بربادی کیوں آتی ہے 

زوجین میں بات بات میں جھگڑاہونا، شکایتوں کا دروازہ کھولنا ،ان میں برداشت اور درگزر کی صلاحیت نہ ہونا،گھر آنے والی اولاد کا بے ادب اور بد تہذیب ہونا،انکا خالص دنیا کا بنا رہنا،اپنی جہالت اور نادانی کا نسلوں تک منتقل ہونا ،گھر میں سکون و چین نہ ہونا،دلوں میں کدورتوں کا آجانا،یہ سب شادی سے پہلے حقوق کی تعلیم سے ناآشنا ہونے کاانجام ہے ،نکاح کا شوق تو سب کو ہوتا ہے مگر اس لمحوں کے ایجاب و قبول میں کتنے فرائض سمائے ہیں انہیں جاننے کا خیال تک دل میں نہیں آتا،صرف اس بات کا شوق ہوتا ہے کہ کہ ہم ابتک کنوارے تھے اب ہماری شادی ہونے جا رہی ہے،اب کے بعد ہمیں تنہائیوں کی صعوبتوں سے دو چار نہیں ہونا پڑے گا،مگر اس رسمی نکاح کے بعد حقیقی نکاح کے بے شمار شرعی ذمہ داریاں عائد ہونے والی ہیں اسکا کسی کو تصور تک نہیں ہوتا ہے،حالانکہ اب تک وہ آزاد تھا ذمہ داریوں کا دور تو اب اسکے لئے شروع ہونے جا رہا ہے،اب تک مطلق العنان تھا لگام کے دور سے تو اب گزرنا ہے،ان شادی کے بعد کی خطرناک گھاٹیوں کو سلامتی سے عبور کرنے کے کیا ذرائع ہیں اس پر نظر تک نہیں ہوتی ہے،اس لئے شادی کے نام کے بعد غمی سے نپٹنا پڑتا ہے،معلوم نہیں یہ ایجاب و قبول اپنے اصلی معنیٰ میں باقی رہے گا کہ بہت جلد اس پر طلاق کا بم برسے گا ؟محبتوں سے بنے ہوئے رشتہ کو دیرپا عداوتوں میں تبدیل کرنا اس سے بہتر ہے کہ جتنا نکاح اور شادی سے انس سے اتنا بعد کے حقوق کی ادائیگی کے علم کا پیدا کر لیا جائے تو کام بنا ہی رہے بگڑنے نہ پائے،بربادیاں نہ دیکھو کہاں سے آرہی ہیں اور کیوں آرہی ہیں اسکا سراغ علم نبی سے آراستہ ہو کر بند کرلو