*احتجاجی تشدد پر دوہرا سلوک کیوں؟*

غلام مصطفےٰ نعیمی

ایڈیٹر سواد اعظم دہلی

gmnaimi@gmail.com

حقوق انسانی کے عالمی منشور میں حقوق اقلیت(Rights of minorities) میں اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ،

“سارے انسان وقار اور حقوق میں برابر ہیں.”

ہمارے ملک میں بھی دستور ہند کے بنیادی حقوق کے تحت اقلیتوں کے مذہب،زبان اور نسل وتعلیم کی حفاظت برابری کا اعلان کیا گیا ہے. قانون کی رو سے حکومت کسی بھی طرح کا امتیاز نہیں کر سکتی.اسی لئے ملک کے حکمران ہوں یا عہدے داران، دستور(constitution)

پر حلف اور دستور کی حفاظت کا عہد لیتے ہیں.لیکن آزادی کے بعد سے ہی ملک میں نفاذِ قانون پر دوہرا معیار اپنایا گیا. قوانین کا اطلاق اقلیت واکثریت کے پیمانے پر ہوتا رہا. یہاں تک کہ اقلیتیں اور خصوصاً مسلمان ہر میدان میں اسی امتیازی تفریق کا شکار ہوتے رہے نوبت یہاں تک آگئی کہ اب حکومتی اہلکار کھلے عام ظلم وزیادتی پر اتر آئے ہیں.حالیہ وقت میں متنازعہ شہریت قانون سی اے اے (CAA) کے خلاف ملک کی عوام نے بلا تفریق مذہب احتجاج کیا. احتجاجی دائرہ جب مسلم اکثریتی علاقوں میں پہنچا تو کئی احتجاجی مظاہرے پر تشدد ہوگئے. جس میں جان ومال کے ضیاع کے ساتھ عوامی املاک کا بھی نقصان ہوا.

یہ بات بھی نوٹ کئے جانے لائق ہے کہ جن صوبوں میں غیر بی جے پی پارٹیاں بر سرِ اقتدار ہیں وہاں لاکھوں افراد کے مظاہرے بھی پر امن اور تشدد سے پاک رہے لیکن بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں محض سو دو سو افراد کے مظاہرے بھی تشدد کی زد میں آگئے.پر تشدد مظاہروں میں اتر پردیش سرِ فہرست ہے. صوبے کے دارالحکومت لکھنؤ سمیت سنبھل، نہٹور(بجنور) مظفر نگر، رامپور ، امروہہ ، ہاپوڑ ، علی گڑھ ، میرٹھ ، کانپور وغیرہ میں جم کر تشدد ہوا. اسی تشدد کا سہارا لیکر پولیس انتظامیہ نے کھل پر مذہبی تعصب اور مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مظاہرین پر گولیاں چلائیں جس کے باعث قریب 20 افراد شہید ہوگئے. ظلم پر ظلم یہ کہ مسلمانوں پر ہی دنگا وفساد کے مقدمہ دائر کرکے ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا. اب انہیں مظلوموں پر عوامی املاک کی بربادی کا الزام لگا کر ہرجانہ وصولی کے نوٹس جاری کئے جارہے ہیں.

*چند بڑے احتجاجی تشدد*

بھارت میں احتجاجی مظاہروں کا پر تشدد ہوجانا کوئی نئی بات نہیں ہے. بلکہ بھارت کی کچھ قوموں کے احتجاج کا مطلب تشدد اور لوٹ مار ہی ہوتا ہے. لیکن چونکہ اُن سب مظاہرین کا تعلق ہندو قوم سے ہوتا ہے اِس لئے لاکھوں کروڑوں کا نقصان اور پولیس کا جَم کر پِٹنا بھی میٹھی گولی کی طرح ہضم کر لیا جاتا ہے.لیکن اگر مظاہرین مسلمان ہوں تو یہی پِٹی ہوئی پولیس ایک دم سے بہادر ہوجاتی ہے. ایک نظر پچھلے چند سالوں کے احتجاجی مظاہروں پر ڈالتے ہیں تاکہ موجودہ احتجاجی تشدد پر واویلا مچانے والوں کا اصلی چہرہ سامنے آسکے !!

🔸مئی 2015ء میں راجستھان کی گوجر برادری نے رِیزَرویشن کی مانگ کو لیکر احتجاج شروع کیا. ان مظاہرین نے ریلوے ٹریک اور بس اڈوں پر سات دنوں تک قبضہ جمائے رکھا.208 ٹرینیں رد کی گئی 141 ٹرینوں کے روٹ بدلے گئے. جس کے باعث قریب 200 کروڑ کا نقصان ہوا.

