کیا آپ جانتے ہیں؟

ایک مشہور سنی صوفی عالم دین (علیہ الرحمہ) نے ۱۳۹۰ھ میں حج و زیارت کی سعادت حاصل کی۔ مدینہ منورہ (زادہا الله شرفًا و تعظیماً) میں پھسل کر گر گئے اور داہنے ہاتھ کی کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ درد زیادہ ہوا تو کلائی کو بوسہ دے کر کہا:

*”اے مدینے کے درد! تیری جگہ میرے دل میں ہے تو تو مجھے یار کے دروازے سے ملا ہے۔“*

ایکسرے لیا تو ہڈی کے دو ٹکڑے آئے مگر انہوں نے علاج نہیں کرایا بلکہ روضۂ مبارکہ پر حاضر ہوئے اور ادبا کھڑے ہو کر عرض کیا

*”یارسول اللہ ﷺ! میرا ہاتھ ٹوٹ گیا ہے، اے عبدالله بن عتیک (رضی اللہ عنہ) کی ٹوٹی پنڈلی جوڑنے والے! اے معاذ بن عفراء (رضی اللہ عنہ) کا ٹوٹا بازو جوڑ دینے والے! میرا ٹوٹا ہاتھ جوڑ دیجیئے۔“*

پھر آہستہ آہستہ ہاتھ کام کرنے لگا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ ہڈی اب تک ٹوٹی ہوئی ہے اور یہ خاص کرشمہ ہوا ہے کہ یہ ہاتھ طبی لحاظ سے حرکت نہیں کر سکتا۔ سبحان اللہ! یہی نہیں، پھر ان عالم دین (علیہ الرحمہ) نے اسی ٹوٹے ہاتھ سے قرآن کریم کی ۲۰ جلدوں میں تفسیر بھی لکھی۔

ان عظیم عالم دین کا اسم گرامی حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی (علیہ الرحمہ) ہے۔

بحوالہ: تفسیر نعیمی، جلد ۹، صفحہ ۳۸۸