أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ‌ۖ وَفِىۡ نُسۡخَتِهَا هُدًى وَّرَحۡمَةٌ لِّـلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا تو انہوں نے (تورات کی) تختیاں اٹھالیں جن کی تحریر میں ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا تو انہوں نے (تورات کی) تختیاں اٹھالیں جن کی تحریر میں ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ (الاعراف : ١٥٤ ) ۔

حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا اپنے غصہ کی تلافی کرنا :

حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے جب یہ جان لیا کہ بھائی حضرت ہارون ( علیہ السلام) سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی تھی اور ان کا عذر صحیح تھا تو انہوں نے تورات کی جو تختیاں ڈالی تھیں وہ اٹھالیں اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کے لیے دعا کی۔ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو غصہ آیا تھا اس وقت بھی انہوں نے غصہ میں دو کام کیے تھے۔ تورات کی تختیاں زمین پر ڈال دی تھیں اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو سر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔ اور جب غصہ ٹھنڈا ہوگیا تب بھی انہوں نے اس کی تلافی میں دو کام کیے۔ تورات کی تختیاں زمین سے اٹھالیں اور اپنے بھائی کے لیے دعا کی۔

تورات کی تختیاں ٹوٹی تھیں یا نہیں :

امام رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے لکھا ہے الالواح سے مراد وہی الواح ہیں جو انہوں نے ڈالیں تھیں۔ (گویا الف لام عہد خارجی کا ہے) اور اس میں یہ ظاہر دلیل ہے کہ ان تختیوں میں سے کوئی تختی ٹوٹی تھی نہ باطل ہوئی تھی اور وہ جو بعض روایات میں ہے کہ تورات کے سات اجزاء میں چھ اجزا اٹھا لیے گئے تھے اور صرف ایک جز باقی رہ گیا تھا وہ صحیح نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا کہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے وہ تختیاں زمین پر ڈالیں تو وہ ٹوٹ گئیں۔ پھر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے چالیس دن روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ نے ان تختیوں کو لوٹادیا اور ان میں بعینہ وہ سب کچھ مذکور تھا جو پہلی تختیوں میں تھا اس تقدیر پر وفی نسختھا کا معنی یہ ہوگا اس میں جو کچھ لکھا ہوا تھا وہ ہدایت اور رحمت تھی اور اگر ہم یہ کہیں کہ وہ تختیاں ٹوٹی نہیں تھیں اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے تختیاں ڈالنے کے بعد بعینہ ان ہی تختیوں کو اٹھا لیا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی تھیں اور اب بھی فی نسخہ تھا کا یہی معنی ہوگا کہ اس کی تحریر میں ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ (تفسیر کبیرج ٥ ص ٣٧٤ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ) ۔

اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے اس میں نیک کاموں کی ہدایت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے طریقوں اور صالح حیات کے لیے اس میں مکمل دستور العمل ہے اور اگر اس میں کوئی کوتاہی ہوجائے تو پھر اللہ تعالیٰ سے توبہ کرنے والوں کے لیے رحمت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 154