🔸فروری 2016ء میں ہریانہ کے جاٹوں نے ریزرویشن کو لیکر احجاج شروع کیا. امیدوں کے مطابق احتجاج تشدد میں بدل گیا.

🔸7 ریلوے اسٹیشنوں کو تباہ کردیا گیا، جس کے باعث 800 ٹرینیں رد کرنا پڑیں.

🔹کئی بس اڈوں اور سرکاری دفتروں میں آگ لگادی گئی. سڑکوں کو کھود کر گڈھے بنا دئے گئے.

🔹1000 سے زیادہ گاڑیاں 500 سے زائد دکانیں نذر آتش کردی گئیں. کئی شاپنگ مالس میں آگ لگائی گئ.

🔸بھارت پاکستان کے مابین چلنے والی سمجھوتا ایکسپریس کو روکا گیا.

🔹سونی پت میں مال گاڑی میں آگ لگائی گئی.

🔸جیند میں سابق وزیر ستیہ ناراین کے ساتھ مارپیٹ کی گئی.

🔹گنور ایس ڈی ایم (SDM) کی گاڑی کو آگ لگائی گئی.

🔸دہلی کو پانی سپلائی کرنے والی منف نہر کو بند کردیا گیا. جسے آرمی نے جاکر کھلوایا.

🔹مسافروں کے ساتھ لوٹ مار اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی تک واقعات ہوئے لیکن حکومت وانتظامیہ کانوں میں تیل ڈالے سوتی رہی.

🔹رام رجیم نامی بابا کو زنا وقتل کیس میں سزا سناتے ہی ڈیرا بھکتوں کے احتجاج میں جم کر بوال ہوا.

🔸آج تک اور ٹائمز ناؤ نیوز چینل کی اوبی وین پھونک دی گئیں.

🔹پنجاب کے مانسا اور ملوٹ ریلوے اسٹیشن پر آگ لگا دی گئی جس کے باعث فیروزپور ڈویژن کی 124 ٹرینیں رد ہوئیں.

🔸فاضلکا اسٹیشن پنجاب میں فیروزپور ڈپو کی بس کو نذر آتش کیا گیا.

🔹سَنگرُور میں بجلی گھر کو ہی آگ لگا دی گئی.

🔸پَنچکُولہ ہریانہ میں 100 سے زیادہ گاڑیوں میں آگ لگا دی گئی.

*ذرا سوچیں !!*

*ہفتے بھر تک گوجر مظاہرین ریلوے اسٹیشن اور بس اڈوں پر اودھم مچاتے رہے.*

*9 دنوں تک جاٹ قوم کے فساد و آگ زنی کے واقعات میں قریب 34 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا. اس احتجاجی تشدد کے نقصان کی بھرپائی کے لئے ہریانہ حکومت نے “نیشنل ڈجاسٹر مینج مینٹ اتھارٹی”(NDMA)سے ایک ہزار کروڑ روپے کی امداد مانگی تاکہ عوامی املاک کی مرمت و تعمیر کرائی جاسکے.*

*رام رجیم کے ڈیرا بھکتوں نے ہفتوں تک سڑکوں پر تشدد مچایا.*

*ہفتوں تک عوامی نقل وحمل بند رہی ، سڑکوں کو کھودا گیا، اسٹیشنوں کو تباہ کیا گیا لیکن حکومت اور پولیس والوں کی ہمت نہیں ہوئی کہ مظاہرین کو قانون کی طاقت کا احساس کراتے لیکن یہ پولیس مسلمانوں کو دیکھتے ہی گولی بندوق سے بات کرتی ہے.اس پولیس کی بندوق اور ہمت نہتھے مسلمانوں پر کام کرتی ہے. حالانکہ اُس وقت ہریانہ وراجستھان اسی بی جے پی کی حکومت تھی مگر تب بی جے پی کو اپنا فرض،اور عوامی املاک کی تباہی کا خیال نہیں آیا !!*

لیکن یوپی اور دہلی میں اسی بی جے پی کے اشاروں پر پولیس کا انتہائی ظالمانہ چہرہ سامنے آیا. جس کے لئے تاریخ کبھی نہیں کرے گی.

