عجمى اسرائیل

کادیانی گروہ،پیروان مرزا غلام قادیانی ۔ 🇬🇧🎚⚫🇮🇱

10 ستمبر 1974ء کو ڈاکٹر سام (عبدالسلام )نے وزیراعظم کے سائنسی مشیر کی حیثیت سے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو شهيد رحمةالله عليه کے سامنے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ اس کی وجه اس نے اس طرح بیان کی: ’’آپ جانتے ہیں کہ میں احمدیه (قادیانی ،ميرزائی،لاهورى) فرقے کا ایک رکن ہوں۔ حال ہی میں قومی اسمبلی نے احمدیوں کے متعلق جو آئینی ترمیم منظور کی ہے، مجھے اس سے زبردست اختلاف ہے۔ کسی کے خلاف کفر کا فتویٰ دینا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ “کوئی شخص خالق اور مخلوق کے تعلق میں مداخلت نہیں کر سکتا”۔ میں قومی اسمبلی کے فیصله کو ہرگز تسلیم نہیں کرتا لیکن اب جبکه یہ فیصله ہو چکا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے تو میرے لیے بہتر یہی ہے کہ میں اس حکومت سے قطع تعلق کر لوں جس نے ایسا قانون منظور کیا ہے۔ اب میرا ایسے ملک کے ساتھ تعلق واجبی سا ہوگا جہاں میرے فرقه کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو۔‘‘ ۔ فروری 1987ء میں ڈاکٹر سلام نے امریکی سینٹ کے ارکان کو ایک چٹھی لکھی کہ ’’آپ پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور اقتصادی امداد مشروط طور پر دیں تاکہ ہمارے خلاف کیے گئے اقدامات حکومت پاکستان واپس لے لے۔‘‘ 30 اپریل 1984ء کو قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر قادیانی آرڈیننس مجریه 1984ء کی خلاف ورزی پر مقدمات کے خوف سے بھاگ کر لندن چلے گئے۔ رات کو لندن میں انھوں نے مرکزی قادیانی عبادت گاہ ’’بیت الفضل‘‘ سے ملحقه محمود ہال میں غصه سے بھرپور جوشیلی تقریر کی۔ اس موقع پر ڈاکٹرسلام مرزا طاہر کے سامنے صف اوّل میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مرزا طاہر نے اپنے خطاب میں صدارتی آرڈیننس نمبر 20 مجریه 1984ء (جس کی رو سے قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال سے روک دیا گیا تھا) پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے حقوق انسانی کے منافی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ احمدیوں کی بددعا سے عنقریب پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ مزید برآں انھوں نے امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک سے اپیل کی کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر پاکستان کی تمام اقتصادی امداد بند کر دیں۔

اپنے خطاب کے آخر میں مرزا طاہر نے ڈاکٹر سلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’صرف آپ میرے دفتر میں ملاقات کے لیے تشریف لائیں۔ آپ سے چند ضروری باتیں کرنا ہیں۔‘‘ ’’فرزند احمدیت‘‘ ڈاکٹر سلام نے اسے اپنی سعادت سمجھا اور ملاقات کے لیے حاضر ہو گئے۔ اس ملاقات میں مرزا طاہر نے ڈاکٹر سلام کو ہدایت کی کہ وہ صدر ضیاء الحق سے ملاقات کریں اور انھیں آرڈیننس واپس لینے کے لیے کہیں۔ لہٰذا ڈاکٹر سلام نے جنرل محمد ضیاء الحق سے پریذیڈنٹ ہاؤس میں ملاقات کی اور انھیں جماعت احمدیه کے جذبات سے آگاہ کیا۔ صدر ضیاء الحق نے بڑے تحمل اور توجہ سے انھیں سنا۔ جواب میں صدر ضیاء الحق اٹھے اور الماری سے قادیانی قرآن ’’تذکرہ‘‘ مجموعه وحی مقدس و الہامات اٹھا لائے اور کہا کہ یہ آپ کا قرآن ہے اور دیکھیں اس میں کس طرح قرآن مجید کی آیات میں تحریف کی ہے اور ایک نشان زدہ صفحہ کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا۔ اس صفحہ پر مندرجہ ذیل آیت درج تھی: انا انزلنا قریبا من القادیان ترجمہ: ’’(اے مرزا قادیانی) یقینا ہم نے قرآن کو قادیان (گورداسپور بھارت) کے قریب نازل کیا۔‘‘ (نعوذ باللہ) (تذکرہ مجموعہ وحی مقدس و الہامات طبع چہارم ص 59 از مرزا قادیانی) اور مزید لکھا ہے کہ یہ تمام قرآن مرزا قادیانی پر دوبارہ نازل ہوا ہے۔ ضیاء الحق نے کہا کہ یہ بات مجھ سمیت ہر مسلمان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور وہ بے حد شرمندہ ہوئے اور کھسیانے ہو کر بات کو ٹالتے ہوئے پھر حاضر ہونے کا کہا اور اجازت لے کر رخصت ہو گيا۔

یہ بات اہل علم سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اسرائیل کے معروف یہودی سائنس دان <یوول نیمان="نیمان"> کے ڈاکٹر سلام سے دیرینہ تعلقات ہیں ۔ یہ وہی یوول نیمان ہیں جن کی سفارش پر ؛تل ابیب؛ کے میئر نے وہاں کے نیشنل میوزیم میں ڈاکٹر سلام کا مجسمه یادگار کے طور پر رکھا۔ معتبر ذرائع کے مطابق بھارت نے اپنے ایٹمی دھماکے اسی یہودی سائنس دان کے مشورے سے کیے جو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ <یوول نیمان="نیمان"> امریکه میں بیٹھ کر براہ راست اسرائیل کی مفادات کی نگرانی کرتا ہے۔ اسرائیل کے لیے پہلا اٹیم بم بنانے کا اعزاز بھی اسی شخص کو حاصل ہے۔ پاکستان اس کی ہٹ لسٹ پر ہے اور اس سلسلے میں وہ بھارت کے کئی خفیه دورے بھی کر چکا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ امریکی کانگریس کی بہت بڑی لابی اس وقت <یوول نیمان="نیمان">کے لیے نوبیل پرائز کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اس کی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد امت مسلمة کو نقصان پہنچانا ہے اور وہ اپنے نصب العین کے حصول کے لیے ہر وقت مسلمانوں کے خلاف کسی نہ کسی سازش میں مصروف رہتا ہے۔ دنیا اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تل ابیب یونیورسٹی اسرائیل کے شعبہ فزکس کا سربراہ بھی ہے۔ اس سے پہلے یہ شخص اسرائیل کا وزیر تعلیم و سائنس و ٹیکنالوجی بھی رہا۔ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر اس کی خاص نظر ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان ان کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکتا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر سلام کے پاکستان دشمن بھارتی لیڈر نہرو کے ساتھ بڑے دوستانه مراسم تھے۔ ایک دفعه نہرو نے ڈاکٹرسلام کو آفر کی تھی کہ آپ انڈیا آ جائیں، ہم آپ کو آپ کی مرضی کے مطابق ادارہ بنا کر دیں گے۔ اس پر ڈاکٹرسلام نے کہا کہ ’’وہ اس سلسلہ میں اٹلی کی حکومت سے وعدہ کر چکے ہیں لہٰذا میں معذرت چاہتا ہوں لیکن آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے وہاں کے سائنس دانوں سے تعاون کروں گا۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر سلام کی بھارتی ’’خدمات‘‘ کے عوض ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ برائے بنیادی تحقیق بمبئی، انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی نئی دہلی اور انڈیا اکیڈمی آف سائنس بنگلور کے منتخب رکن رہے۔ گورونانک یونیورسٹی امرتسر (بھارت)، نہرو یورنیورسٹی بنارس (بھارت)، پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ (بھارت) نے انہیں ’’ڈاکٹر آف سائنس‘‘ کی اعزازی ڈگریاں دیں۔ کلکته یونیورسٹی نے انہیں سر دیو پرشاد سردادھیکاری گولڈ میڈل اور انڈیشن فزکس ایسوسی ایشن نے شری آرڈی برلا ایوارڈ دیا۔

