ہر گذرتا لمحہ موت سے قریب اور دنیوی آسائشوں سے دور کر رہا ہے کتنے اپنے اعزاء و اقرباء دوہزار انیس میں ہم سے جدا ہو کر شہر خموشاں کے مسافر بن گیے آنکھیں بند کیں اور تھوڑی دیر کے لیے سوچا تو مختلف چہرے نگاہوں میں گردش کرنے لگے جو ٢٠١٩ء میں لقمہ ء اجل بن کر ہم سے بہت دور چلے گیے میرا سگا تایہ زاد بھائی میری دو بھانجیاں میرے مکان سے بالکل متصل حاجی امجد صاحب زمانہ ء طالب علمی کا ساتھی محمد نبی حسن، تنظیم رضائے الٰہی کے بے لوث خدمت گار و خزانچی محترم حاجی اسلم صاحب وغیرہ مرحومین،،

ہمارے کتنے ہم سے جدا ہوگیے گذشتہ چند دنوں میں لگ بھگ تیس افراد ملت کے لیے جام شہادت نوش کرگیے،

نیا سَال در اصل احتساب نفس کا ایک موقع ہوتا ہے کہ جو سال ابھی ابھی رخصت ہوا ہے اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا ہم نے اپنی کتاب حیات کے کتنے اوراق حسنات کے حسن سے سنوارے اور کتنے اوراق گناہوں کی نحوست سے سیاہ کر ڈالے

👈 اب جو سال نو ہماری زندگی کے دروازے پر دستک دے رہا ہے ہمیں اس سال کے ایک ایک لمحے کی قدر کرنا ہے،

نہ جانے ہم میں سے کتنے احباب کے لیے یہ سال نو ” آخری سال” ہوگا اور اس کی داستان زندگی میں ٢٠٢١ء کی آمد نہ ہوسکے کہ وہ اپنی من جانب اللہ متعین مدت حیات اسی سال مکمل کرچکا ہوگا ہائے افسوس ہمیں غفلتوں نے اپنے دبیز اندھیروں میں اس گم کردیا کہ ہم اندھیروں کو اجالا اور شہوات نفسانی کی پیروی کو کامیابی گرداننے لگے” وکذالک زین للمسرفین ماکانوا یعملون”

دنیا والوں کے عیش و طرب و نیے سال پر ناچ گانے دیکھ اے دین حنیف سے وابستہ ملت آپ محسن کائنات کا اسوہ ء حسنہ مت چھوڑ دینا یاد رکھیں ہماری ساری عزتیں انہیں کے در اقدس سے وابستہ ہیں ع ہمیں بھیک مانگتے کو ترا آستاں بتایا،،

ملت اسلامیہ پوری دنیا میں درد و کرب سے ہمکنار ہے بہت سے صاحبانِ ثروت ہیں مگر جذبہ ء ایثار کی دولت سے خالی ہیں الا ماشاء اللہ صاحبان اقتدار ہیں مگر عیش و عشرت میں اپنے ایمانی بھائیوں کو بھلا بیٹھے ہیں ظالم حکمرانوں سے یہ تک نہیں پوچھ پاتے کہ تم ہمارے مسلمان بھائیوں کو کیوں پریشان کر رہے ہو آخر کیا جرم ہے ان کا !!!!

ایک وہ حکمران تھا جسے حسنین کریمین کے نانا جان کی چشمان مازاغ نے فاروق بنایا تھا اللہ اللہ وہ کیسا حکمران کہ شب دیجور کے سناٹوں میں نظام عالم کا طلاطم خاموش ہوتا فضا کے بند دریجے سکوت شب کا پیغام دے رہے ہوتے اور وہ مدینہ کے گلی کوچوں میں گھوم رہا ہوتا کہ کوئی بھوکا پیاسا تو نہیں سو رہا ہے کسی کو کوئی پریشانی تو نہیں ہے تقریباً ٢٣ لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والا حکمران ایسا سادہ اور درویش کہ لباس بھی کئ مقامات پر پیوند شدہ ایک بکری کا بچہ بھی ناحق مارا جائے یہ بھی اسے گوارہ نہ تھا ایک وہ حکمران تھے جنہیں خلفائے راشدین کے مبارک و مسعود لقب سے یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے پوری دنیا کو نظام حکومت کے اسرار و رموز سکھائے ایک آج کل کے تاناشاہ ہٹلر شاہی سوچ رکھنے والے فراعنہ ہیں جنہیں نہ انسانیت کا پاس و لحاظ ہے نہ ہی کسی طرح کی کوئی شرم و حیاء ظلم و ستم جور و جفا کے جس قدر تیر ان کی کمانوں میں ہیں سب آزمائے جا رہے ہیں مظلوموں کے سینوں پر اسی کشمکش میں ٢٠١٩ء ہم سے رخصت ہو کر تاریخ کا ایک باب بن گیا ہے؛؛؛؛

٢٠٢٠ء کی شروعات ہوچکی ہے اللہ تعالیٰ عالم انسانیت کے لیے خصوصاً عالم اسلام کے لیے اس سال کو بہتر فرمائے ملت اسلامیہ لہولہان ہے ہر چہار جانب پانی کی طرح ہمارا خون بہ رہا ہے

میرے مولی ہمارے سینیوں میں جذبہ ء صادق پیدا فرما کہ ہم طاغوت کی متکبرانہ گردنوں کو مروڑ سکیں وماتوفیقی الا باللہ حسبنا اللہ نعم الوکیل نعم المولى و نعم النصر ؛؛؛؛

ایک اینٹ اور گر گئی دیوار حیات سے،

نادان کہ رہے ہیں نیا سال مبارک

# توصیف رضا مصباحی سنبھلی #