*تشدد کی وجوہات اور پولیس کی سفاکیت*

آئین کی دفعہ(1)19 کے تحت حکومت کے کسی بھی قانون سے عدم رضامندی کا اظہار ہر بھارتی شہری کا آئینی اور بنیادی حق ہے. اس کا جمہوری طریقہ احتجاجی مظاہرہ بھی ہے. سی اے اے(CAA) مخالف مظاہرین میں عدم اعتماد اس وقت پیدا ہوا جب پولیس نے قریب تمام ہی اضلاع میں دفعہ 144 لگا کر ہر قسم کے احتجاج پر پابندی عائد کردی. جس کے باعث عوامی غصہ مزید بڑھ گیا. اس کے علاوہ کچھ اسباب یہ ہیں:

🔹احتجاجی جلوسوں کو جابجا روک کر پولیس اہلکاروں نے نہایت سخت زبانی اور بدکلامی کا مظاہرہ کیا،نتیجتاً مظاہرین اور پولیس میں ٹکراؤ ہوا.

🔸پر امن جلوسوں میں بعض ایسے اجنبی افراد بھی مظاہرین میں داخل ہوئے جنہوں نے تشدد کا آغاز کیا. ایک وائرل ویڈیو میں بی جے پی کے جھنڈے والی گاڑی سے مظاہرین پر پتھراؤ کیا گیا.جس سے مظاہرین بھڑک گئے.

🔸اکثر مقامات پر پولیس نے مظاہرین سے ذرا بھی انسانی لب و لہجہ میں بات نہیں کی بلکہ بدکلامی کرتے ہوئے “مقدمہ کرنے اور ہاتھ پیر توڑ دینے” جیسی غیر دستوری زبان استعمال کی. انہیں وجوہات کی بنا پر بعض مقام پر عوام بھی مشتعل ہوگئی. پولیس چاہتی تو بغیر نقصان پہنچائے بھی مظاہرین کو روک سکتی تھی لیکن نِہتھے اور کمزور مسلمانوں کو دیکھ کر پولیس نے سیدھا لاٹھی چارج، آنسو گیس اور گولیوں کا استعمال کیا. اب اس بہادر پولیس نے 498 لوگوں کو نامزد کرکے قریب 74 لاکھ روپے کی ریکوری کے نوٹس بھیجے ہیں.

ایک طرف جاٹوں کے تشدد میں 34 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا لیکن ہریانہ کی بی جے پی حکومت اور بہادر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی لیکن مسلمانوں کے سامنے آتے ہی حکومت وپولیس کو قانون قاعدے بھی یاد آگئے اور نہتھے مسلمانوں پر بہادری دکھانے کا جذبہ بھی واپس آگیا.پولیس کی سفاکیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ صرف مظفر نگر میں پولیس نے قریب 30 گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور قریب 50 سی سی ٹی وی(cctv) کیمرے توڑ دئے.

اب پولیس عوامی املاک کی بربادی کے لئے مظاہرین سے ہرجانہ وصول کرنا چاہتی ہے. لیکن جن مکانوں میں پولیس نے توڑ پھوڑ کی ہے ان کا ہرجانہ کون دے گا؟

جو لوگ پولیس کی گولیوں سے مارے گئے ہیں ان کے اہل خانہ کی تسلی کون کرے گا؟

آخر cctv کیمرے کس لئے توڑے گئے. کیا کیمروں میں اپنی کرتوتوں کے ریکارڈ ہونے کا ڈر تھا؟ کہانی تو کچھ یونہی دکھائی دے رہی ہے مگر انصاف پسند لوگوں کے لیے وہ ویڈیوز ہی کافی ہیں جو پبلک میں وائرل ہوئے ہیں، بس اب ضرورت یہ ہے کہ قوم مسلم(یا وہ مظلوم جن کے ساتھ یہ ہوا ہے) انکو محفوظ رکھیں اور کورٹ جانے کی تیاری کریں، اگر دوچار پولیس والوں کو ہی جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے اشاروں پر چلنے والی پولیس کو آدھا مفلوج کردیا، اگر اتنا نہ ہو تو کم از کم جب تک کیس کی سماعت ہورہی ہے ملازمت سے فارغ کردیے جائیں یہ بھی انکے لئے موت سے کم نہ ہوگا. ان ویڈیوز کو ان تحریکوں تک پہنچائیں جو ان معاملات میں پیش پیش ہیں، امید کا دامن تھامے رہیں کیونکہ

ان اندھیروں کا جگر چیر کے نور آئے گا

یہ ہیں فرعون تو موسی بھی ضرور آئے گا

3 جمادی الاول 1441ھ

30 دسمبر 2019 بروز پیر