بھارتی صحافی جگجیت سنگھ کے ساتھ ڈاکٹر سلام کے ذاتی تعلقات تھے۔ ڈاکٹرسلام جب بھی بھارت جاتے، جگجیت سنگھ ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ میں ان پر بھر پور فیچر شائع کرتے۔ انہوں نے ڈاکٹر سلام پر lsalam a Biography” (سن اشاعت 1992ئ) کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کا ایک باب “The Ahmaddiya Jammat” ہے جس میں جگجیت سنگھ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے والے 7ستمبر 1974ء کو پارلیمنٹ کے متفقه فیصله اور 1984ء کے صدارتی آرڈنینس جس کے تحت قادیانی شعائر اسلامی استعمال نہیں کر سکتے، کی سخت مذمت کی اور قادیانیوں کو ’’مظلوم‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف اقدامات کو حقوق انسانی کے منافی قرار دیا۔ ڈاکٹرسلام کے ایک اور بے تکلف دوست جے سی پولنگ ہارو (J.C.Polking Horue) جو کیمبرج میں ڈاکٹر سام کے شاگرد تھے اور بعد میں کیتھولک بشپ بن گئے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کی درخواست پر ہر سال قادیانی جماعت کے سالانه جلسوں میں شرکت کرتے رہے۔ یاد رہے یہ وہی پولنگ ہارو ہیں جو پاکستان میں قانون توہین رسالت 295/C کے خلاف امریکہ میں عیسائی (نصرانى)جلوسوں کی قیادت کرتے ہیں۔ جن میں قادیانیوں کی بھی کثیر تعداد شامل ہوتی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جب قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر نے جولائی 1994ء میں بیت الفضل لندن میں توہین رسالت کی سزا کے خلاف تقریر کی تو مسٹر پولنگ ہارو اپنے کئی بشپ دوستوں کے ہمراہ وہاں موجود تھے۔

ڈاکٹر سام (عبدالسلام) مسلمانوں کو کیا سمجھتے تھے؟ اس سلسلہ میں معروف صحافی و کالم نویس جناب تنویر قیصر شاہد نے ایک دلچسپ مگر فکر انگیز واقعه اپنی ذاتی ملاقات میں راقم کو بتایا۔ یه واقعه انہی کی زبانی سنئے اور قادیانی اخلاق پر غور کیجیے: ’’ایک دفعہ لندن میں قیام کے دوران بی بی سی لندن کی طرف سے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ بطور معاون، ڈاکٹر سلام کے گھر ان کا تفصیلی انٹرویو کرنے گیا۔ میرے دوست نے ڈاکٹر سام کا خاصا طویل انٹرویو کیا اور ڈاکٹر صاحب نے بھی بڑی تفصیل کے ساتھ جوابات دیئے۔ انٹرویو کے دوران میں بالکل خاموش، پوری دلچسپی کے ساتھ سوال و جواب سنتا رہا۔ دوران انٹرویو انہوں نے ملازم کو کھانا دسترخوان پر لگانے کا حکم دیا۔ انٹرویو کے تقریباً آخر میں ڈاکٹرسلام مجھ سے مخاطب ہوا اور کہا که آپ معاون کے طور پر تشریف لائے ہیں مگر آپ نے کوئی سوال نہیں کیا۔ میری خواہش ہے که آپ بھی کوئی سوال کریں۔ ان کے اصرار پر میں نے بڑی عاجزی سے کہا که چونکه میرا دوست آپ سے بڑاجامع انٹرویو کر رہا ہے اور میں اس میں کوئی تشنگی محسوس نہیں کر رہا، ویسے بھی میں، آپ کی شخصیت اور آپ کے کام کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ میں نے آپ کے متعلق خاصا پڑھا بھی ہے۔ جھنگ سے لے کر اٹلی تک آپ کی تمام سرگرمیاں میری نظرں سے گزرتی رہی ہیں لیکن پھر بھی ایک خاص مصلحت کے تحت میں اس سلسله میں کوئی سوال کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ اس پر ڈاکٹر سام فخریه انداز میں مسکرايا اور ایک مرتبه اپنے علمی گھمنڈ اور غرور سے مجھے ’’مفتوح‘‘ سمجھتے ہوئے ’’فاتح‘‘ کے انداز میں ’’حملہ آور‘‘ ہوتے ہوئے کہا کہ ’’نہیں… آپ ضرور سوال کریں، مجھے بہت خوشی ہو گی۔