وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَؕ-قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْۚ-وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ(۱۲۷)

اور قوم فرعون کے سردار بولے کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو اس لیے چھوڑتا ہے کہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں (ف۲۲۵) اور موسیٰ تجھے اور تیرے ٹھہرائے ہوئے معبودوں کو چھوڑ دے (ف۲۲۶) بولا اب ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی بیٹیاں زندہ رکھیں گے اور ہم بے شک ان پر غالب ہیں(ف۲۲۷)

(ف225)

یعنی مِصر میں تیری مُخالفت کریں اور وہاں کے باشندوں کا دین بدلیں اور یہ انہوں نے اس لئے کہا تھا کہ ساحِروں کے ساتھ چھ لاکھ آدمی ایمان لے آئے تھے ۔ (مَدارِک)

(ف226)

کہ نہ تیری عبادت کریں نہ تیرے مقرّر کئے ہوئے معبودوں کی ۔ سدی کا قول ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کے لئے بُت بنوا دیئے تھے اور ان کی عبادت کرنے کا حکم دیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تمہارا بھی ربّ ہوں اور ان بُتوں کا بھی ۔ بعض مُفسِّرین نے فرمایا کہ فرعون دَہۡرِی تھا یعنی صانِعِ عالَم کے وجود کا مُنکِر ، اس کا خیال تھا کہ عالَمِ سَفلی کے مُدبِّر کَواکِب ہیں اسی لئے اس نے ستاروں کی صورتوں پر بُت بنوائے تھے ان کی خود بھی عبادت کرتا تھا اور دوسروں کو بھی ان کی عبادت کا حکم دیتا تھا اور اپنے آپ کو مطاع و مَخدُوم زمین کا کہتا تھا اسی لئے ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی” کہتا تھا ۔

(ف227)

قومِ فرعون کے سرداروں نے فرعون سے یہ جو کہا تھا کہ کیا تو موسٰی اور اس کی قوم کو اس لئے چھوڑتا ہے کہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں ، اس سے ان کا مطلب فرعون کو حضرت موسٰی علیہ السلام کے اور آپ کی قوم کے قتل پر اُبھارنا تھا جب انہوں نے ایسا کیا تو موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ان کو نُزولِ عذاب کا خوف دلایا اور فرعون اپنی قوم کی خواہش پر قدرت نہیں رکھتا تھا کیونکہ وہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے معجزے کی قوّت سے مَرعُوب ہو چکا تھا اسی لئے اس نے اپنی قوم سے یہ کہا کہ ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے ، لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے ۔ اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ اس طرح قومِ حضرت موسٰی علیہ السلام کی تعداد گھٹا کر ان کی قوّت کم کریں گے اور عوام میں اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ بھی کہہ دیا کہ ہم بے شک ان پر غالب ہیں لیکن فرعون کے اس قول سے کہ ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے ، بنی اسرائیل میں کچھ پریشانی پیدا ہوگئی اور انہوں نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سے اس کی شکایت کی ، اس کے جواب میں حضرت موسٰی علیہ السلام نے یہ فرمایا ۔ ( جو اس کے بعد آتاہے )

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْاۚ-اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ﳜ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۱۲۸)

موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ کی مدد چاہو (ف۲۲۸)اور صبر کرو (ف۲۲۹) بے شک زمین کا مالک اللہ ہے (ف۲۳۰) اپنے بندوںمیں جسے چاہے وارث بنائے(ف۲۳۱) اور آخر میدان پر ہیزگاروں کے ہاتھ ہے(ف۲۳۲)

(ف228)

وہ کافی ہے ۔

(ف229)

مصیبتوں اور بلاؤں پر اور گھبراؤ نہیں ۔

(ف230)

اور زمینِ مِصر بھی اس میں داخل ہے ۔

(ف231)

یہ فرما کر حضرت موسٰی علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو توقُع دلائی کہ فرعون اور اس کی قوم ہلاک ہوگی اور بنی اسرائیل ان کی زمینوں اور شہروں کے مالک ہوں گے ۔

(ف232)

انہیں کے لئے فَتح و ظَفر ہے اور انہیں کے لئے عاقبتِ محمودہ ۔

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَاؕ-قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠(۱۲۹)

بولے ہم ستائے گئے آپ کے آنے سے پہلے (ف۲۳۳ )اور آپ کے تشریف لانے کے بعد (ف۲۳۴) کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کرے اور اس کی جگہ زمین کا مالک تمہیں بنائے پھر دیکھے کیسے کام کرتے ہو(ف۲۳۵)

(ف233)

کہ فرعون اور فرعونیوں نے طرح طرح کی مصیبتوں میں مُبتلا کر رکھّا تھا اور لڑکوں کو بہت زیادہ قتل کیا تھا ۔

(ف234)

کہ اب وہ پھر ہماری اولاد کے قتل کا ارادہ رکھتا ہے تو ہماری مدد کب ہوگی اور یہ مصیبتیں کب دفع کی جائیں گی ۔

(ف235)

اور کس طرح شکرِ نعمت بجا لاتے ہو ۔