کس کو مسجد میں آنے سے روکا اورنکالا جائے گا ؟

مسئلہ: جو شخص موذی ہو کہ نمازیوں کو تکلیف دیتاہے یا برا بھلا کہتا ہے اور شریر ہے ۔ اس سے شر کا اندیشہ رہتا ہے تو ایسے شخص کو مسجد میں آنے سے منع کرنا جائز ہے ۔ اور اگر کوئی گمراہ اور بدمذہب مثلاً وہابی ، رافضی ، غیر مقلد ، نیچری ، ندوی ، تفضیلی وغیرہ مسجد میں آکر نمازیوںکو بہکاتا ہے اوراپنے ناپاک مذہب کی طرف بلاتا ہے تو اسے منع کرنا اور مسجد میں آنے سے روکنا واجب ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۵۸۲)

مسئلہ: دفع فتنہ و فساد بقدر قدرت فرض ہے ۔ اور مفسدوں موذیوں کو بشرط استطاعت مسجد سے روکا جائے گا ۔ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری شریف اور درمختار شریف میں ہے کہ ’’ و یمنع کل موذ ولو بلسانہ ‘‘ ترجمہ :-’’ مسجد سے ہر موذی کو روکا جائے گا اگرچہ وہ اپنی زبان سے ایذا پہنچاتا ہو۔‘‘ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۵۸۳)

مسئلہ: جو شخص مسجد میں آکرا پنی زبان سے لوگوں کو ایذا دیتا ہو، اس کو مسجد سے نکالنا بلکہ ہر موذی کو مسجد سے نکالنا بشرط استطاعت واجب ہے ۔ اگرچہ وہ صرف اپنی زبان سے ایذا دیتا ہو خصوصاً وہ جس کی ایذا مسلمانوں میں بدمذہبی پھیلانا اور لوگوں کو گمراہ کرنا ہو۔ ( عمدۃ القاری ، درمختار ، ردالمحتار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۶ ، ص ۱۰۹، ص ۴۳۳ ، ص ۴۴۷)

مسئلہ: بلا وجہ کسی سنی مسلمان کو مسجد میں آنے سے منع کرنا حرام ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۵۸۳)