🍁حیاتِ ملحد اور اتمام حجت🍁

10/12/2018

✍️فقیرالمصطفی

بسا اوقات غور و تفکر کی وادیوں کی سیر کرتے ہوئے کسی ایسے سوال سے ملاقات ہو جاتی ہے جو بڑی شدت سے جواب کا منتظر ہوتا ہے، ایسا ہی ایک سوال دوران تخیل وارد ہوا کہ ہمیں تو اسلام کی دولت مسلمان گھرانے میں پیدا ہو جانے کی وجہ سے میسر آ گئی ، البتہ وہ کفار جو پیدا ہی کافروں کے گھروں میں ہوئے ،جن کی نشو نما ہی ملحدانہ ماحول میں ہوئی، انہیں تو یہ دولتِ اسلام نصیب نہ ہوسکی، انہیں تو کسی نے خدا کے وجود،اسکی یکتائی وغیرہ کی خبر نہیں دی گئی، تو کیا یہ ان کے حق میں عذر نہیں؟

بہت دفع تو ایسا سوال یا وسوسہ ذہن میں آتے ہی فورا جھٹک دیتا تھا ، مگر اس کے باوجود یہ سوال پرانی بھلا دی گئی تلخ یاد کی طرح ذہن کے کسی کونے میں موجود تھا، مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس سوال کا جواب خود ہی مجھ پر منکشف ہو گیا۔۔۔

ہوا کچھ یوں کہ کچھ روز قبل فکر و نظر کے باغات سے حکمت کے پھول چنتے ہوئے اچانک ایک جملے کا ورود ہوا۔ کہ

’’یہ زندگی ہم پر بار بار اتمام حجت کرتی ہے‘‘

جی ہاں یہ جملہ ہی اس سوال کا جواب ہے جس کا ذکر میں نے اوپر کیا۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ اگر آپ نے کوئی گناہ یا غلط فعل سر انجام دیا ہے تو آپ کی زندگی میں ایسے کئی مواقع آتے ہیں جہاں آپ کو اس بات کا شدید احساس ہوتا کہ میں نے جو فلاں کام کیا تھا وہ غلط تھا، مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، در حقیقت یہ احساس وہ اتمام حجت ہوتا ہے جو یہ زندگی آپ پر کر رہی ہوتی ہے اور ایسا ایک دفع نہیں کئی بار ہوتا ہے،یہ زندگی ہم پر بار بار حجت تام کرتی ہے، ،،،،

تو جس طرح مسلمان پر یہ زندگی اس کے گناہوں اور غلط افعال کے معاملے میں اتمام حجت کرتی اور کئی مواقع پر پیش آنے والے واقعات کے ذریعے سے اسے اس کے غلط ہونے کا احساس دلاتی ہے اسی طرح ملحد پر بھی یہ زندگی اتمام حجت کرتی اور اسے اس کے غلط اعتقادات اور باطل نظریات کے معاملے میں غلطی پر ہونے کا احساس دلاتی ہے ۔

زندگی ملحد کو آسمان و زمین اور کائنات کی خوبصورتی،نظم اور حسنِ ترتیب دکھا کر کسی خالق کی تخلیق کا شاہکار ہونے کا سوال اس کے قلب میں القاء کر کے اس پر بار بار حجت تام کرتے ہوئے اس سے پوچھتی ہے کہ کیا یہ سب بغیر کسی خالق کے پیدا کیے خود بخود معرض وجود میں آسکتے تھے؟ ،

بہت دفعہ زندگی ملحد کو مشکلات میں مبتلا کر کے اسے ایسے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں مدد کے ظاہری اسباب منتفی ہوتے ہیں اور بحیثیت انسان اس میں مدد کا تقاضا موجود ہونے کے سبب اس کے دل میں کسی غیبی قوت سے مدد مانگنے کا احساس پیدا کر کے اس سے پوچھتی ہے کہ آخر کوئی خدا ضرور ہے جس کے انکار کے باوجود تیرے دل میں اس سے مدد طلب کرنے کا احساس اضطراری طور پر پیدا ہو رہا ہے۔

پس جب انسان اتمام حجت کر دیے جانے کے باوجود اپنی غلطی پر مصر ہوتا ہے تو وہ قابل عتاب ہے اور اس کا عذر ہر گز قبول کیے جانے کے لائق نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ملحدِ عاقل کیلیے انکار خدا کی کوئی گنجائش نہیں ۔