گناہ کرنے کی عام اجازت اور کھلی چھٹی ہے۔ بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے اور آئندہ کے لیے اس کو گناہوں سے محفوظ کردیا ہے یا یہ کہ اگر اس سے پھر گناہ سرزد ہوگئے تو اللہ تعالیٰ اس کو مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق دے دے گا۔ اس کا یہ معنی بھی ہے جب تک تم گناہوں پر توبہ کرتے رہو گے میں تم کو بخشتا رہوں گا۔

(المعصم ج ٧ ص ٨٦۔ ٨٥ مطبوعہ دارابن کثیر بیروت ١٤١٧ ھ)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں۔

اس حدیث میں اس پر ظاہر دلالت ہے کہ اگر انسان سو مرتبہ یا ہزار مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ بار گناہ کا تکرار کرے اور ہر بار توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہوگی اور اس کے گناہ ساقط ہوجائیں گے اور اگر تمام گناہوں سے ایک بار ہی توبہ کرے تو اس کی تو بہ صحیح ہے اور یہ جو فرمایا ہے جو مرضی آئے کرو اس کا معنی یہ ہے کہ جب تک تم گناہوں پر توبہ کرتے رہوگے میں تم کو بخشتا رہوں گا۔

(صحیح مسلم مع شرحہ للنووی ج ١١ ص ٦٨٨٢۔ ٦٨٨١ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ١٤١٧ ھ)

اللہ تعالیٰ کے عفو و مغفرت کی وسعت اور اس کے رحم و کرم کے عموم وشمول میں بہت احادیث ہیں ہم یہاں پر صرف ایک حدیث اور پیش کررہے ہیں۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ اے ابن آدم ( علیہ السلام) ! تو نے مجھ سے دعا کی اور دعا قبول ہونے کی امید رکھی میں نے تیری پچھلی سب خطائیں بخش دیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اے ابن آدم ( علیہ السلام) ! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں کو پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے استغفار کرے تو میں تجھے کو بخش دوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اے ابن آدم ( علیہ السلام) ! اگر تو تمام روئے زمین کے برابر بھی گناہ کرکے آئے بہ شرطی کہ تو نے میرے ساتھ شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس تمام روئے زمن جتنی مغفرت لے کر آئوں گا۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث ٣٥٤٧ جامع الاصول ج ٨ رقم الحدیث ٥٨٧٧)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 153