أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاكۡتُبۡ لَـنَا فِىۡ هٰذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً وَّفِى الۡاٰخِرَةِ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ‌ؕ قَالَ عَذَابِىۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ‌ ۚ وَرَحۡمَتِىۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَىۡءٍ‌ ؕ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ دے اور آخرت میں ‘ بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کیا ہے ‘ فرمایا میں اپنا عذاب تو جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت ہر چیز پر محیط ہے تو عنقریب میں اس (دنیا اور آخرت کی بھلائی) کو ان لوگوں کے لیے لکھ دو گا جو گناہوں سے بچیں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ دے اور آخرت میں ‘ بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کیا ہے ‘ فرمایا میں اپنا عذاب تو جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت ہر چیز پر محیط ہے تو عنقریب میں اس (دنیا اور آخرت کی بھلائی) کو ان لوگوں کے لیے لکھ دو گا جو گناہوں سے بچیں گے اور زکوٰ ۃ دیں گے اور ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے۔ (الاعراف : ١٥٦ )

حضرت موسیٰ نے دنیا اور آخرت کی جس بھلائی کا سوال کیا تھا وہ کیا چیز تھی ؟

اس آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا بقیہ حصہ اور تمتہ ذکر فرمایا ہے۔ دعا میں اصولی طور پر دو چیزیں طلب کی جاتی ہیں مضر چیزوں سے نجات اور مفید چیزوں کا حصول یعنی دفع ضرر اور جلب منفعت۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا میں پہلے یہ کہا کہ ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ دعا کے اس حصہ میں اپنی امت کے لیے ہلاکت اور عذاب سے نجات کو طلب کیا اور دعا کے دوسرے حصہ میں کہا اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ دے اور آخرت میں ‘ اور اس میں جلب منفعت کی اور مفید چیزوں کو طلب کیا اور دنیا اور آخرت کی خیر اور حسنہ کو طلب کاے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس آیت میں تلقین فرمائی ہے :

ومنھم من یقول ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ (البقرہ : ٢٠١)

اور ان میں سے بعض یہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں (بھی) بھلائی عطا فرما۔

دنیا کی بھلائی کیا ہے اور آخرت کی بھلائی کیا ہے ؟ علامہ ابوالحیان اندلسی متوفی ٢٥٤ ھ نے لکھا ہے ” دنیا کی بھلائی سے مراد ہے پاکیزہ حیات اور اعمال صالحہ اور آخرت کی بھلائی سے مراد ہے۔ جنت ‘ اللہ تعالیٰ کا دیدار اور دنیا کی نیکیوں پر ثواب “ اور زیادہ عمدہ بات یہ ہے کہ دنیا کی بھلائی سے مراد نعمت اور عبادت ہے اور آخرت کی بھلائی سے مراد جنت ہے اور اس کے علاوہ اور کیا بھلائی ہوسکتی ہے ! (البحرالمحیط ج ٥‘ ص ١٩٠) علامہ بیضادی متوفی ٢٨٦ ھ نے لکھا ہے ” دنیا کی بھلائی سے مراد اچھی زندگی اور عبادت کی توفیق ہے اور آخرت کی ھلائی سے مراد جنت ہے “۔ (الکازرونی مع الیضاوی ج ٣‘ ص ٦٤) علامہ ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ نے لکھا ہے دنیا کی بھلائی سے مراد اعمال صالحہ ہیں اور آخرت کی بھلائی سے مراد گناہوں کی بخشش ہے۔ (جامع البیان جز ٩‘ ص ١٠٥) علامہ ابن جوزی متوفی ٥٩٧ ھ نے لکھا ہے دنیا کی بھلائی سے مراد اعمال صالحہ ہیں اور آخرت کی بھلائی سے مراد مغفرت اور جنت ہے۔ علامہ قرطبی متوفی ٥٩٧ ھ نے لکھا ہے دنیا کی بھلائی سے مراد اعمال صالحہ ہیں اور آخرت کی بھلائی سے مراد اس کی جزا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٧‘ ص ١٥٧) باقی مفسرین نے بھی تقریبا اسی طرح لکھا ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو یہ دعا کی تھی کہ دنیا اور آخرت کی بھلائی لکھ دے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں یہ بھلائی ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو رسول امی کی پیروی کریں گے جن کا ذکر تو رات اور انجیل میں ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو دنیا اور آخرت کی بھلائی مانگی تھی وہ اللہ تعالیٰ نے سید محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کی عطا کردی۔

امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم اپنی سندوں کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض)  بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے جو سوال کیا تھا کہ ہمارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی لکھ دے وہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لے منظور نہیں کیا اور فرمایا کہ یہ میں (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کو عطا کروں گا۔(جامع البیان جز ٩‘ ص ١٠٩‘ تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٥‘ ص ١٥٨٠)

اب یہاں پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کی بھلائی کی جو تفسیر علامہ ابو الحیان اندلسی ‘ علامہ بیجاوی ‘ علامہ ابن جریر اور علامہ قرطبی وغیرہ ہم نے کی ہے کہ دنیا کی بھلائی سے مراد اعمال صالحہ ہیں اور اخرت کی بھلائی سے مراد جنت ہے ‘ اس میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کی کیا خصوصیت ہے۔ دیگر انبیاء (علیہم السلام) کی امتیں بھی اعمال صالحہ کریں گی اور جنت میں جائیں گی جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے :

حضرت بریدہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی ان میں سے اسی صفیں اس امت کی ہوں گی اور چالیس صفیں باقی امتوں کی ہوں گی۔

(اسنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥٥٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٨٩‘ مسند احمد ج ٥‘ ص ٣٤٧‘ سنن الداری ج ٢‘ رقم الحدیث ٢٨٣٥‘ المسدرک ج ا ‘ ص ٨٢‘ مشکوۃ رقم الحدیث : ٥٩٤٤‘ کتاب الذہدلابن المبارک رقم الحدیث : ١٥٧٢‘ کنزالعمال رقم الحدیث ٣٤٥١٣‘ کامل ابن عدی ج ٣‘ ص ٨٥٥‘ ج ٤‘ ص ١٤٢٠‘ مجمع الزوائد ج ١٠‘ ص ٧٠‘ ٤٠٣) ۔

اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس آیت میں دنیا کی بھلائی سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں احکام شرعیہ آسان ہوں۔ کیونکہ بنو اسرائیل پر بہت مشکل احکام تھے۔ ان کی توبہ یہ تھی کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کردیں۔ ان کو تیمم کی سہولت حاصل نہیں تھی۔ مسجد کے سوا کسی اور جگہ نماز پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ مال غنیمت حالال نہیں تھا ‘ قربانی کو کھانے کی اجازت نہیں تھی۔ کپڑے یا بدن پر جس جگہ نجاست لگ جائے اس کا کاٹنا پڑتا تھا۔ گنہ گار اعضا کو کاٹنا ضروری تھا ‘ قتل خطا اور قتل محمد عمد میں قصاص لازمی تھا دیت کی رخصت نہ تھی۔ ہفتہ کے دن شکار کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ روزہ کا دورانیہ رات اور دن کو محیط تھا اور بہت سخت احکام تھے ‘ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ چاہا کہ دنیا میں ان کے لیے احکام شرعیہ آسان ہوجائیں۔ یہ دنیا کی بھلائی تھی اور آخرت کی بھلائی یہ تھی کہ کم عمل پر اللہ تعالیٰ زیادہ اجرعطا فرمائے۔ ان کو ایک نیکی پر ایک ہی اجر ملتا تھا۔ حضرت موسیٰ چاہتے تھے کہ ایک نیکی دس گنا یا سات سو گنا اجر عطا کیا جائے اور اس معنی میں دنیا کی بھلائی اور آخرت کی بھلائی اللہ تعالیٰ نے سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے لیے مخصوص کردی تھی۔ اس لیے یہ بھلائی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کی بجائے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا کردی اس لیے فرمایا میں دنیا کی بھلائی اور آخرت کی بھلائی ان لوگوں کو دوں گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 156