یاالٰہی ایسی مائیں پھر عطا کر دے!

از: افتخار الحسن رضوی

زمانہ امن ہو یا حالت جنگ، مسلمان خواتین کبھی بھی بزدل نہ تھیں، محاذ جنگ پر خوراک کی فراہمی، اسلحہ کی مرمت و دیکھ بھال، زخمیوں کی عیادت و طبی امداد جیسے اہم کام اسلام کی بیٹیوں نے کر رکھے ہیں۔ یہ سب کچھ دولت ایمان کی برکت و حرارت سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ اسلام مخالف قوتوں کے مقاصد مادی ہوتے ہیں جب کہ اسلام کی صفوں میں موجود یہ عصمت والی خواتین کے دل میں رضائے الٰہی اور محبت رسول کریم ﷺ کے جذبات موجود ہیں، یہی جذبات انہیں دلیر و نڈر بناتے ہیں۔ اگر اس دور میں مسلمان بیٹیاں کسی بھی دینی، سیاسی، معاشرتی یا تعلیمی محاذ پر درست انداز میں جدو جہد کر رہی ہیں ہے تو یہ ہماری روحانی ماؤں کی تربیت کا اثر ہے۔ اس کے برعکس جن ماؤں کو شریعت اسلامیہ میں سختی، تشدد، منافرت اور مشکلات نظر آتی ہیں انہیں اپنی نرسری تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ علامہ عبد المصطفٰی اعظمی علیہ الرحمہ نے سیرۃ النبی ﷺ پر اپنی معروف کتاب ” سیرت مصطفٰیﷺ” میں ایک انتہائی ایمان افروز واقعہ نقل کیا ہے، ہماری مسلمان مائیں، بہنیں اور بیٹیاں یہ واقعہ پڑھ کر ایمان تازہ کریں؛

حضرت بی بی اُمِّ عَمارہ جن کا نام نسیبہ ہے جنگِ اُحد میں اپنے شوہر حضرت زید بن عاصِم اور دو۲فَرْزَند حضرت عمّارہ اور حضرت عبداللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو ساتھ لے کر آئی تھیں۔ پہلے تو یہ مُجاہِدین کو پانی پلاتی رہیں لیکن جب حُضُور ﷺ پر کفّار کی یَلْغَار کا ہوش رُبا مَنْظَر دیکھا تو مَشْک کو پھینک دیا اور ایک خنجر لے کر کُفّار کے مُقَابَلَہ میں سینہ سِپَر ہو کر کھڑی ہو گئیں اور کُفّار کے تیر و تلوار کے ہر ایک وار کو روکتی رہیں۔ چنانچہ ان کے سر اور گردن پر 13 زَخْم لگے۔اِبْنِ قَمِیْئَہ مَلْعُون نے جب حُضُور رِسَالَت مآب ﷺ پر تَلوار چلا دی تو بی بی اُمِ عمّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے آگے بڑھ کراپنے بدن پر روکا۔ جس سے ان کے کندھے پر اتنا گہرا زَخْم آیا کہ غار پڑگیا،پھر خود بڑھ کر اِبْنِ قَمِیْئَہ کے شانے پر زور دار تلوار ماری لیکن وہ مَلْعُون دوہری زِرہ پہنے ہوئے تھا اس لیے بچ گیا۔

حضرت بی بی اُمِّ عمّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے فَرْزَند حضرت عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک کافِر نے زَخْمی کر دیا اور میرے زَخْم سے خُون بند نہیں ہوتا تھا۔ میری والِدہ حضرت اُمِّ عمّارہ نے فوراً اپنا کپڑا پھاڑ کر زَخْم کو باندھ دیا اور کہا کہ بیٹا اُٹھو، کھڑے ہو جاؤ اور پھر جِہاد میں مَشْغُول ہو جاؤ۔ اِتّفاق سے وُہی کافِر حُضور ﷺ کے سامنے آگیا تو آپ نے فرمایا کہ اے اُمِّ عمّارہ!دیکھ تیرے بیٹے کو زَخْمی کرنے والا یہی ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت بی بی اُمِّ عمّارہ نے جھپٹ کر اس کافِر کی ٹانگ پر تلوار کا ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ وہ کافِر گِر پڑا اور پھر چل نہ سکا بلکہ سُرین کے بل گھسٹتا ہوا بھاگا۔یہ مَنْظَر دیکھ کر حُضور ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا کہ اے اُمِّ عمّارہ!تو خُدا کا شُکْر ادا کر کہ اس نے تجھ کو اتنی طَاقَت اور ہِمَّت عَطا فرمائی کہ تو نے خُدا کی راہ میں جِہاد کیا، حضرت بی بی اُمِّ عمّارہ نے عَرْض کیا ؛

“یارسول اللہ ﷺ ! دُعا فرمائیے کہ ہم لوگوں کو جنّت میں آپ کی خِدْمَت گزاری کا شَرَف حاصِل ہو جائے۔ اس وَقْت آپ نے ان کے لیے اور ان کے شوہَر اور ان کے بیٹوں کے لیے اس طرح دُعا فرمائی:

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھُمْ رُفَقَائِیْ فِی الْـجَنَّةِ۔

یا اللہ!ان سب کو جنّت میں میرا رفیق بنا دے۔

حضرت بی بی اُمِّ عمّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا زِنْدَگی بھر عَلانیہ یہ کہتی رہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اس دُعا کے بعد دنیا میں بڑی سے بڑی مصیبت بھی مجھ پر آجائے تو مجھے اس کی کوئی پَروا نہیں ہے۔

كتبه: إفتخار الحسن رضوي