پسندیدہ

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مرد کی نماز مرد کے ساتھ ،اکیلے پڑھنے سے بہتر ہے ۔ اور جو زیادہ ہوں (یعنی جس قدر جماعت میں نمازی زیادہ ہوں )وہ اللہ کو زیادہ پسند ہیں۔

حضرت قباث بن اشیم لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : سرکار ﷺ نے ارشاد فرمایا : دو آدمیوں کی ایک ساتھ نماز ،کہ ان میں سے ایک اپنے ساتھی کی امامت کرے اللہ کے نزدیک ان چار آدمیوں کی نماز سے بہتر ہے جو باری باری پڑھیں ، اور چار آدمیوں کی نماز (جماعت سے) اللہدکے نزدیک ان آٹھ آدمیوں کی نماز سے بہتر ہے جو یکے بعد دیگرے پڑھیں ۔ اور آٹھ آدمیوں کی نماز اس طرح کہ ان میں ایک امام ہو یہ اللہ دکے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ان سو آدمیوں کی نماز سے جو کہ علیٰحدہ علیٰحدہ پڑھیں ۔ (طبرانی )

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! مذکورہ حدیث شریف سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جتنی بڑی جماعت ملے اس میں شریک ہونے کی کوشش کریں تاکہ زیادہ ثواب بھی حاصل ہو اور تاجدار کائنات ﷺ کے فرمان کی روشنی میں بہتری کی سند بھی ملے ۔ البتہّ اس کا خیال رکھنا ہے کہ وہ جماعت غلامان رسول ﷺ کی ہو ۔ اگر امام گستاخ رسول ﷺ ہو اور جماعت کتنی ہی بڑی ہو ہمیں اس کی اقتداء نہیں کرنی ہے ۔ گستاخِ رسول ﷺ کے پیچھے نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ ہم اکیلے ہی پڑھ لیں ۔ اللہ ہم سب کو سنّی امام کے پیچھے جماعت سے نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