‘‘ بالآخر ڈاکٹر صاحب کے پرزور اصرار پر میں نے انہیں کہا کہ آپ وعدہ فرمائیں کہ آپ کسی تفصیل میں گئے بغیر میرے سوال کا دوٹوک الفاظ ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ میں جواب دیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے وعدہ فرمایا کہ ’’ٹھیک! بالکل ایسا ہی ہو گا؟‘‘ میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ چونکہ آپ کا تعلق قادیانی جماعت سے ہے، جو نا صرف حضور نبی کریم عليه و آله الصلوة و السلام کی بحیثیت آخری نبی منکر ہے، بلکه حضور نبی کریم عليه وآله الصلوة و السلام کے بعد آپ لوگ (قادیان، بھارت کے ایک مخبوط الحواس شخص) مرزا غلام قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔ جبکه مسلمان مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ آپ بتائیں که مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننے پر آپ مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟ اس پر ڈاکٹر عبدالسام بغیر کسی توقف کے بولے که ’’میں ہر اس شخص کو کافر سمجھتا ہوں جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا۔‘‘ ڈاکٹر عبدالسام کے اس جواب میں، میں نے انہیں کہا کہ مجھے مزید کوئی سوال نہیں کرنا۔ اس موقع پر انہوں نے اخلاق سے گری ہوئی ایک عجیب حرکت کی که اپنے ملازم کو بلا کر دستر خوان سے کھانا اٹھوا دیا۔ پھر ڈاکٹر صاحب کو غصے میں دیکھ کر ہم دونوں دوست ان سے اجازت لے کر رخصت ہوئے۔‘‘

معروف صحافی جناب زاہد ملک اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’ڈاکٹر عبدالقدیر اور اسلامی بم‘‘ کے صفحہ 23 پر ڈاکٹر عبدالسام کی پاکستان دشمنی کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’معزز قارئین کو اس انتہائی افسوس ناک بلکه شرمناک حقیقت سے باخبر کرنے کے لیے کہ اعلیٰ عہدوں پر متمکن بعض پاکستانی کس طرح غیر ممالک کے اشارے پر کہوٹه بلکه پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں، میں صرف ایک اور واقعه کا ذکر کروں گا اور اس واقعه کے علاوہ مزید ایسے واقعات کا ذکر نہیں کروں گا۔ اس لیے کہ ایسا کرنے میں کئی ایک قباحتیں ہیں لیکن میں نے ان سنسنی خیز واقعات کو تاریخ وار درج کر کے اس انتہائی اہم قومی دستاویز کی دو نقلیں پاکستان کے باہر دو مختلف شخصیات کے پاس بطور امانت درج کرا دی ہیں اور اس کی اشاعت کب اور کیسے ہو، کے متعلق بھی ضروری ہدایات دے دی ہیں۔ ‘‘ یہ واقعہ نیاز اے نائیک سیکرٹری وزارت خارجہ نے مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر کا ذاتی دوست سمجھتے ہوئے سنایا تھا۔ انہوں نے بتلایا کہ وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خاں نے انہیں یہ واقعه ان الفاظ میں سنایا: ’’اپنے ایک امریکی دورے کے دوران سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں، میں بعض اعلیٰ امریکی افسران سے باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کر رہا تھا کہ دوران گفتگو امریکیوں نے حسب معمول پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ذکر شروع کر دیا اور دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے اس حوالے سے اپنی پیش رفت فوراً بند نہ کی تو امریکی انتظامیه کے لیے پاکستان کی امداد جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک سینئر یہودی افسر نے کہا ’’نہ صرف یہ بلکه پاکستان کو اس کے سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ جب ان کی گرم سرد باتیں اور دھمکیاں سننے کے بعد میں نے کہا کہ آپ کا یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستانی ایٹمی توانائی کے حصول کے علاوہ کسی اور قسم کے ایٹمی پروگرام میں دلچسپی رکھتا ہے تو سی آئی اے کے ایک افسر نے جو اسی اجلاس میں موجود تھا، کہا کہ آپ ہمارے دعویٰ کو نہیں جھٹلا سکتے۔ ہمارے پاس آپ کے ایٹمی پروگرام کی تمام تر تفصیلات موجود ہیں بلکه آپ کے اسلامی بم کا ماڈل بھی موجود ہے۔ یہ کہہ کر سی آئی اے کے افسر نے قدرے غصے بلکه ناقابل برداشت بدتمیزی کے انداز میں کہا کہ آئیے میرے ساتھ بازو والے کمرے میں۔ میں آپ کو بتائوں آپ کا اسلامی بم کیا ہے؟ یہ کہہ کر وہ اٹھا۔ دوسرے امریکی افسر بھی اٹھ بیٹھے۔ میں بھی اٹھ بیٹھا۔ ہم سب اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ سی آئی اے کا یہ افسر، ہمیں دوسرے کمرے میں کیوں لے کر جا رہا ہے اور وہاں جا کر یہ کیا کرنے والا ہے۔ اتنے میں ہم سب ایک ملحقه کمرے میں داخل ہو گئے۔ سی آئی اے کا افسر تیزی سے قدم اٹھا رہا تھا۔ ہم اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ کمرے کے آخر میں جا کر اس نے بڑے غصے کے عالم میں اپنے ہاتھ سے ایک پردہ کو سرکایا تو سامنے میز پر کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا ماڈل رکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی دوسری طرف ایک سٹینڈ پر فٹ بال نما کوئی گول سی چیز رکھی ہوئی تھی۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا ’’یہ ہے آپ کا اسلامی بم۔ اب بولو تم کیا کہتے ہو۔ کیا تم اب بھی اسلامی بم کی موجودگی سے انکار کرتے ہو؟‘‘ میں نے کہا میں فنی اور تکینکی امور سے نابلد ہوں۔ میں یہ بتانے یا پہچان کرنے سے قاصر ہوں کہ یہ فٹ بال قسم کا گولہ کیا چیز ہے اور یہ کس چیز کا ماڈل ہے۔ لیکن اگر آپ لوگ بضد ہیں کہ یہ اسلامی بم ہے تو ہو گا، میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا کہ آپ لوگ تردید نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ آج کی میٹنگ ختم کی جاتی ہے۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر کی طرف نکل گیا اور ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میرا سر چکرا رہا تھا کہ یہ کیا معاملہ هے؟ جب ہم کاریڈور سے ہوتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے تو میں نے غیر ارادی طور پر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر عبدالسام ایک دوسرے کمرے سے نکل کر اس کمرے میں داخل ہو رہا تھا، جس میں بقول سی آئی اے کے، اس کے اسلامی بم کا ماڈل پڑا ہوا تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا، اچھا! تو یہ بات ہے‘‘۔

ڈاکٹر عبدالسام نے تمام تر مراعات حاصل کرنے کے باوجود اپنی پوری زندگی کی ’’تحقیق‘‘ کے نتیجے میں میں عالم اسلام بالخصوص پاکستان کو کیا تحفه دیا؟ ان کی کون سی ایجاد یا دریافت ہے، جس نے ہمارا سر فخر سے بلند کیا؟ ان کا کون سا کارنامہ ہے، جس سے پاکستان کو کوئی فائدہ پہنچا؟ ان کی کون سی خدمت ہے، جس سے اہل پاکستان کے مسائل میں ذرا سی بھی کمی واقع ہوئی؟ انہوں نے کون سا ایسا تیر مارا، جس پر انہیں نوبل انعام سے نوازا سوالات آج تک تشنہ جواب ھے۔